جنرل فیض حمید کے گلے میں کون سا پھندا فٹ ہونے والا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ گرفتاری کے بعد دوران تفتیش اپنے کارناموں کا دفاع کرتے ہوئے سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید نے یہی کہنا تھا کہ وہ یہ سب کچھ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے کہنے پر کررہے تھے لہذا فوجی ترجمان نے یہ واضح کیا ہے کہ موصوف نہ صرف دوران سروس بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ اس لیے اب فیض اپنی ان حرکتوں کا مدعا کسی اور پر نہیں ڈال سکتے جن میں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملوث تھے۔ یعنی فیض کے بھائیوں نے ان کے لیے وہی پھندہ تیار کیا گیا ہے جو باآسانی ان کے گلے میں فٹ آ جائے۔
جنرل فیض حمید کا خفیہ گینگ کیسے پورے ملک میں لوٹ مار کرتا رہا ؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں بلال غوری کہتے ہیں کہ ماضی میں آئی ایس آئی کے کئی سربراہان تنازعات کی زد میں رہے، کئی ایک پر تو بہت سنجیدہ الزامات عائد ہوئے مگر کسی کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا جاسکا۔ مثال کے طور پر جنرل (ر) حمید گل نے اپنے حلف سے روگردانی کرتے ہوئے آئی جے آئی بنائی تاکہ بینظیر بھٹو کے اقتدار کا راستہ روک سکیں ۔انہوں نے بعد از ریٹائرمنٹ کئی انٹرویوز میں ببانگ دہل یہ اعتراف کیا کہ طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی غرض سے انہوں نے قومی فریضہ سمجھ کر یہ کام کیا۔اسی طرح جنرل (ر)اسد درانی مہران بینک اسکینڈل کی زد میں آئے، اصغر خان کیس میں انہیں عدالتوں میںپیش ہونا پڑا۔ نوے کی دہائی میں سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کرنے کے الزامات ثابت ہو جانے اورعدالتی احکامات کے باوجود انکے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہوسکی کیونکہ انکا موقف ہے کہ اپنی مرضی سے انہوں نےکچھ نہیں کیا بلکہ صدر مملکت اور آرمی چیف کے احکامات کی تعمیل کی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کارِخاص لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کے ہنگامہ خیز دور میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے مثلاً ممبئی بم دھماکے ،ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ ،ایبٹ آباد آپریشن اور پھر میموگیٹ اسکینڈل ۔تاہم ان کا قابل ذکر کارنامہ ’’پروجیکٹ عمران ‘‘کاآغاز تھا۔
جنرل فیض کی گرفتاری اور ٹاپ سٹی سکینڈل کی خفیہ تفصیلات
بلال غوری کے مطابق جنرل پاشا کو روایتی سیاستدانوں سے سخت نفرت تھی اور وہ اس کا برملا اظہار کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کیا کرتے تھے۔امریکی صحافی اسٹیو کول اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جنرل پاشا کا سیاست سے متعلق فلسفہ پڑھے لکھے شہری پاکستانیوں کی سوچ سے بالکل ہم آہنگ تھا جسے جنرل پاشا سادہ الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ’’میں ایک ایسے ملک میں رہنا چاہتا ہوں ،جہاں میرے بچوں کو بھٹو اور شریف خاندان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔‘‘جنرل پاشا نے اپنے اس سیاسی فلسفے اور پسند ناپسند کو محض سوچ تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ عملاً ان دونوں سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو سیاست سے آئوٹ کر کے ایک تیسری سیاسی قوت کو متعارف کروانے کی کوشش کی۔جب وہ رُخصت ہوئے تو سیاسی بندوبست کے اس منصوبے کی باگ ڈور اپنے جانشین لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کے ہاتھوں میں تھما گئے۔
بلال غوری کے مطابق جنرل ظہیر الاسلام کو مسلم لیگ(ن)کی حکومت گوارہ نہیں تھی۔ دیگر وجوہات کے علاوہ نوازشریف کی حکومت سے انہیں ایک گلہ یہ بھی تھا کہ جب 14 اپریل 2014 کو کراچی میں حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا اور عامر میر نے اس کا الزام ائی ایس ائی کے سربراہ پر لگایا تو حکومت نے انکا دفاع نہیں کیا۔ اس دوران ناراضیوں کا سلسلہ بہت دراز ہو گیا۔ 29 نومبر 2013ء کو جنرل اشفاق کیانی نے سبکدوش ہونا تھا، اگرچہ جنرل ظہیر الاسلام سنیارٹی لسٹ میں چھٹے یا ساتویں نمبر پر تھے مگر وہ بھی سپہ سالار بننے کی امید لگانے والوں میںشامل تھے۔بالخصوص جب قرعہ فال جنرل راحیل شریف کے نام نکلا تو انہیں مایوسی ہوئی کیونکہ یکم اکتوبر 2010ء کے روز جو 8 میجر جنرل پروموٹ کرکے لیفٹیننٹ جنرل بنائے گئے ان میں راحیل شریف اور جنرل طارق خان کے ساتھ جنرل ظہیر الاسلام بھی شامل تھے۔اب یکم نومبر 2014 ء کو لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے ریٹائر ہونا تھا اور ناہنجار وزیراعظم سے یہ توقع بھی نہیں تھی کہ پالیسیوں کے تسلسل اور قومی مفاد میں ایکسٹینشن ہی دے دیتے،چنانچہ ’’لندن پلان‘‘کے علاوہ کوئی آپشن نہ تھا۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع اور نشر ہونے والی رپورٹس کے مطابق لندن میں ایجوئر روڈ پر جولائی 2014ء میں لندن پلان تیار ہوا۔ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی اس عمارت کے گیارہویں فلور پر قیام پذیر تھے۔لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے باوردی افسروں نے یہاں بیٹھک کا اہتمام کیا، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پہنچ گئے تو جنرل ظہیر الاسلام تشریف لائے۔طے ہوا کہ اسلام آباد کی طرف یلغار کی جائے۔یہ خفیہ ملاقات ختم ہونے پر سب شرکاء باہر نکلے تو سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ سے لفٹ میں آمنا سامنا ہوگیا۔جنرل ظہیر الاسلام کے پسینے چھوٹ گئے ،جیو نیوز کے بیوروچیف مرتضیٰ علی شاہ کو کہا گیا ،آپ ایسے سمجھیں جیسے کچھ نہیں دیکھا،اس ملاقات کو رپورٹ نہیں کرنا۔اس کے بعد ایسٹ لندن اور پھر ایجوئر روڈ کے قریب ہی ایک دفتر میں سعودی حکام سے لندن پلان کے حوالے سے خفیہ ملاقات ہوئی۔عمران خان نے پاکستان واپس آتے ہی15جولائی 2014ء کو بنی گالہ میں پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس بلایا اور 14اگست کو اسلام آباد کی طرف ’’آزادی مارچ‘‘کا اعلان کردیا۔شجاع نواز نے اپنی کتاب میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ امریکی سفیر کے مطابق ستمبر 2014 میں انہیں اطلاع ملی کہ جنرل ظہیر الاسلام پاکستان میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنا رہے ہیں مگر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس منصوبے کو پنپنے نہیں دیا اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔پھر یہ ذمہ داری جنرل فیض حمید کے کندھوں پر آن پڑی۔انہوں نے یہ مشن پورا کیا ۔اب ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی ہو رہی ہے۔ اگر دوران سروس ان کے کارناموں پر بات ہوتی تو وہ اپنے دفاع میں یہی کہتے کہ وہ یہ سب کچھ اپنی مرضی سے نہیں کررہے تھے مگر بعد ازریٹائرمنٹ سرگرمیوں پر وہ یہ موقف اختیار نہیں کر سکتے۔ لہٰذا وہی پھندہ تیار کیا گیا ہے جو باآسانی ان کے گلے میں فٹ آجائے۔
