تحریک طالبان، افغان حکومت کا سب سے مہلک ہتھیار کیسے بن گئی؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بہت سارے دوسرے معاملات کی طرح، پاک افغان کشیدگی بھی اتنا سادہ معاملہ نہیں کہ قطر اور استنبول کی دو چار ملاقاتوں سے حل ہو جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ افغان انتظامیہ کا تنازعہ محض چند اختلافات تک محدود نہیں۔ افغانستان کے حکمران طالبان آسانی سے تحریک طالبان کے نیٹ ورک کے خلاف کاروائی پر آمادہ نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ان کے اسلحہ خانے کا سب سے ہلاکت آفرین ہتھیار ہے جس سے دستبردار ہونے کا مطلب خود کو کلی طور پر غیرمسلح کرنے کے مترادف ہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ اُن کی معیشت کا دارومدار بھی پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ کردار پر ہے جو اُن کی تجوری کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔

 

روزانہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ حالیہ مذاکرات کے دوران، افغان حکومت کا یہ موقف ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا کہ طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی کاروائیاں پاکستان کا داخلی معاملہ ہیں لہذا وہ خود اسے کیوں حل نہیں کرتا؟ جب انہیں بتایا گیا کہ حالیہ فضائی حملے اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کا حصہ تھے تو طالبان ناراض ہو گئے ہیں۔ کابل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہم پر دہشت گردی کی ذمہ داری کیوں ڈالتا ہے؟‘‘ عرفان صدیقی کہتے ہیں، برسوں سے یہ بات دُہرائی جا رہی ہے کہ بلاشبہ ایک اعتبار سے یہ ہمارا داخلی معاملہ تھا کیوں کہ اس نے اسی سرزمین سے جنم لیا، یہیں پروان چڑھا اور یہیں فتنہ وفساد کے جوہر دکھائے۔ لیکن کیا 2007 سے آج تک، 18 برس میں کچھ نہیں بدلا کہ اسی فضول دلیل کو دُہرایا جائے جسکا منترا آج بھی افغانستان کی عبوری حکومت پڑھ رہی ہے؟ افغان طالبان اور تحریکِ طالبان کی باہمی گرم جوشی کے تمام پہلوئوں سے آگاہی کے باوجود، پاکستان نے اس مسئلے کو اپنی حکمت عملی کے ذریعے حل کرنے کی بیسیوں کوششیں کیں۔ درجنوں آپریشن کئے۔ بیسیوں چھوٹی بڑی کارروائیاں کیں۔ ہزاروں شہیدوں کا لہو دیا۔ اس سب کچھ میں اگر افغان ریجیم کا کوئی حصّہ تھا بھی تو انتہائی منفی، یعنی بجھی چنگاریوں پر تیل چھڑکتے کا۔

 

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ 2007 میں تحریک طالبان کی تخلیق کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا جو مالا کنڈ، سوات اور نواحی علاقوں سے ہوتا ہوا بڑے کلین اَپ آپریشن کی شکل اختیار کر گیا۔ اسی دوران جنوری 2007 میں جنوبی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں ’راہِ نجات‘ کے نام سے فوجی آپریشن جاری رہا۔ دسمبر 2014 میں پشاور آرمی پبلک سکول کی خونی واردات کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد بھی، افغانستان حکومت کو براہ راست چیلنج کرنے کی ضِد کے بغیر پاکستانی پارلیمنٹ نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جو ناکام رہا اور پھر بات ’ضربِ عضب‘ جیسے بڑے فوجی آپریشن تک جا پہنچی۔

 

دَس سال قبل شروع ہو نے والا آپریشن ’ردالفساد‘ کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔ اس دوران کہیں کہیں بات چیت کے دریچے کھلتے رہے۔ سیز فائر کی کرنیں بھی پھوٹتی رہیں۔ برف پگھلنے کے آثار بھی دکھائی دیتے رہے لیکن مسئلے کی جَڑ وہیں کی وہیں تھی۔ پاکستان کو اپنا معاملہ گھر کے اندر سے ٹھیک کرنے کی نصیحت کرنیوالوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ آپریشن ہم نے خود کئے۔ اپنے سرمائے سے کئے۔ اپنے لہو سے کئے۔ 2600 کلومیٹر طویل افغان سرحد پر حفاظتی باڑ تو ہم نے لگوائی جس پر دو ارب روپے کا بوجھ بھی پاکستان نے اٹھایا۔ یہ بھی مت بھولئے کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بھی پارلیمنٹ اور قومی جذبات کے ترجمان ’نیشنل ایکشن پلان‘ کے 23 نکات میں ہم نے ننانوے فی صد ذمہ داریوں کا بوجھ خود ہی اٹھایا تھا اور اندرونی طور پر اس کا ردّعمل بھی برداشت کیا۔

 

ایک قومی ایجنڈا سیٹ کیا گیا۔ قتل کے الزام میں سخت سزائیں دیں، فوجی عدالتوں کی راہ ہموار کرنے کیلئے آئینی ترمیم کی گئی، نئے ادارے بنائے، کڑے قوانین اور ضابطے نافذ کئے، میڈیا پر قدغنیں لگائیں۔ گویا سبھی کچھ اپنے سر لے لیا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ہم کتنا کچھ کر پائے مگر اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ پاکستان نے بھرپور ’اندرونی‘ کوششیں بھی کر ڈالیں جن کے بارآور نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ افغان رجیم اُنہیں زندہ رکھنے کے درپے تھا اور اُنہیں دانہ، پانی، پناہ سب کچھ دے رہا تھا۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اس کے باوجود افغان ریجیم یہ سوال کر رہا تھا کہ پاکستان خود کیوں کچھ نہیں کرتا؟ تنگ آ کر پاکستان نے کچھ فضائی حملے کیے ہیں تو افغان انتظامیہ نے ہاہاکار مچا دی ہے۔

 

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ قومی بیانیے کے صرف ایک پہلو کے حوالے سے افغان انتظامیہ سے مدد مانگی گئی تھی جو پاکستان میں افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور واپسی کے عمل کو منظم کرنے کا تھا۔ مگر اُن سے یہ کام بھی نہ ہو پایا۔ افغان طالبان نے اُلٹا اسے بھی ہماری فردِ جرم بنا ڈالا۔ تو اب پاکستان جانے اور وہ جانیں، جو پاکستان سے جنگ آزما ہیں۔ جو روز ہمارے شہیدوں کی لاشیں گرا رہے ہیں، روز ہمارے گھر ماتم کدے بنا رہے ہیں۔ یہ بھیانک کھیل گرم جوش میزبانی اور بے سمت سفارتکاری سے زرا آگے کا ہے۔ معاملہ ایک نازک موڑ تک پہنچ چکا ہے۔ ایسے میں کابل کی حکمران قیادت اور اس کی اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 

اگر پاکستان اتنا کچھ کر لینے اور اتنے گہرے زخم کھا لینے کے بعد اپنے عوام، اپنی سرزمین کے تقدس اور اپنی قومی سلامتی کے لئے ایسے سرکش گروہوں کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر روکتا یا اُن کی سرکوبی کرتا ہے جو افغانستان کی سرزمین میں پناہ لئے بیٹھے ہیں تو اُس پر کابل کو جِز بِز ہونے کی ضرورت نہیں ۔ بہتر ہوگا کہ موجودہ مذاکرات میں جو بھی ثالثی نظام وضع ہو، اُس پر موثر عمل درآمد کے نکتے کو سب سے باعمل بنایا جائے۔ اگر ایسا نہ ہو ا تو یہ کوشش بھی ماضی کی کئی کوششوں کی طرح بے سود ٹھہرے گی۔

 

سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان بہرحال ایک نہایت مثبت، تعمیری، نتیجہ خیز اور بامعنی مذاکرات چاہتا ہے جو محض لیپا پوتی تک محدود نہ رہیں بلکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے معاون ثابت ہوں۔ اس ضمن میں قطر اور ترکی کی کوششیں نہایت قابل احترام ہیں لیکن جب تک یہ چشمہ کابل کے سنگ زاروں سے نہیں پھوٹے گا، بات کسی بھی صورت آگے نہیں بڑھے گی۔

Back to top button