کچھوے کی کھال والی بچی جو صرف 20 برس جی پائے گی

سلوواکیہ میں ڈاکٹرز نے کچھوے کے خول جیسی موٹی کھال کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی کے بارے میں پیش گوئی کی ہے کہ وہ 20 برس سے زائد زندہ نہیں رہ پائے گی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ یہ بچی زندہ نہیں بچے گی لیکن ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔
یاد رہے کہ الزبتھ کیڈلیک نامی یہ بچی جون 2020 میں Harlequin Ichthyosis نامی بیماری کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسی طبی حالت ہے جس میں اس کے پورے جسم اور چہرے کی جلد آٹھ ملی میٹر تک موٹی ہے۔ یہ مرض دس لاکھ افراد میں سے صرف دو بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس عجیب بیماری میں مبتلا بچی کی والدہ نتالیہ جب 30 ہفتوں کی حاملہ تھیں تو انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کی بچی ذہنی اور جسمانی معذوری کے ساتھ پیدا ہو گی۔
چونکہ ڈاکٹر پیدائش تک اس مرض کی تشخیص کرنے سے قاصر تھے.
لہذا بچی کے ماں باپ خوف اور الجھن کا شکار ہو گئے۔ دوسری جانب جب الزبتھ وقت سے چھ ہفتے پہلے پیدا ہو گئی تو اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں پہنچا دیا گیا کیونکہ اس کے چہرے اور سینے کے ارد گرد موجود سخت جلد کی وجہ سے اسے سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔
بچی کی جلد کی کچھوے کے خول جیسی موٹی تہہ نے اس کے چہرے اور جسم کو بگاڑ دیا جس سے اس کی نشوونما بھی روک گئی تھی۔ نتالیہ اور مارٹن کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی حالت اتنی سنگین ہے کہ اس کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔لیکن انتہائی نگہداشت یونٹ میں پانچ ہفتے ادویات کے زیر اثر بے ہوشی کی حالت میں رہنے کے بعد الزبتھ بچ گئی۔ اب الزبتھ تقریبا 20 ماہ کی ہو چکی ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ بیس سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ پائے گی۔
یاد رہے کہ غیر معمولی جلد کی وجہ سے اس کی پلکیں، ہاتھ کی دو انگلیاں اور پاؤں کی چار انگلیاں ضائع ہو چکی ہیں۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے جسم میں درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے کیونکہ اس کی موٹی جلد سے پسینہ خارج نہیں ہو پاتا۔ اس کے علاوہ بچی اپنی آنکھیں بھی نہیں جھپک سکتی لہذا ہر گھنٹے بعد اس کی آنکھوں میں ڈراپس ڈالے جاتے ہیں تاکہ ان میں نمی برقرار رہ سکے۔
گوگل کا اینڈروئڈ آلات پر اشتہارات ٹریکنگ نظام کی تبدیلی کا اعلان
جب الزبت پیدا ہوئی تو ڈاکٹروں کو خیال تھا کہ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی تمام انگلیاں کھو دے گی۔ لیکن اپنے ہاتھوں کی دو اور پاؤں کی چار انگلیاں کھونے کے بعد اب الزبتھ باقی ماندہ انگلیاں صحیح طریقے سے استعمال کر رہی ہے۔ تاہم اس کے ہاتھ پاؤں پر بندھی ہوئی پٹیاں کافی تکلیف دہ ہیں جن سے خون رستا رہتا ہے کیونکہ اس کی ہتھیلیوں کی جلد بہت سخت ہے۔ ڈکٹروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بچی کو پلاسٹک سرجری کی ضرورت ہوگی۔
خیال رہے کہ الزبتھ ابھی تک 55 لاکھ کی آبادی والے ملک سلوواکیہ میں اس مرض سے متاثرہ واحد انسانی جان ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ الزبتھ 20 سال سے زیادہ نہیں جی پائے گی۔ تاہم بچی کی والدہ نتالیہ کو یقین ہے کہ الزبتھ بڑھاپے کی عمر تک پہنچ پائے گی اور اس کی دو بہنیں اور ایک بھائی بھی اس کے ساتھ ہی بوڑھے ہوں گے۔ لیکن ان کے خاندان کی مالی حالت خراب ہے کیونکہ والدین میں سے کوئی بھی کل وقتی کام کرنے کے قابل نہیں ہے اور سلواکیہ کی حکومت انہیں ماہانہ صرف 15 پاؤنڈ امداد دیتی ہے۔
گھر کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ایک دکان ہے جو کرونا کی وبا کی وجہ سے بند ہو گئی تھی۔ جوڑے کو الزبتھ کی دیکھ بھال کے زیادہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے دوستوں، خاندان اور آن لائن عطیات کی مالی مدد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
نتالیہ نے کہا: ’ہمیں تقریباً ہر چیز کی ادائیگی اپنی جیب سے کرنی پڑتی ہے اور ہم طبی علاج کے لیے بیرون ملک سفر کرنے پر مجبور ہیں اور ہم میں سے کوئی کل وقتی کام کرنے سے قاصر ہے۔ الزبتھ کی دیکھ بھال میں ہر گھنٹے آئی ڈراپس اور آنکھوں میں جیل ڈالنا شامل ہے کیوں کہ وہ آنکھیں بند نہیں کر پاتی، اس کے جسم پر پٹیاں بندھی ہیں، اضافی جلد کو نکالنے کے لیے روزانہ دو بار طویل غسل دیا جاتا ہے اور کریم سے دن میں چھ بار موئسچرائز کیا جاتا ہے۔
موئسچرائز نہ کرنے سے اس کی جلد میں شگاف پڑ سکتا ہے اور خون بہہ سکتا ہے لہذا بچی کو 24 گھنٹے نگرانی کی ضرورت ہے۔ الزبتھ کی والدہ کا کہنا ہے کہ بچی اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اس کے تینوں بہن بھائی ہر وقت اس سے لاڈ اور پیار کرتے رہتے ہیں۔
