امریکہ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو اسرائیل سے کیسے بچایا؟

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام کو خدشہ تھا کہ اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا خیال تھا کہ اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے ممکنہ عبوری امن معاہدے سے مطمئن نہیں تھا اور وہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتا تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام کو تشویش تھی کہ اسرائیل اس مقصد کے لیے انتہائی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ امریکی انتظامیہ نے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا اور مذاکراتی عمل کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کیے، تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مبینہ سازش کو کس طرح ناکام بنایا گیا۔ اخبار کے مطابق اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں سامنے آنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس خدشے کے باعث امریکی حکام نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی تاکہ کسی بھی ممکنہ واقعے سے بچا جا سکے۔
تاہم اس رپورٹ پر امریکی حکومت، اسرائیلی حکومت یا ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔ اس لیے ان دعوؤں کو فی الحال امریکی میڈیا کی رپورٹ کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
