پاکستان اور ایران چھا گئے

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
250 سالہ تاریخ رکھنے والے امریکہ کو کون بتائے کہ 20ویں صدی نکال دیں تو پچھلے ایک ہزار سال مغربی ایشیا بلاشرکت غیرے ترکوں اور فارس کے زیرتسلط رہا ہے ۔ عالمی سیاسی منظر نامہ پر پاکستان نہ کنارے پر نہ میدان سے باہر ، بلکہ بالکل عین مرکز میں براجمان ہے ۔ ایران امریکہ جنگ میں ، پاکستان نہ صرف مرکزی ثالث بلکہ حفاظتی ضامن کے طور پر موجود ہے ۔ پاکستان کی حفاظتی چھتری کے نیچے مغربی ایشیاکا نیا دفاعی معاشی نظام تشکیل پانے کو ہے ۔ یقیناََ سب کچھ بیجنگ کی رضامندی سے طے پائیگا ۔ اس بحران میں اعلیٰ ترین درجے کی سیاسی صفات اور بے مثال سفارتی دانشمندی سے ہمارے فیلڈ مارشل نے دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھائی ہے ۔ نئے دفاعی معاہدوں میں پاکستان ہی نے تو ترکی ، مصر ، قطر ، بحرین ، کویت اور امارات کو سعودی دفاعی مفاہمت کی طرف مائل کیا ، ایران نے اسکی توثیق کی ۔ پاکستان نے یقینی بنایا کہ امریکہ، چین ، روس ، ایران اور خلیجی ممالک سب پاکستان کے کردار کو بحران کے حل کیلئے ناگزیر سمجھیں ۔ مملکت کی 79سالہ تاریخ میں یہ پہلا محیرالعقول واقعہ کہ آج مملکت گلوبل سیاست کی محور ہے ۔
صدر ٹرمپ ، اسرائیل ، وائٹ ہاؤس ، پنٹاگون کے شور و غوغا ، ٹوئٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے دباؤ ، گیدڑ بھبکیاں برطرف ، سو سال بعد مغربی ایشیا انگڑائی لے چکا ہے ۔ 30 جون کو عمان اور ایران نے چین اور پاکستان کی بھرپور حمایت سے فیصلہ کیا کہ ’’دونوں ممالک مل کر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کریں گے ،اسے محفوظ بنائیں گے ‘‘۔ محصولات کی وصولی ، بارودی سرنگوں کی صفائی ، گزرگاہ کی حفاظت اور مجموعی انتظامی امور شامل ہیں ۔ تمام غیر ملکی طاقتوں بشمول امریکہ کے کردار کو یکسر مسترد کر دیا ۔ ایران اور عمان کیساتھ صرف پاکستان اور چین بطور غیر ملکی شراکت دار تفصیلات سے آگاہ ہیں ۔ 28 فروری کی امریکی اسرائیلی جارحیت کے بعدہرمز اب صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایران کے ہاتھ معاشی تباہی کا ایسا ہتھیار آگیا جو جوہری ہتھیاروں سے زیادہ مہلک ثابت ہورہا ہے ۔ہرمز پر کنٹرول ہی واحد وجہ کہ امریکہ آج تہران کی شرائط پر ایک ایسی دستاویزات پر دستخط کرنے پر مجبور جسکو امریکی مبصرین ’سرنڈر ڈاکومنٹ‘ کا نام دے رہے ہیں ۔ عالمی مبصرین نے اسے ایران کی فتح قرار دیا ۔ بظاہرMOU تعطل کا شکار مگر حقیقت میں پیش رفت جاری ہے ۔ نائب صدر جے ڈی وینس حق میں ، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو مخالف ، باہمی ٹکراؤ نے امریکی سیاست میں بحران پیدا کر رکھا ہے ۔ MOU پر دستخط نے امریکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ، دوسری طرف امریکہ اسرائیل کے تعلقات میںپہلی دفعہ شدید دراڑ پڑ چکی ہے ۔ صدر ٹرمپ کھلے عام اسرائیلی وزیراعظم پر تنقید کر رہے ہیں اور برملا اظہار کر رہے ہیں کہ ’’دنیا نیتن یاہو اور اسرائیل سے نفرت کرتی ہے‘‘ ۔ پاکستان کا کردار پورے قضیہ میں مرکزی رہا ، پاکستان کو رفعتوں سے متعارف کروایا ۔ آنیوالے دنوں میں افواج پاکستان ( بَری ، بحری ، فضائی ) کے پاس کرنے کے بے شمار کام ہونگے ۔ ترکی ، ایران ، سعودی عرب ، مصر کیساتھ ملکر پوری مغربی ایشیا کی سیکورٹی یقینی بنانی ہے ۔ مسئلہ فلسطین کا یقینی حل اب ایک اَدھ سال کی مار ہے ۔ مغربی ایشیا میں نئی بساط پر پاکستان کے زیر اہتمام نئی حفاظتی چھتری وجود پاچکی ہے ۔ اگلے چھ سے نو ماہ میں امریکی افواج میں نمایاں کمی ہونی ہے۔ جبکہ 2/3 سالوں میں امریکہ اپنے 16 فوجی اڈے خالی کرکے واپس جا چکا ہو گا ۔
ایران سے عبرتناک شکست کے بعد اسرائیل سبق کیا سیکھتا ، چند دنوں سے ترکیہ پر حملے کی دھمکیاں شروع کر رکھی ہیں ۔ اسرائیلی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اوفیر اکونس نے ترکی پر حملے کا عندیہ دیا ، جیسے ایران شکست کھا چکا ہے ، بیوقوفوں کی جنت میں رہائش پذیر ہیں ۔ امریکہ اسرائیل تاریخ سے ناواقف ، مغربی ایشیا پر ایک ہزار سال تک ترک اور فارسیوں کا غلبہ رہا۔ جبکہ صدیوں کی رقابت کے بعد ترکیہ اور ایران باہمی منسلک ہیں ، دونوں ممالک اسرائیل کو اپنا بنیادی دشمن سمجھتے ہیں ۔ اسرائیلی تشویش بنتی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے صدر اردوان کو ایران سے دور رکھنے اور انقرہ اور تہران کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی ناکام کوشش ضرور کی ، جو ابھی جاری ہے ۔ جبکہ صدر اردوان اسرائیلی شکست پر عثمانی سلطان کی طرح ترکیہ کی عظمت بحال کرنے کا خواب دیکھ چکے ہیں ۔ جب بشارالاسد گرا تو ترکی بغیر ہچکچاہٹ شام میں داخل ہو گیا۔ شام کے حکمران احمد الشرع ایردوان کے ساتھ جڑے ہیں۔ انقرہ کا اسرائیل بارے حساب کتاب ، ایران سے زیادہ خطرناک اور وسیع ہے ۔ اگرچہ ترکیہ نیٹو نہیں چھوڑے گا ، مگر طویل مدتی توجہ یورپ نہیں مشرق وسطیٰ ،وسطی ایشیا رہے گی ۔
اس جنگ کا ایک فاتح چین بھی تو ہے ۔ اخبار گارڈین کےمطابق ایران امریکہ حالیہ جنگ میں ایران کے بعد چین سب سے بڑا اسٹرٹیجک فاتح ہے۔ چین نے ذخائر اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے توانائی کے جھٹکے کو جذب کیا، دو ماہ کیلئے رضاکارانہ طور پر مشرق وسطیٰ کے تیل کی منڈی سے دستبردار ہوا، اور ثابت کیا کہ وہ امریکی بحران کو برداشت کر سکتا ہے اور زیادہ مضبوط نظر آ سکتا ہے۔ جنگ نے چینی شمسی، بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ کو تیز کر دیا۔ بیجنگ نے صنعت پر ٹیکس لگانے کے بجائے متبادل ٹیکنالوجیز بنائیں اور انہیں بڑے پیمانے پر اپنایا۔ اسکے پورٹ فولیو میں ہائیڈرو، جیوتھرمل، نیوکلیئر اور جدید ٹوکماک فیوژن ری ایکٹر شامل ہیں۔ حالیہ جنگ نے واشنگٹن میں عدم استحکام پیدا کیا جبکہ ایران پاکستان چین میں استحکام بڑھایا ۔ گلوبل ساؤتھ کی ریاستیں بھی دیکھا دیکھی اپنی سمت تبدیل کر رہی ہیں۔ بوجوہ ایران امریکہ جنگ ، خطے کا جغرافیائی اسٹرٹیجک نقشہ بدل چکا ہے ۔ پاکستان کے مرکزی کرداراور چین کی حمایت سے ایک نیا علاقائی حفاظتی ڈھانچہ وجود میں آچکا ہے ۔ ترکیہ اور ایران اسرائیل کیخلاف باہمی جڑ چکے ہیں ۔ جب اس کار خیر میں پاکستان صف اول میں موجود ہوگا ، ہمیں بھی اسرائیل کیساتھ کئی ادھار چکانے ہیں ۔ چین کی پشت پناہی حاصل رہنی ہے ۔
اسرائیل رکاوٹ ہے، MOU کے نفاذ میں جبکہ امریکہ بھی اپنے وعدے پورے نہیں کرتا اور اسکی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔ بہت کچھ نظروں سے اوجھل ہے یا اس سے انکار کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے ۔ شرطیہ ! جنگ بندی برقرار رہے گی ۔ فائرنگ جیسے ہی دوبارہ شروع ہوگی ، تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیںتو ٹرمپ کی مقبولیت گرنی ہے۔ چنانچہ ٹرمپ اب کھلی جنگ کی طرف کبھی نہیں جائیگا ۔اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کو بس گھر جانا ہے ۔ معاملات ٹھیک ہو جائیں گے ، آبنائے دوبارہ کھول دی جائے گی ، تیل کی ترسیل بحال ہو جائے گی۔ یہی کچھ خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ امریکہ خطے اور انکے پڑوس سے ہمیشہ کیلئے نکل جائے۔
طویل عرصے تک اسرائیل بنیادی طور پر خطرے میں نہیں تھا کیونکہ اسے امریکہ کی صورت میں ایک پختہ حامی حاصل تھا جو وائٹ ہاؤس، کانگریس، سینیٹ میں امریکی صدر کو سیاسی تحفظ دیتا تھا۔ تاہم امریکی سیاست نے ایک کوانٹم چھلانگ لی ہے، امریکی رائے عامہ اسرائیل کیخلاف ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔اسرائیل مخالف امید وار دھڑا دھڑ پرائمری الیکشن جیت رہے ہیں ۔ امریکہ اسرائیل اجتماعی بحران کے نرغے میں جبکہ ایران فاتح اور پاکستان اسکے شانہ بشانہ ، مغربی ایشیا بشمول پاکستان آنیوالے صدیوں کی تابناک و درخشاں تاریخ رقم کرنے کو ہیں ۔ فیلڈ مارشل اور انکی ٹیم کا شکریہ! ۔
