عمران خان نے اکبر ایس بابر کی طرف دوستی کا ہاتھ کیسے بڑھایا؟

پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات، قیادت کے بحران اور بانی پی ٹی آئی کی طویل قید کے دوران سیاسی منظرنامے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے جیل سے پارٹی کے ابتدائی دور کے ساتھی اور سابق رہنما اکبر ایس بابر کو اہم پیغام بھجوایا ہے، جس میں مبینہ طور پر پارٹی کے بانی کارکنوں، ناراض رہنماؤں اور الگ ہونے والے ساتھیوں کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس پیغام نے نہ صرف پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات بلکہ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جیل سے سابق دیرینہ ساتھی اور پارٹی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کے نام مبینہ طور پر اہم پیغام بھجوائے جانے کی خبر نے ملکی سیاست میں خاصی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس پیغام میں پارٹی کے ابتدائی دور سے وابستہ رہنماؤں، ناراض کارکنوں اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر پی ٹی آئی سے دور ہونے والے ساتھیوں کو دوبارہ متحد کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اکبر ایس بابر نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیغام کی تصدیق کی اور بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام جیل میں موجود ان کے ایک دیرینہ دوست کے ذریعے ان تک پہنچا۔ ان کے مطابق پیغام میں بانی پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ جب وہ جیل سے باہر آئیں گے تو سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جائیں گے۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے ابتدائی اور بانی دور کے اہم ساتھیوں میں شمار ہوتے رہے ہیں، تاہم بعد ازاں ان کے اور پارٹی قیادت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے اور ان کا سیاسی راستہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت سے الگ ہوگیا۔
حالیہ پیغام میں اگر واقعی پارٹی کے پرانے ساتھیوں اور ناراض کارکنوں کو دوبارہ متحد کرنے کی ذمہ داری اکبر ایس بابر کو دی گئی ہے تو یہ تحریک انصاف کی اندرونی سیاست میں ایک غیر معمولی تبدیلی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ اس کا ایک ممکنہ مقصد پارٹی کے مختلف دھڑوں، ناراض رہنماؤں اور بانی کارکنوں کے درمیان فاصلے کم کرنا اور ایک وسیع سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل ہوسکتا ہے۔
پی ٹی آئی گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف سیاسی، قانونی اور تنظیمی چیلنجز کا سامنا کرتی رہی ہے۔ پارٹی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے درمیان اختلافات، قیادت کے حوالے سے سوالات اور تنظیمی سطح پر پیدا ہونے والی مشکلات کے باعث پارٹی کے اندر اتحاد کا معاملہ مسلسل اہمیت اختیار کرتا رہا ہے۔
ایسے میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی کے ابتدائی دور کے ساتھیوں کو دوبارہ ساتھ لانے کی کوشش کا پیغام ایک نئی سیاسی حکمت عملی کا اشارہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر مختلف دھڑوں اور ناراض رہنماؤں کے درمیان رابطے بحال ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پارٹی کی تنظیمی قوت اور سیاسی اثرورسوخ میں اضافہ ممکن ہے۔
تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ ماضی کے اختلافات کس حد تک ختم کیے جاسکتے ہیں اور کیا تمام ناراض رہنما اور کارکن دوبارہ ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پر آنے کے لیے تیار ہوں گے۔ اس عمل میں پارٹی کی موجودہ قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور مختلف گروہوں کے درمیان اعتماد کی بحالی بنیادی کردار ادا کرے گی۔
اکبر ایس بابر کی جانب سے پیغام کی تصدیق کے بعد اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق کن رہنماؤں اور کارکنوں سے رابطہ کرتے ہیں اور اس رابطہ کاری کا عملی نتیجہ کیا سامنے آتا ہے۔
کیا 50کروڑ کی کرپشن پر نیب ایکشن لے گا؟ بڑی وضاحت سامنے آ گئی
اگر یہ کوشش آگے بڑھتی ہے تو تحریک انصاف کے سیاسی ڈھانچے میں ایک نئے باب کا آغاز ہوسکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پارٹی کو اپنے اندرونی اختلافات کم کرکے ایک مشترکہ سیاسی حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
