بارش کی وجہ سے موسلا دھار بارشیں، مریم نواز تنقید کی زد میں کیوں؟

 

 

 

سیاستدانوں کی جانب سے اکثر اوقات ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو عوام کو الجھن میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ ہنسنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔ چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے کے بعد مریم نواز کا بھی ایک جملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سیلابی صورت حال پر میڈیا سے بات کرنے کے دوران ’بارش کی وجہ سے موسلادھار بارشیں ہوئیں‘ کا جملہ بولنے پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کا سیلاب امڈ آیا۔ مریم نواز کاجملہ سن کر کچھ لوگ سوچ میں پڑ گئے کہ آخر یہ دریافت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جبکہ دوسروں نے فوراً اس پر لطیفے اور میمز بنانا شروع کر دیے۔

 

خیال رہے کہ پنجاب کو بڑے سیلاب کا سامنا ہے اور اب تک متعدد اضلاع کے درجنوں دیہات مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے 30 افراد کی اموات کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب سے 15 لاکھ افراد عارضی طور پر بے گھر ہوئے ہیں جب کہ دارالحکومت لاہور کے نواحی علاقے بھی مکمل طور پر سیلاب میں ڈوب گئے۔

 

دریائے راوی پر تقریبا نصف صدی بعد سیلابی ریلے آنے کے بعد دریا کا دورہ کرنے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کی زبان گڑبڑا گئی اور انہوں نے کہہ دیا کہ ’اس سال بارش کی وجہ سے موسلا دھار بارشیں ہوئیں‘۔ میڈیا سے گفتگو کرنے کے دوران وزیر اعلٰی پنجاب نے صحافیوں کو سیلابی صورت حال پر آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سال صوبے کو شدید بارشوں کا سامنا رہا اور یہ کہ اس بار بارش کی وجہ سے موسلادھار بارشیں ہوئیں۔

 

مریم نواز کی جانب سے اس سال بارش کی وجہ سے موسلادھار بارشیں ہوئیں کا جملہ کہنے کی دیر تھی کہ ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے شروع کر دئیے۔ پاکستانی عوام کی ذہانت یہ ہے کہ وہ ہر سنگین صورتحال کو بھی مزاح میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ یہ سائنسی تحقیق کو بھی مات دینے والا بیان ہے کیونکہ یہاں "بارش” اور "موسلادھار بارش” کو الگ الگ مظاہر سمجھا گیا ہے۔ کچھ صارفین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر یہ بیان کتابی صورت میں چھپ جائے تو موسمیات کے طلبہ کی زندگی آسان ہو جائے گی۔

 

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مریم نواز کا بیان جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘ کا نیا ورژن ہے۔

 

کچھ افراد نے لکھا کہ ’مریم نواز ‘کا ’بلاول بھٹو‘ جیسا دور جبکہ بعض نے لکھا کہ انہیں ’نیند کی وجہ سے سخت نیند آ رہی ہے‘۔

 

سوشل میڈیا صارفین نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیان پر دلچسپ کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ ’رونے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘

 

مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ سیاست دان اکثر عوامی تقاریر میں ایسے جملے بول دیتے ہیں جو بظاہر عام سا بیان لگتے ہیں مگر سننے والوں کو مزاحیہ زاویہ فراہم کر دیتے ہیں۔ مریم نواز کا یہ بیان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ تاہم اگر ذرا سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ بیان ایک حقیقت بھی اجاگر کرتا ہے: ہمارے سیاست دان اکثر عوامی مسائل پر اتنی سطحی گفتگو کرتے ہیں کہ اصل مسئلے کی جڑ چھپ جاتی ہے۔ بارش کی تباہ کاریوں، ناقص نکاسیِ آب، اور شہری سہولیات کی کمی پر بات کرنے کے بجائے اگر صرف "بارش کی وجہ سے بارش” پر زور دیا جائے تو عوام کا ردعمل لازمی طور پر طنز اور قہقہوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔ مبصرین کے بقول حقیقت میں پنجاب حکومت کی جانب سے سیلاب کے حوالے سے کوئی پیشگی اقدامات نہیں کئے گئے تھے جس کی وجہ سے پنجاب کے اکثریتی اضلاع زیر آب آ چکے ہیں جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے نواحی علاقوں میں 15 پندرہ فٹ پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ تاہم مریم نواز سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران پھرتیاں دکھانے کے چکر میں بارش کی وجہ سے موسلادھار بارش کے بیانات دینے جیسی بونگیاں مار رہی ہیں کبھی وہ اپنی کچن کیبنٹ کو لے کر امدادی کشتیوں میں بیٹھ کر دریا میں اتر جاتی ہیں تو کبھی وزراء کی فوج ظفر موج لے کر سیلاب سے برباد ہونے والے علاقوں کے دورے پر روانہ ہو جاتی ہیں جس سے عوام کو کسی قسم کا فائدہ ملنے کی بجائے امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے مریم نواز کو ایسے تشہیری دوروں کی بجائے ماہرین کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے جس سے آنے والے سالوں میں ایسی سیلابی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔

 

Back to top button