شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست نمٹانے کا تحریری فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست نمٹانے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لارجر بینچ کی تشکیل کےلیے لاپتا افراد کے تمام کیسز کو یکجا کرنے کا حکم جاری کردیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کے چار صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق 15 مئی سے جبری طور پر لاپتا احمد فرہاد ابھی تک گھر نہیں پہنچ سکے، وزارت قانون، وفاقی پولیس اور اٹارنی جنرل نے بتایا کہ احمد فرہاد تھانہ دہر کوٹ میں گرفتار ہے جب کہ مظفر آباد صدر پولیس اسٹیشن مقدمے میں مطلوب ہے۔
پنجاب اسمبلی میں 5ہزار 446ارب کا ٹیکس فری بجٹ پیش
تحریری فیصلے کے مطابق حالات و واقعات کے مدنظر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ مغوی جبری طور پر لاپتا ہوا اور ریاستی ادارے اس کی بازیابی میں ناکام رہے، فیصلے میں لکھا ہے کہ 15 مئی کو تھانہ لوہی بھیر سے شروع ہوا سفر 29 مئی کو دیر کوٹ کی حدود میں مضحکہ خیز طور پر قانونی دائرہ اختیار میں داخل ہوگیا، احمد فرہاد کی گرفتاری جن حالات میں ریکارڈ پر لائی گئی عدالت اسے غیر قانونی عمل قرار دیتی ہے۔
فیصلے میں ہا گیا ہے کہ قومی سلامتی امور سے متعلق کیسز کو ان کیمرا سماعت کےلیے مقرر کیا جائے، تحقیقاتی اداروں کے سربراہان سے ان کیمرا بریفنگ کے بعد لارجر بینچ کیسز کی سماعت کرے، لارجر بینچ ہی میڈیا رپورٹنگ نہ کرنے سے متعلق احکامات جاری کرے۔
