جنرل فیض حمید کا خفیہ گینگ کیسے پورے ملک میں لوٹ مار کرتا رہا ؟

سینیئر صحافی ابصار عالم نے دعوی کیا ہے کہ جنرل فیض حمید نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی اپنے وفاداروں پر مبنی ایک گینگ بنا رکھا تھا جو خفیہ ایجنسی اور فوجی یونیفارم کی آڑ میں ملک بھر میں اپنا غیر قانونی نیٹ ورک چلاتا تھا اور بھتہ خوری اور بلیک میلنگ سے لے کر قتل و غارت اور دہشت گردی تک کی وارداتیں کرتا تھا۔
جنرل فیض کی گرفتاری اور ٹاپ سٹی سکینڈل کی خفیہ تفصیلات
ابصار عالم نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا کہ فیض کے کورٹ مارشل کے لیے تحویل میں لیئے گئے تین فوجی افسران میں شامل بریگیڈیئر نعیم فخر پر یہ الزام بھی ہے کہ عمران خان کے ساتھی سردار تنویر الیاس نے آزاد کشمیر کا وزیر اعظم بننے کیلئے انہیں اربوں روپے کی رشوت دی تھی جس میں فیض حمید کا بھی حصہ تھا۔ اس سکینڈل میں جو بریگیڈیئر پھنسا اور پھر اس کی ٹرانفسر ہوئی وہ یہی بریگیڈیئر نعیم تھا۔
فیض حمید کے بعد مزید جرنیل بھی تحقیقات کی زد میں آ گئے
سماء ڈیجیٹل کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ابصار عالم کا کہناتھا کہ فیض حمید نے سب سے خطرناک کام آئی ایس آئی میں اپنا ایک مافیا گینگ بنا کر کیا جو آئی ایس آئی اور خاکی وردی کی آڑ لے کر پورے ملک میں جرائم کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گینگ ملک بھر میں بڑے بڑے بزنس مینوں اور صنعت کاروں کو بلیک میل کر کے ان سے اربوں روپے کا بھتہ وصول کرتا تھا جس کا الزام ایم کیوایم پر لگا دیا جاتا تھا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ جنرل فیض حمید کا بنایا ہوا مافیا پیسے نہ دینے والے لوگوں کو ٹارگٹ کرتا اور انہیں اغواء بھی کر لیتا تھا۔ ابصار عالم کے مطابق فیض کے ساتھیوں نے رینجرز اور آئی ایس آئی کا نام استعمال کرتے ہوئے کاروباری افراد سے اربوں روپے بٹورے۔ ابصار عالم کا کہنا تھا کہ فیض اس سارے مافیا کا گینگ لیڈر تھا، اور گرفتار خونے والے بریگیڈیئر نعیم فخر اور بریگیڈیئر غفار جنرل فیض کے خاص آدمی تھے۔
ابصار عالم نے سما کے پروگرام کے دوران جنرل فیض حمید کی جانب سے خود کو کی جانے والی دھمکی آمیز فون کال بھی سنائی۔ آڈیو میں واضح سنا جا سکتا ہے کہ فیض فون پر ابصار عالم سے شکوہ کرتے ہیں کہ آپ ہمیں بالکل لفٹ نہیں کراتے؟ اس پر ابصار عالم جواب دیتے ہیں کہ آپ کمال کرتے ہیں، ساری لفٹ ہی آپ کے لئے ہے۔ ابصار عالم کے جواب پر فیض حمید کہتے ہیں کہ ’’میں صیحح بتا رہا ہوں، میں تو گلہ کر رہا ہوں، ابصار عالم سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ اچھا آپ گلہ کر رہے ہیں؟ ایسا کیا ہوا ہے؟۔ جواب میں فیض کہتے ہیں کہ ایک برگیڈئیر ہے ہمارا، میں اسے آپ کے پاس بھیجوں گا، ایک کام ہے، دو پرانے ٹی وی چینلز کا لائسنس بیچا تھا، ان کے لائسنس پھنسے ہوئے ہیں، آپ سپیشل مہربانی کروا دیں ‘۔ اس پر ابصار عالم پوچھتے ہیں کہ کون سے والے چینل؟ فیض حمید جواب میں کہتے ہیں کہ ’’ وہ آ کر آپ کو بتائے گا، تفصیل مجھے بھی نہیں پتا، باقی تفصیل وہ بتا دے گا، بریگیڈئیر غفار نام ہے ان کا۔ کال کے اختتام پر ابصار عالم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، اوکے۔۔۔۔
