کیا ق لیگ نے کپتان کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟

مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی جانب سے حکومت کی بیڈ گورننس اور مہنگائی پر کڑی تنقید کے بعد جماعت کے مستقبل بارے فیصلوں کا اختیار چوہدری پرویز الٰہی کو سونپے جانے کے بعد یہ اطلاعات ہیں کہ گجرات کے چوہدری بھی اب پرواز کرنے کی تیاری میں ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں مونس الٰہی کی جانب سے عمران کو اپنی جماعت کی بھرپور حمایت کی یقین دھانی محض ظفل تسلی ثابت ہوئی ہے چونکہ پرویز الہی کی زیر قیادت ہونے والے پارٹی اجلاس میں ایسی کوئی یقین دہانی نہیں دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قاف لیگ کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں لائحہ عمل اپنانے کے لیے تفصیلی گفتگو ہوئی اور زیادہ تر قائدین نے یہ مشورہ دیا کہ اب اس حکومت کا مزید ساتھ دینا قاف لیگ کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ق لیگ نہ صرف مرکز میں تحریک انصاف حکومت کی اہم اتحادی ہے بلکہ پنجاب حکومت تو قائم ہی ق لیگ کے ووٹوں پر ہے۔ ماضی میں بھی کئی بار ق لیگ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن ہر بار نازک مرحلے پر کپتان حکومت کو کاندھا بھی فراہم کیا۔

تاہم بدھ کو ہونے والے پارٹی اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان کو کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بدھ کے روز وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ لاہور کے دوران گجرات کے چوہدریوں سے ملاقات کا پروگرام بنایا تھا لیکن پرویز الہی اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے اپنی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

کچھوے کی کھال والی بچی جو صرف 20 برس جی پائے گی

حالیہ دنوں اپوزیشن اتحاد کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور مقتدر حلقوں کی جانب سے نیوٹرل ہونے کے تاثر نے ق لیگ کو سیاسی قبلہ تبدیل کرنے کی تحریک دی ہے۔ اگرچہ ق لیگ کی جانب سے حکومت کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کا دعویٰ تو کیا گیا تھا لیکن جو یقین دہانی بیٹے نے کروائی تھی باپ نے اس حوالے سے پارٹی اجلاس میں کوئی گفتگو نہیں کی۔

دوسری جانب بتایا جا رہا ہے کہ پردہ قاف لیگ کی قیادت اپوزیشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے گفتگو جاری ہے جس سے کپتان اینڈ کمپنی سخت پریشان ہے۔ اپوزیشن الائنس کی کوشش ہے کہ کسی طرح گجرات کے چوہدریوں کو ساتھ ملا کر پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف کی چھٹی کروادی جائے تاہم نئے سیٹ اپ میں اپنے کردار کے حوالے سے واضح یقین دھانی ملنے تک ق لیگ نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ گزشتہ چند دنوں سے گجرات کے چودھریوں کے لاہور والے گھر میں بہت رونق لگی ہوئی ہے۔آصف زرداری کے بعد شہباز شریف بھی ان کے ہاں چودھری شجاعت حسین کی عیادت کے بہانے گئے اور عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بات چلائی۔

’’آنیاں جانیاں‘‘ سے جو فضا بن رہی تھی چودھری مونس الٰہی نے 14 فروری کے روز اسے وزیر اعظم کی موجودگی میں ہوئی ایک تقریب میں ’’تماشہ‘‘ قرار دیا۔ عمران مونس الٰہی کی تقریر دل پذیر سے بہت خوش ہوئے اور جوابی تقریر کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین کی سیاسی بصیرت کو سراہا۔

تاہم ان کی یہ خوشی تب کافور ہوگئیں جب کاف لیگ کے اجلاس میں انہیں مونس کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ لہذا اب اطلاعات ہیں کہ اگر اپوزیشن نے عمران حکومت کے خلاف پکے پاؤں تحریک عدم اعتماد داخل کروا دی تو اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ قرار دیے جانے والے گجرات کے چوہدری بھی عمران کا ساتھ نہیں دیں گے۔

Back to top button