کیا 50کروڑ کی کرپشن پر نیب ایکشن لے گا؟ بڑی وضاحت سامنے آ گئی

قومی احتساب بیورو نے قومی احتساب قوانین میں 2026ء کی ترمیم کے بعد اپنے دائرہ اختیار سے متعلق 50 کروڑ روپے کی مالی حد کے اطلاق کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک تیار کرلیا ہے۔ ‍حکام کے مطابق نیب کی داخلی رہنمائی کا مقصد تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کے لیے ایک یکساں قانونی مؤقف قائم کرنا ہے تاکہ کرپشن کے مقدمات میں دائرہ اختیار سے متعلق ابہام کم کیا جاسکے۔

قومی احتساب بیورو نے کرپشن مقدمات میں اپنے دائرہ اختیار سے متعلق 50 کروڑ روپے کی نئی مالی حد پر اہم قانونی وضاحت کردی ہے۔ نیب کی وضاحت کے مطابق مہنگائی کے تناسب سے مالی حد میں ہونے والی ایڈجسٹمنٹ کو ماضی کے مقدمات پر ازخود لاگو نہیں کیا جاسکے گا، جبکہ کسی کیس پر نیب کا اختیار اس بات سے طے ہوگا کہ مبینہ جرم کب سرزد ہوا۔ 2026ء کی ترمیم کے بعد نیب نے تین الگ قانونی صورتیں مقرر کی ہیں جن کے تحت پرانے جرائم، بعد میں ہونے والے جرائم اور مسلسل جاری رہنے والے جرائم کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔ یوں 50 کروڑ روپے کی بنیادی حد، جرم کی تاریخ اور مہنگائی سے ایڈجسٹ شدہ رقم تینوں مل کر طے کریں گے کہ کوئی مقدمہ نیب کے دائرہ اختیار میں رہے گا یا عام عدالتوں کو منتقل ہوگا۔

اس قانونی تشریح کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ 50 کروڑ روپے کی مالی حد نیب کے دائرہ اختیار کا بنیادی معیار برقرار رہے گی، جبکہ مہنگائی کے تناسب سے ہونے والی سالانہ ایڈجسٹمنٹ کو اس بنیادی حد کی ماضی پر اطلاق کی وجہ نہیں بنایا جاسکے گا۔ دوسرے الفاظ میں محض یہ حقیقت کہ وقت گزرنے کے ساتھ رقم کی قدر کم ہوئی ہے، کسی پرانے اور کم مالیت والے کیس کو ماضی سے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں لاسکتی۔
2026ء کی ترمیم کے تحت قابل تعزیر جرم کی تعریف میں ایسی بدعنوانی یا طرز عمل کو شامل کیا گیا ہے جس میں کم از کم 500 ملین روپے یعنی 50 کروڑ روپے کا معاملہ شامل ہو۔ قانون میں اس مالی حد کو محکمہ شماریات کے جاری کردہ اشاریوں کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہونا ہے۔
تاہم نیب کی داخلی تشریح میں 50 کروڑ روپے اور مہنگائی سے ایڈجسٹ ہونے والی رقم کے درمیان ایک اہم قانونی فرق واضح کیا گیا ہے۔ بنیادی مالی حد دائرہ اختیار کا معیار ہے، جبکہ مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹمنٹ کسی مقدمے میں واجب الادا رقم کے حتمی تعین کے مرحلے پر اہمیت اختیار کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث قانونی مالی حد وقت کے ساتھ اپنی اصل معنویت نہ کھو دے۔
نیب کی رہنمائی کے مطابق پہلی صورت ان جرائم سے متعلق ہے جو جولائی 2022ء سے قبل سرزد ہوئے۔ ایسے مقدمات میں مبینہ جرم کے وقت موجود اصل مالی رقم کو اسی سال کی بنیاد پر دیکھا جائے گا اور اس پر بعد کی مہنگائی کی ایڈجسٹمنٹ ماضی سے لاگو نہیں ہوگی۔
اگر جرم کے وقت حتمی واجب الادا رقم 50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہو تو نیب کا دائرہ اختیار برقرار رہے گا۔ لیکن اگر اصل رقم 50 کروڑ روپے سے کم ہو تو محض بعد کے برسوں میں مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے اسے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں لایا جاسکے گا اور ایسا معاملہ عام عدالتوں کو منتقل ہوسکتا ہے۔
دوسری صورت جولائی 2022ء کے بعد سرزد ہونے والے جرائم سے متعلق ہے۔ ایسے کیسز میں بھی نیب کا بنیادی دائرہ اختیار 50 کروڑ روپے کی مقررہ حد سے جڑا رہے گا۔
تاہم اگر انکوائری یا تحقیقات کے بعد اصل واجب الادا رقم 50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ثابت ہوجائے تو مقدمہ حتمی شکل اختیار کرنے والے سال کے مہنگائی کے اشاریے کی بنیاد پر رقم کو ایڈجسٹ کیا جاسکے گا۔ اس طرح حتمی ریفرنس میں اصل واجب الادا رقم کے ساتھ مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ شدہ رقم بھی شامل ہوسکتی ہے۔
اس کے برعکس اگر تحقیقات کے دوران اصل واجب الادا رقم ہی 50 کروڑ روپے سے کم ثابت ہو تو مہنگائی کی بنیاد پر اسے بڑھا کر نیب کے دائرہ اختیار میں رکھنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ یوں اصل مالی رقم دائرہ اختیار کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔
تیسری صورت ان جرائم سے متعلق ہے جو جولائی 2022ء سے پہلے شروع ہوئے لیکن اس کے بعد بھی جاری رہے۔ نیب کی داخلی رہنمائی کے مطابق ایسے مسلسل جرائم کو جولائی 2022ء کے بعد سرزد ہونے والے جرائم کی طرح دیکھا جائے گا۔
اس صورت میں بھی 50 کروڑ روپے کی بنیادی حد دائرہ اختیار کا معیار ہوگی، جبکہ مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹمنٹ واجب الادا رقم کے حتمی تعین کے بعد کی جاسکے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرم کے آغاز کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اس کے جاری رہنے کی نوعیت بھی قانونی دائرہ اختیار طے کرنے میں اہم ہوگی۔
نیب کی رہنمائی میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ اصل واجب الادا رقم حتمی طور پر متعین ہوجائے اور اس کے مطابق مہنگائی سے ایڈجسٹ شدہ رقم کا حساب کرلیا جائے تو یہی رقم حتمی تصور ہوگی۔ بعد کے برسوں میں مہنگائی کے اشاریے میں مزید اضافے کی بنیاد پر اسی مقدمے کی رقم کو بار بار بڑھایا نہیں جائے گا۔
یہ وضاحت اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے مقدمات میں مالی حد کے غیر معینہ مدت تک بڑھتے رہنے کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔ یعنی متعلقہ مقدمے کے حتمی مرحلے پر جو مہنگائی کا اشاریہ قابل اطلاق ہوگا، اسی کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔
نیب کی داخلی تشریح کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ مہنگائی سے منسلک مالی حد کو ماضی کے ایسے مقدمات پر سابقہ تاریخ سے لاگو نہیں کیا جاسکتا جو جرم کے وقت 50 کروڑ روپے کی مقررہ حد سے کم تھے۔
اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ کسی پرانے کیس میں صرف اس بنیاد پر نیب کا دائرہ اختیار قائم نہیں ہوسکتا کہ کئی برس گزرنے کے دوران مہنگائی کے باعث رقم کی موجودہ قدر تبدیل ہوگئی ہے۔ جرم کی تاریخ اور اس وقت کی اصل مالی رقم کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔
2026ء کی ترمیم میں نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے والے معاملات کی منتقلی کے حوالے سے بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ شق 4(6)(اے) میں ترمیم کے ذریعے متعلقہ معاملات کی منتقلی کی شق کو زیر التواء اپیلوں تک بھی توسیع دی گئی ہے۔
اس سے پہلے یہ دائرہ انکوائریز، تحقیقات اور ٹرائلز تک محدود تھا، تاہم نئی ترمیم کے بعد زیر التواء اپیلیں بھی اس قانونی فریم ورک کے دائرے میں آسکتی ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ایسے مقدمات جن کا قانونی دائرہ اختیار نئی قانون سازی کے تحت تبدیل ہوجائے، ان کے بارے میں عدالتوں میں زیر التواء اپیلوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔
نیب کی جانب سے تیار کردہ داخلی رہنمائی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مختلف علاقائی دفاتر اور پراسیکیوٹرز ایک ہی قانونی اصول کے تحت مقدمات کا جائزہ لیں۔ اس سے دائرہ اختیار کے حوالے سے مختلف تشریحات اور غیر ضروری قانونی تنازعات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ معاملہ ان افراد کے لیے بھی اہم ہے جن کے خلاف نیب میں پرانے یا نئے مقدمات زیر کارروائی ہیں، کیونکہ اب جرم کی تاریخ، اصل مالی رقم، جرم کے جاری رہنے کی نوعیت اور قابل اطلاق مہنگائی کا اشاریہ اس بات کا تعین کرسکتے ہیں کہ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں رہے گا یا نہیں۔

 

امریکا کا گزشتہ سال فضائی حملوں میں 153 یمنی شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف

یوں 2026ء کی نیب ترمیم کے بعد 50 کروڑ روپے کی حد محض ایک مالی عدد نہیں رہی بلکہ اس کے اطلاق کے لیے جرم کی تاریخ اور نوعیت بھی انتہائی اہم ہوگئی ہے۔ نیب کے تین فارمولے بنیادی طور پر یہی طے کرتے ہیں کہ ماضی کے جرائم، نئے جرائم اور مسلسل جاری رہنے والے جرائم میں مالی حد اور مہنگائی کا قانون کس انداز میں لاگو ہوگا۔

Back to top button