بلوچستان میں موسلادھار بارشیں، چھتیں گرنے اور سیلابی ریلوں سے تباہی، 2 افراد جاں بحق

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، کئی علاقوں میں چھتیں گرنے اور سیلابی ریلوں کے باعث 115 گھروں کو نقصان، پل تباہ، 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیارت، خضدار، سوراب، جھل مگسی، ہرنائی اور قلات میں بارش ہوئی جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔
ہرنائی میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون اور بچہ جاں بحق جب کہ ایک خاتون زخمی ہوگئی۔ گاچینہ کے علاقے میں تین افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے، جن میں سے دو کو ریسکیو کرلیا گیا جب کہ ایک بچے کو بچانے کےلیے آپریشن جاری ہے۔ سوراب کے مختلف مقامات پر 115 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کےمطابق کچھی میں موسلادھار بارش کے باعث کوئٹہ سبی شاہراہ ٹریفک کےلیے بند ہوگئی، جب کہ بولان ندی میں طغیانی کے نتیجے میں بی بی نانی پل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پل کی بحالی تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
سیلاب متاثرین کی مدد قومی فریضہ ہے،حکومت ہر ممکن اقدامات کررہی ہے : عطا تارڑ
ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ کے پیش نظر متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں بارش کے دوران ایف سی اہلکار عوام کی مدد کےلیے سرگرم رہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں خضدار، لسبیلہ، آواران، گوادر، پسنی، پنجگور، شیرانی، کیچ، پشین، نصیر آباد، قلعہ عبداللہ، بارکھان، ژوب، مستونگ، موسیٰ خیل، لورا لائی اور کوہلو سمیت مختلف اضلاع میں مزید بارش کا امکان ہے۔
