ایران نے آبنائے ہرمز کو ٹرمپ کارڈ کے طور پر کیسے استعمال کیا ؟

 

 

 

ایران کے لیے آبنائے ہرمز ایک ایسے مضبوط “ٹرمپ کارڈ” کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے خطے کی کشیدہ صورتحال میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے اور ایران کو پتھر کےدور میں دھکیلنے کا دعویدار امریکہ آج اسی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے منصوبے بناتا نظر آتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز صرف ایک گزرگاہ نہیں بلکہ یہ تنگ مگر انتہائی حساس راستہ عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کی معیشت کا دل اس چند کلومیٹر چوڑی سمندری گزرگاہ میں دھڑکتا ہے کیونکہ دنیا کی 20 فیصد توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لیے ایران کی جانب سے اسے بند کرنے یا محدود کرنے کی دھمکی بھی عالمی سطح پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ حالیہ کشیدگی میں یہی حکمت عملی ایران کے لیے ایک مؤثر دباؤ کا ذریعہ بنی، جس کے نتیجے میں نہ صرف تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں بلکہ بڑی عالمی طاقتیں بھی اس مسئلے کے حل کے لیے متحرک ہو گئیں۔ یوں ایران کیلئے آبنائے ہرمز ایران کے لیے محض ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار بھی ثابت ہوئی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے مخالفین پر مسلسل سیاسی اور معاشی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آبنائے ہرمز اس قدر اہم کیوں ہے، اور اس کی بندش عالمی نظام کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہے۔یہ کیسے عالمی طاقتوں کو آمنے سامنے لے آتی ہے، اور اگر یہ مکمل طور پر بند ہو جائے تو دنیا کا کیا بنے گا؟

معاشی ماہرین کے مطابق خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے، جو شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پھیلی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس کے داخلی اور خارجی دہانے تقریباً 50 کلومیٹر تک چوڑے ہیں، لیکن درمیان میں اس کا سب سے تنگ حصہ محض 33 کلومیٹر رہ جاتا ہے، جو اسے ایک حساس اور محدود راستہ بنا دیتا ہے۔ اس گزرگاہ کی گہرائی اور ساخت ایسی ہے کہ بڑے تجارتی جہاز خصوصاً آئل ٹینکر صرف اس کے مخصوص مرکزی حصے سے ہی گزر سکتے ہیں، جو تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا چینل ہے۔ یہی محدودیت اسے عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم اور بیک وقت نازک بنا دیتی ہے۔

 

 

خیال رہے کہ اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی چوڑائی صرف 33 کلومیٹر ہے، آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے، اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران واقع ہے۔دنیا کی یومیہ تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ یعنی تقریباً 20 فیصد تیل یہاں سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ممالک میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا ، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔

 

اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے، یہاں سے روزانہ تقریباً 90 اور سال بھر میں 33 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔دنیا کی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔ 33 کلو میٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں، ہر لین کی چوڑائی تین کلو میٹر ہے جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین معیشت کی روانی کے لیے خلیج سے اپنی ضرورت کا آدھا تیل منگواتا ہے جبکہ جاپان یہاں سے 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے ہی یہ تینوں ممالک خلیجی ممالک کو گاڑیاں اور الیکٹرانک سامان کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔

اس آبی راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی مجموعی تیل کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ اسی ایک گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں روزانہ لگ بھگ دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات آبنائے ہرمز سے منتقل ہوئیں، جس کی سالانہ مالیت تقریباً 600 ارب ڈالر بنتی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ آبی گزرگاہ صرف ایران کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت جیسے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک بھی اپنی برآمدات، خاص طور پر ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے آبنائے ہرمز پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق سعودی عرب روزانہ تقریباً 60 لاکھ بیرل تیل اسی راستے سے برآمد کرتا ہے، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی گیس کی ترسیل کے لیے اسی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔  آبنائے ہرمز نہ صرف توانائی بلکہ کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اہم اشیا کی عالمی تجارت کے لیے بھی ایک کلیدی شاہراہ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے دنیا کی کھاد کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی معیشت کیلئے اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کا کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں ہے۔ بڑے پیمانے پرخلیجی ممالک کاتیل تاخیر کے بغیر کسی اور راستے سے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز واحد گہرے پانی کا راستہ ہے جو دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکرز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ معاشی ماہرین کے بقول آبنائے ہرمز کی بندش سے صرف امریکہ یا یورپی ممالک ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ خیلجی ممالک کو بھی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی معیشتیں تیل کی برآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش سے ان کے معاشی استحکام کو شدید دھچکا لگتا ہے۔

 

ایران اور امریکہ کی جنگ میں پاکستان فاتح بن کر کیسے ابھرا؟

دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز صرف ایران کے لیے ایک اہم چوک پوائنٹ نہیں بلکہ پوری دنیا کی معاشی لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش عالمی سطح پر شدید توانائی اور معاشی بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف تیل و گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی طویل عرصے تک اس کے دباؤ میں رہ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں سب سے پہلی اور اہم شرط یہی رکھی گئی کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول کر اسے ایک محفوظ گزرگاہ کے طور پر بحال کیا جائے۔ جس کے بعد ایران نے فوری آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا۔

Back to top button