ایک پروفیسربلوچ لبریشن آرمی کےجنگجوؤں کا ٹرینرکیسےبنا؟

بلوچستان میں دہشتگردی کی حالیہ لہر سیکیورٹی اداروں کیلئے چیلنج بن گئی۔ تازہ پیشرفت کے مطابق بلوچستان کے تعلیم یافتہ افراد بھی بیرونی امداد پر پاکستان کے خلاف برسر پیکار بی ایل اے جیسے دہشتگرد ٹولے کے ہمنوا بننے لگے۔ بلوچستان کے ایک پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کے دہشتگردانہ کارروائیوں کے اعتراف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مبصرین کے مطابق جب کسی بھی معاشرے کے استاد یا اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد قوم کا مستقبل سنوارنے کی بجائے ریاست مخالف سرگرمیوں کی طرف مائل ہونے لگیں تو یہ محض انفرادی کمزوری نہیں بلکہ ریاستی پالیسیوں، تعلیمی اداروں کی ناکامی اور سماجی ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ناقدین کے مطابق بلوچستان کے پروفیسر کی گرفتاری سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پہاڑوں اور غاروں میں چھپے ہوئے دہشتگرد ہمارے تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو مزید کچھ عرصے تک صوبے کو انتشار اور بدامنی سے بچانا ناممکن ہو جائے گا پروفیسرز اور لیکچررز جب دہشت گردی کے بیانیے کے سہولت کار بن جائیں تو سوال صرف فرد پر نہیں بلکہ پورے نظام پر اٹھتا ہے کہ آخر ایک استاد دہشتگردوں کا سہولت کار کیسے بنا؟
خیال رہے کہ لیکچرار عثمان قاضی کو 12 اگست کو لوئر کاریز کوئٹہ سے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر عثمان بی ایل اے کی طرف سے 14اگست کو ایک مبینہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں بطور سہولت کار شامل تھے۔ جس کے نتیجے میں انہیں اب باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان بھی چلایا گیا تھا جس میں انہوں نے اپنا تعارف بطور پروفیسر کروایا اور بتایا کہ ان سے ایک شخص نے ملاقات کر کے14 اگست کے دن دہشت گردی کا پلان بنایا تھا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عثمان قاضی کا تعلق ضلع کیچ تحصیل تُربت کے علاقے ناصر آباد سے ہے۔ ان کے والد قاضی سعید بلوچی زبان کے ایک معروف شاعر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عثمان بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینیئرنگ اینڈ مینیجمنٹ سائنسز (بیوٹمس) میں مطالعہ پاکستان پڑھا رہے تھے۔اس سے پہلے انہوں نے ایم فِل کی تعلیم اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی سے حاصل کی جبکہ عثمان نے پی ایچ ڈی کی ڈگری پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔ڈاکٹر عثمان کے قریبی دوستوں کے مطابق ڈاکٹر عثمان کے خاندان کا شدت پسند تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے بلکہ وہ اس کے براہِ راست شکار ہوئے ہیں۔ انہیں افسوس ہے کہ ایسا معاملہ سامنے آیا ہے تاہم اب لگتا ہے کہ طلبہ اور پڑھے لکھے لوگوں کے خلاف موجودہ بیانیے کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عثمان نے خود دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
تاہم لیکچرار عثمان قاضی کی گرفتاری کی حالیہ خبر سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کے زیرِ حراست دیے گئے بیان پر بحث جاری ہے۔ڈاکٹر عثمان کی زیرِ حراست ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دو طرح کے گروہوں کے درمیان بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک گروپ وہ ہے جو اس بیانیے کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ تمام تر بلوچ مسنگ پرسنز مبینہ طور پر دہشت گرد ہیں اور دوسرا گروپ وہ ہے جو اس کیس میں عدالتی فیصلے کا انتظار کرنے کی تلقین کر رہا ہے۔ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کے مطابق عدالت کے باہر یہ تمام تر بحث بے معنی ہے، ’’اس سے نہ تو ریاست کو اور نہ ہی عثمان کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ بہتر یہی ہے کہ عدالت کے ثبوت پر مبنی فیصلے کا انتظار کیا جائے۔‘‘
تاہم ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے بقول ڈاکٹر عثمان قاضی کے بیان جیسے ویڈیو بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، ’’بظاہر یہ بیان پولیس کی حراست میں لیا گیا ہے۔ جس میں بیشک پروفیسر عثمان نے دہشتگردانہ کارروائیوں کی پلاننگ میں شامل ہونے کا اعتراف کیا ہے تاہم پولیس کسٹڈی میں دئیے گئے اس قسم کے بیان پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ان کے مطابق اس حوالے سے عدالت میں پیش کئے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا نا کہ ویڈیو یا میڈیا کے سامنے دیے گئے بیان پر۔ یہ فیصلہ میڈیا کو نہیں عدالت کو کرنا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہر دہشتگردوں کی سہولتکاری کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا ہو اس سے پہلے 2023 میں ایک طالبہ ماہل بلوچ کو سی ٹی ڈی نے کوئٹہ سے گرفتار کیا تھا۔ ماہل پر بھی یہی الزام تھا کہ انہوں نے دہشت گردوں کی سہولتکار کے طور پر کام کیا ہے۔ ماہل کے اہلخانہ نے اس وقت اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کا کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ یعنی بی ایل ایف سے کوئی تعلق نہیں اور ان کے پاس سے خود کش جیکٹ کی برآمدگی کے دعووں میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔ تاہم سی ٹی ڈی کے مطابق ماہل بلوچ کو کوئٹہ کے سیٹلائیٹ ٹاؤن کے علاقے میں ایک پارک کے قریب سے گرفتار کیا گیا جہاں ان سے ایک خود کش جیکٹ برآمد کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔لیکن ماہل کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں کسی پارک سے نہیں بلکہ گھر سے حراست میں لیا گیا۔ کوئٹہ کے ایک وکیل نے بتایا کہ بعد میں ماہل کو ثبوت نہ ملنے کے سبب پانچ لاکھ روپے ضمانت کے بعد کوئٹہ کی ہدہ جیل سے مئی 2023 میں رہا کردیا گیا تھا۔
