ایران اور امریکہ کی جنگ میں پاکستان فاتح بن کر کیسے ابھرا؟

 

 

 

امریکا کے بد تہذیب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اپریل کو دھمکی دی کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی اور پھر کبھی واپس نہیں آ پائے گی۔ لیکن اس دھمکی کے صرف چند گھنٹے بعد اندھی طاقت کے نشے میں بدمست ٹرمپ کا غرور خاک میں مل گیا۔ ایک پوری تہذیب کو ملیا میٹ کرنے کی دھمکی دینے والے کو اپنا ہی تھوک ہوا چاٹنا پڑ گیا۔ جس تہذیب کو انہوں نے ختم کرنے کی دھمکی دی تھی اُسی تہذیب کے ساتھ ٹرمپ کو سیز فائر کرنا پڑ گیا۔

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن اور سینئیر صحافی حامد میر نے روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال میں ٹرمپ کو اپنی خفت بھی تو مٹانی تھی کیونکہ سیز فائر کے بعد ایران دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے برابر آکھڑا ہو چکا تھا۔ ایرانی قوم اس سیز فائر کو اپنی فتح قرار دے رہی تھی۔ ٹرمپ نے بھی دو ہفتے کا سیز فائر ماننے کے بعد "میں جیت گیا، میں جیت گیا” کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔ یہ عارضی سیز فائر دراصل امن کی جیت ہے ۔ جیت کے کئی باپ بن جاتے ہیں، شکست کا کوئی باپ نہیں بنتا- یہ شکست دراصل نیتن یاہو کا مقدر بنی ہے جو ٹرمپ کو گھیر کر اس جنگ میں لایا تھا اور دونوں نے مل کر28 فروری کو ایران پر حملہ کر دیا تھا ۔

 

حامد میر کے بقول امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ جنگ کے آغاز میں ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی موجودہ قیادت کیلئے ملک کو سنبھالنا مشکل ہو جائیگا اور عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ ٹرمپ نے اپنے خفیہ اداروں کے ذریعہ بھاری مقدار میں اسلحہ عراقی کردوں کے سپرد کیا تھا تا کہ وہ ایرانی حکومت کے مخالفین تک یہ اسلحہ پہنچا دیں۔ ایرانی حکومت کے مخالفین نے یہ اسلحہ ریجیم چینج آپریشن میں استعمال کرنا تھا جسکے بعد اسرائیل اور امریکا کی زمینی فوج نے ایران میں داخل ہوکر وہاں ایک نئی حکومت قائم کرنی تھی۔ لیکن یہ پورا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ آیت الله علی خامنہ ای کی شہادت نے ایران کو کمزور کرنے کی بجائے مزید مضبوط اور متحد کردیا – ایران ایک ایسا ملک تھا جو کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں کا شکار تھا اور جسکی ایئر فورس برائے نام تھی ۔ جنگ کے آغاز میں ہی ٹرمپ نے ایران کی فضائی اور بحری طاقت ختم کرنے کا دعویٰ کر دیا ۔ اس دعوے کا مقصد ریجیم چینج آپریشن کو آسان بنانا تھا تا کہ ایرانی حکومت کے مخالفین مسلح مزاحمت شروع کر دیں لیکن عوامی دباؤ کے باعث حکومت کے مخالفین گھروں سے باہر نہ نکلے۔

 

صدر ٹرمپ نے اپنے ماتحتوں سے پوچھا کہ وہ اسلحہ کدھر گیا جو ایرانی حکومت کے مخالفین کو بھجوایا گیا تھا ؟ پتہ چلا یہ اسلحہ تو مخالفین تک پہنچا ہی نہیں ۔ دوسری طرف عراقی کردوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تو اسلحہ ایران کے اندر بھجوا دیا تھا لیکن جب امریکی فوج نے ایران میں بچیوں کے ایک سکول پر بمباری کی تو ایران میں امریکا کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ریجیم چینج کیلئے حالات ناز سازگار ہوگئے۔ ٹرمپ کو اس جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ جنگ پاکستان کیلئے بھی بہت مشکلات لیکر آئی- ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں۔ دراصل ایران کی شکست کا پاکستان کو نقصان تھا۔ اگر وہاں ریجیم تبدیلی کا آپریشن کامیاب ہوجاتا تو تہران میں ایک ایسی حکومت قائم ہوتی جو اسرائیل کے اشاروں پر ناچتی۔ اسرائیل اپنے اتحادی انڈیا سے مل کر بلوچستان میں اپنی مداخلت کو بڑھا دیتا۔ پاکستان کیلئے دوسری مشکل یہ تھی کہ ایران نے امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد جوابی کارروائی میں خلیجی ملکوں میں قائم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور جن ملکوں پر حملے ہوئے اُن میں سعودی عرب بھی شامل تھا جسکے ساتھ پاکستان نے دفاعی تعاون کا معاہدہ کررکھا ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران پر حملوں کی مذمت کر رہا تھا دوسری طرف ایران کو سعودی عرب پر حملوں سے روک رہا تھا ۔

 

حامد میر کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کیلئے کوششوں کا آغاز کیا تو بھارتی حکومت نے ان کوششوں کا انتہائی بھونڈے الفاظ میں مذاق اُڑایا اور پاکستان کو امریکہ کا دلال قرار دے دیا۔ یہ پھبتی بھی کسی گئی کہ ماضی میں امریکا کی جنگوں کا حصہ بن کر پاکستان نے بہت ڈالر کمائے لیکن یہ پہلی جنگ ہے جس میں پاکستان کو ڈالرز واپس دینے پڑرہے ہیں۔ اس طنز کا تعلق یو اے ای کو قرضے کی ادائیگی سے تھا۔ اس تمام تر پراپیگنڈے کے باوجود پاکستان نے قیام امن کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ جس روز ٹرمپ نے ایک رات میں پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دی اُس دن ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ اس روز سیز فائر کی کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی تھیں، لیکن پاکستانی قیادت نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ چین نے بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور آخر کار پاکستان کی درخواست پر ٹرمپ سیز فائر کیلئے مان گئے۔

 

دوسری طرف چین نے ایران کو سیز فائر کیلئے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ایران چاہتا ہے کہ اس سیز فائر میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔ امریکا اس تجویز پر راضی ہے لیکن نیتن یاہو لبنان میں سیز فائر کیلئے راضی نہیں۔ نیتن یاہو کوشش کریگا کہ کسی نہ کسی طرح ایران اور امریکا میں سیز فائر ٹوٹ جائے کیونکہ یہ سیز فائر نتین یاہو کی سیاسی موت ہے۔ نتین یاہو نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے صرف ٹرمپ کو نہیں بلکہ پوری امریکی ریاست کو قربانی کا بکرا بنایا۔ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹا جسکے بعد امریکا سپر پاور نہیں رہا ۔

پاکستان نے ایران اور امریکہ کی جنگ برابری پر کیسے رکوائی ؟

حامد میر کے مطابق یہ ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ نے ایک طرف دنیا میں امریکی طاقت اور گھمنڈ کا سر نیچا کیا ہے تو دوسری طرف صیہونی سازشوں کو پوری دنیا میں بے نقاب کر دیا ۔ وہ مسلم ممالک جنہیں ایک نام نہاد معاہدہ ابراہیمی کی طرف دھکیلا جا رہا تھا، اب اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل سو مرتبہ سوچیں گے کہ اس کا اصل مقصد دنیا میں ابراہیمی مذاہب کو قریب لانا ہے یا گریٹر اسرائیل قائم کرنا ہے؟ حامد میر کہتے ہیں کہ یاد رکھیں! یہ ایک عارضی سیز فائر ہے۔ مستقل امن کی منزل ابھی دور ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن تب تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جاتی اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں مسجد اقصی ٰ سے اسرائیلی قبضہ ختم نہیں کیا جاتا۔ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن نیتن یاہو، اُن کے دوست نریندر مودی کیلئے قابل قبول نہیں ۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیساتھ افغانستان سے کشیدگی کو بھی ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی ۔ چین کی کوشش ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے مابین بھی کوئی مفاہمت ہو جائے ۔ یہ مفاہمت نہ ہوئی تو افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت بند نہیں ہوگی۔ اگر ہم ایران اور امریکا میں مفاہمت کروا سکتے ہیں تو افغانستان کے ساتھ مفاہمت بھی کوئی مشکل کام نہیں۔

Back to top button