آئمہ بیگ آٹھ کروڑ روپے کی نادہندہ کیسے بن گئیں؟

حالیہ دنوں میں اپنے میوزک کنسرٹس میں ہوٹنگ اور گندے اشاروں کا سامنا کرنے والی معروف پاکستانی گلوکارہ آئمہ بیگ ایک اور مشکل میں پھنس گئی ہیں کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے انہیں 8 کروڑ روپے کی ٹیکس نادہندہ قرار دیتے ہوئے ان کی گاڑی ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ایف بی آر کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ آئمہ نورالعین بیگ نے سال 2018، سال 2019، سال 2020 اور سال 2021 کا ٹیکس ادا نہیں کیا ہے جس وجہ سے وہ ایف بی آر ڈیفالٹر لسٹ میں آ گئی ہیں۔ ان کے ذمہ 85004885 روپے ٹیکس کی مد میں واجب الادا ہیں۔ آئمہ بیگ کے مداحوں کے لئے یہ خبر حیران کن ہے کہ اتنی چھوٹی عمر کی گلوکارہ پر اتنا بڑا ٹیکس کیسے ڈال دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جس ملک میں وزیراعظم صرف چند لاکھ روپے ٹیکس دیتا ہوں وہاں ایک ابھرتی ہوئی گلوکارہ سے آٹھ کروڑ روپے ٹیکس مانگ لینا کہاں کا انصاف ہے۔
حریم شاہ کی ویڈیو میں دکھائے پاونڈز کس کے تھے؟
آئمہ بیگ کو جاری ہونے والے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نادہندگی قانون کے تحت ایف بی آر آئمہ کی جائیداد ضبط کر کے بھی ٹیکس ادائیگی کا اختیار رکھتا یے لہذا ان کی گاڑی جو انہوں نے 2021 کے گوشواروں میں ظاہر کی ہے اس کو فوری طور پر قبضے میں لینے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔
ایف بی آر نے کار ضبط کرنے کے لئے باقاعدہ ایک افسر بھی متعین کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ گلوکارہ آئمہ بیگ نے پی ایس ایل سیون کا ٹائٹل سانگ ریکارڈ کروا دیا ہے جو آئندہ ہفتے ریلیز ہو گا۔ ایف بی آر کا موقف ہے کہ آئمہ بیگ پاکستان کی چند اچھی کمائی کرنے والی گلوکاراوں میں سے ایک ہیں لیکن وہ اپنی کمائی پر ٹیکس ادا نہیں کر رہی ہیں لہذا ان کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گلوکارہ آئمہ بیگ اپنی مسحور کن آواز کی وجہ سے کافی مقبول ہیں۔ انہیں فلموں میں کام کرنے کی آفر بھی کی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔گلوکارہ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے گلوکاری کے شوق سے مطمئن ہوجائیں پھر اداکاری کریں گی۔ آئمہ بیگ کا کہنا ہے کہ فلم طیفا اِن ٹربل’ اور ‘جوانی پھر نہیں آنی’ میں کام کرنے سے انکار کا مطلب یہ نہیں کہ میں کبھی اداکاری نہیں کروں گی۔
