بڑھتی ہوئی انارکی مارشل لاء کی طرف لے جا رہی ہے


سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک تیزی سے انار کی طرف بڑھ رہا ہے، اور حالات سیدھا سادا مارشل لاء کو طرف جا رہے ہیں، اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو پھر ہم ایک ایسی سرنگ میں داخل ہو جائیں گے جہاں سے نکلنا ممکن نہیں ہو گا، لہٰذا میں وزیر اعظم عمران خان سے پھر عرض کر رہا ہوں کہ ہوش کریں‘ جاگ جائیں‘۔ ہم تمام لائف لائینز بھگتا چکے ہیں‘ ہمارے پاس اب غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی یے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں وزیراعظم تحریک لبیک کے ساتھ ساتھ اپنے وفاقی وزراء کے رویے پر بھی حیران ہیں کیونکہ کابینہ کا کوئی وزیر اس ایشو پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وزیراعظم جس سزیر کو ہدایت کرتے ہیں کہ اس ایشو پر بولے، وہ فوراً بیمار ہو جاتا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید بھی قومی اسمبلی میں سوا منٹ تقریر کر کے بیمار ہو گئے اور باقی ذمے داری نور الحق قادری کے کندھوں پر ڈال کر ایوان سے غائب ہو گئے۔ پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی حکومت کی بجائے ٹی ایل پی کے حق میں بیان دے رہے ہیں۔ حد تو یہ تھی کوئی بھی وزیر 20 اپریل کو قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کے خلاف قرارداد پیش کرنے کے لیے تیار نہیں تھا لہازا یہ ذمے داری بالآخر ڈاکٹر شیر افگن نیاصی مرحوم کے صاحب زادے امجد نیازی نے اٹھائی اور وہ بھی پرائیویٹ ممبر کی شکل میں۔ جاوید چودھری کے مطابق وزیراعظم کو اہنی ٹیم کا یہ رویہ سمجھ نہیں آ رہا۔ انکا کہنا یے کہ میں عمران خان سے ملا تو وہ دکھی تھے۔ مجھے ان کی آنکھوں میں نمی بھی نظر آئی۔ میں نے انھیں مشورہ دیا کی آپ بھی احتیاط سے کام لیں۔ ملکی حالات بہت خراب ہیں۔
لوگ حکومت سے ناراض ہیں۔ کئی لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں اور متعدد زخمی ہیں اور یہ سب ایک اسلامی ملک میں‘ رمضان کے مقدس مہینے میں اس حکومت کے ہاتھوں ہوا جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتی تھی۔ جاوید نے عمران خان سے کہا کہ یہ بے انتہا حساس معاملہ ہے۔ ناموس رسالت پر کوئی مسلمان خاموش نہیں رہ سکتا۔ عالم اسلام اور فرانس کے درمیان ایشو تھا مگر حکومت نے اپنی غلطیوں  سے اسے اپنا مسئلہ بنا لیا۔ اس نے ملک کی مذہبی اکثریت کو چھیڑ دیا اور اب اس مسئلے سے نکلنا آسان نہیں ہو گا۔  لہٰذا آپ احتیاط کریں۔
جاوید چوہدری کے مطابق ان کے اس مشورے پر وزیراعظم عمران خان ناراض ہو گئے اور  بولے کہ کیا آپ مجھے بزدلی کا درس دے رہے ہیں۔ میں نے کہا نہیں میں آپ کو بزدل نہیں بنا رہا۔ میں آپ کو صرف حقائق بتا رہا ہوں۔ تاہم وہ ناراض ہو گئے اور چلے گئے۔ جاوید کے مطابق عمران خان بھی جذباتی قوم کے ایک جذباتی سیاست دان ہیں۔ یہ پوری حکومت جذبات، غیر منطقی توقعات اور ناتجربہ کاری کا مربہ ہے، آپ ان سے پوچھیں آپ کو جب 2014 میں پتا تھا کہ آپ اگلی بار حکمران ہوں گے تو پھر شیخ رشید بار بار ٹی ایل پی کے حق میں تقریریں کیوں کرتے رہے اور ویڈیوز بنا کر کیوں ریلیز کرتے رہے، خود عمران خان نے بھی ٹی ایل پی کی حمایت کیوں کی؟ آپ چلیں ناتجربہ کار اور جذباتی تھے، ہم مان لیتے ہیں، لیکن پھر 16نومبر 2020 کو تحریک لبیک سے تحریری معاہدہ کرنے اور اس پر وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کو دستخط کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ جاوید چودھری سوال کرتے ہیں کہ کیا عمران خان اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نہیں نکال سکیں گے کیونکہ وہ نکلا تو پوری یورپین یونین ناراض ہو جائے گی اور پاکستان کی معیشت کو دھچکا لگے گا۔ کیا حکومت میں کوئی ایک بھی ایسا سمجھ دار شخص نہیں تھا جو وزیر اعظم کو اکتوبر 2020  میں صدر میکرون کے بیان کے بعد یہ بتا سکتا کہ ساری اسلامی دنیا غصے سے ابل رہی ہے اور بارہ اسلامی ملکوں نے فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ ہم بھی اس رو میں فرانس سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیتے، یوں احتجاج کرنے والے بھی مطمئن ہو جائیں گے اور ہم باقی اسلامی ممالک کی طرح چند ماہ بعد فرانس سے اپنے تعلقات بھی نارمل کر لیتے، لیکن جب اسلامی دنیا فرنچ سفیر نکال رہی تھی تو ہم اپنی ہی تنظیموں سے معاہدے کر رہے تھے اور آج جب پوری اسلامی دنیا میں اس ایشو پر امن ہو چکا ہے تو ہماری سڑکیں بند ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ حکومت نے دوسری غلطی یہ کی کہ اس نے ٹی ایل پی کوفریق بنا لیا اور اس کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ بھی کر لیا کہ فرانس کے سفیر کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے ذریعے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ فروری میں جب معاہدے پر عمل کا وقت آیا تو وزیر داخلہ شیخ رشید اور نور الحق قادری نے دوسرے معاہدے کے ذریعے 20 اپریل تک مہلت لے لی گویا حکومت نے ٹی ایل پی کو دوسری مرتبہ بھی فریق تسلیم کر لیا، لیکن پھر 12 اپریل کو اچانک سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد ملک میں جو کچھ ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا، جاوید کہتے ہیں کہ آپ حکومت کی مزید جلدبازی ملاحظہ کریں۔ اس نے 15اپریل کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی بھی لگا دی، یہ سیاسی جماعت اپنے تین ایم پی ایز کے ساتھ ایک ہی دن میں کالعدم ہو گئی اور پھر حکومت نے سعد رضوی سے جیل میں مذاکرات بھی شروع کر دیے اور اس سے تیسرا معاہدہ بھی کر لیا، جاوید سوال کرتے ہیں کہ یہ کیا تماشا ہے؟ یہ لوگ اگر دہشت گرد تھے تو پھر دو وفاقی وزراء نے ان سے نومبر میں معاہدہ کیوں کیا تھا؟ یہ معاہدہ اگر غلط تھا تو پھر 11فروری کو ٹی ایل پی سے مہلت کیوں لی؟ اگر حکومت نے ٹی ایل پی سے مذاکرات ہی کرنے تھے تو پھر اسے کالعدم کیوں قرار دیا اور یہ اگر کالعدم قرار دے دی گئی تھی تو پھر پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی اور آپ اگر یہ سمجھتے ہیں یہ ایک قومی ایشو ہے تو پھر اسکو پارلیمنٹ میں ڈسکس ہونا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس کا کوئی لانگ ٹرم حل نکالنا چاہیے۔ لیکن سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ جس روز قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کے حوالے سے قرارداد پیش ہوئی اس روز خود وزیر اعظم بھی قومی اسمبلی نہیں گئے؟ جاوید کے مطابق کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا عمران خان قومی اسمبلی کو اہمیت نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کمال دیکھیے، وزیر اعظم خود قومی اسمبلی میں قدم رکھنا مناسب نہیں سمجھتے اور دوسری جماعتوں سے توقع کرتے ہیں یہ قومی اسمبلی میں حکومتی قرارداد پاس کر کے حکومت بچا ئیں گی۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے لہٰذا ہمیں یہ ماننا ہو گا یہ حکومت بحران پیدا کرنے کی چیمپیئن ہے۔ یہ لوگ ہر روز کوئی نہ کوئی چیز توڑ دیتے ہیں اور اگر کسی دن ناغہ ہو جائے تو یہ وزارت عظمیٰ کی کرسی ہی الٹی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن کوئی دن خالی نہیں جانے دیتے۔
جاوید چودھری سوال۔کرتے ہیں کہ یہ حالات ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں؟ ہم سیدھاسادا مارشل لاء یا انارکی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اگر خدانخواستہ یہ ہو گیا تو پھر ہم ایک ایسی ٹنل میں داخل ہو جائیں گے جہاں سے ہم نکل نہیں سکیں گے لہٰذا میں پھر عرض کر رہا ہوں ہوش کریں‘ جاگ جائیں‘ ہم تمام لائف لائینز بھگتا چکے ہیں‘ ہمارے پاس اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button