خسارہ 800 ارب ہونے تک کا انتظار

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا

بعض دفعہ کوئی ایک فیصلہ سینکڑوں ارب روپے کا نقصان کرا سکتا ہے‘ جس کی قیمت پوری قوم قسطوں میں‘ سود کے ساتھ برسوں تک ادا کرتی رہتی ہے۔ یہی کچھ اس قوم کے ساتھ ہوا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے پیچھے ایک ہوشربا کہانی ہے۔ رواں ہفتے کے شروع میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور سیکرٹری دفاع پی آئی اے کی حالیہ فروخت کے بارے میں کمیٹی کے ممبران کو بریف کر رہے تھے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر طلحہ محمود کر رہے تھے۔ اگرچہ ایجنڈے پر دیگر اہم ایشوز بھی تھے لیکن پی آئی اے پر بھی بات ہو رہی تھی۔ جو انکشافات خواجہ آصف نے کیے وہ سن کر میں انہیں ہضم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا کہ معلوم ہوا پی آئی اے اس سے پہلے اس لیے نہ بک سکی کہ اس بات پر لڑائی ہو گئی کہ اس کا نیا ہیڈکوارٹر کس شہر میں ہوگا‘ لاہور میں یا کراچی میں۔
میری بات نواز شریف دور کے وزیر نجکاری محمد زبیر سے ہوئی تو ان کی گفتگو نے کانوں سے دھواں نکال دیا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس کی بات پر یقین کروں کیونکہ خواجہ آصف اور محمد زبیر دونوں نواز شریف کابینہ میں وزیر اور آپس میں کولیگ رہے ہیں اور اب پی آئی اے کے بارے میں دونوں مختلف باتیں بتا رہے تھے۔ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ لاہور اور کراچی کا کبھی مسئلہ نہیں رہا‘ پتا نہیں خواجہ صاحب کے ذہن میں یہ بات کہاں سے آئی۔ 2015-16ء میں پی آئی اے کی فروخت کا معاملہ شروع ہوا۔ نواز شریف ذاتی دلچسپی لے رہے تھے تاکہ اس کا جو خسارہ اُس وقت دو سو ارب روپے تک پہنچ چکا تھا‘ اس سے جان چھڑائی جائے۔ خواجہ آصف اور محمد زبیر کی گفتگو کہیں یا انکشافات‘ نے مجھے اس لیے بھی ڈسٹرب کیا کہ دونوں ماضی میں وزیر نجکاری رہ چکے ہیں۔ خواجہ آصف 1997ء کی نواز شریف کابینہ میں وزیر نجکاری تھے اور حکومتی کی جبری رخصتی کے بعد نیب کی قید میں بھی رہے۔ بعد میں جب میں نیب کے چیئرمین جنرل (ر) محمد امجد سے ملا تھا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ خواجہ آصف کو غلط گرفتار کیا گیا تھا‘ ان پر کوئی الزامات نہیں تھے بلکہ نیب نے اس زیادتی پر خواجہ صاحب سے معذرت بھی کی تھی۔ بہرحال خواجہ صاحب نے کمیٹی اجلاس میں انکشاف کیا کہ پی آئی اے کا نقصان 800 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ جو 2016ء میں 200 ارب روپے تھا۔ تب پی آئی اے اپنے نقصان سمیت بیچی جا رہی تھی لیکن اچانک یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ پی آئی اے کا ہیڈ آفس کراچی میں ہوگا یا لاہور میں۔ خواجہ آصف نے بتایا تو نہیں کہ ایئرلائن کس پارٹی نے خریدنی تھی جو اسے لاہور شفٹ کرنا چاہتی تھی‘ جس پر اعتراض ہوا اور اتنا سخت اعتراض ہوا کہ ڈیل پوری ہی نہ ہو سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج دس سال بعد جب پی آئی اے کو بیچا گیا ہے تو اس کا نقصان دو سو ارب روپے سے بڑھ کر 800 ارب روپے ہو چکا ہے۔ مطلب لاہور یا کراچی میں دفتر کے ایشو پر قوم کو چھ سو ارب روپے کا اضافی نقصان ہوا‘ اور اب قوم کوہر سال اس پر ستر سے اسی ارب روپے سود بینکوں کو ادا کرتے رہنا ہے کیونکہ نئی انتظامیہ یہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
یہ کافی حیرت انگیزبات تھی جو خواجہ صاحب نے بتائی‘ کہ محض کراچی‘ لاہور کے ایشو پر چھ سو ارب روپے کا مزید نقصان ہو گیا۔ شاید کراچی کے دوست اس بات پر اَپ سیٹ ہوں گے کہ پہلے دارالحکومت اسلام آباد لے گئے‘ پھر دیگر اہم محکموں کے ہیڈکوارٹر کراچی سے کیپٹل سٹی شفٹ ہو گئے‘ جس سے یقینا وہاں مقامی افراد کو نوکریوں کا مسئلہ ہوا۔ اب اگر پی آئی اے کا ہیڈ آفس بھی کراچی سے لاہور منتقل ہو جاتا تو بہت سارے لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ کراچی میں اس معاملے میں کافی حساسیت پائی جاتی ہے۔ خیر‘ بقول خواجہ صاحب اس جھگڑے کی وجہ سے نجکاری بیچ میں ہی رہ گئی۔ جو خسارہ دو سو ارب روپے تھا‘ اب آٹھ سو ارب روپے تک پہنچ گیا۔ نوٹ کریں کہ دو سو ارب روپے ہوں یا آٹھ سو ارب روپے‘ یوں لگتا ہے کہ جیسے فیصلہ سازوں کے نزدیک یہ دو ہزار روپے یا آٹھ ہزار روپے تھے کہ خیر ہے‘ یہ کون سی اتنی بڑی رقم ہے۔ یہ الگ بات کہ بینکوں سے مسلسل قرضے لے کر تنخواہیں دینے والے ملک نے بجٹ ڈاکیومنٹ کے مطابق اس سال آٹھ ہزار ارب روپے قرضوں پر سود ادا کرنا ہے۔ حکومت کیلئے بینکوں سے قرضہ لینا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ بینکوں کو اب عام لوگوں کو قرض دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ان کا کلائنٹ عام آدمی نہیں‘ حکومت ہے‘ جو ہر روز قرض لیتی ہے‘ وہ بھی بھاری سود کے ساتھ۔
آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ وزارتِ خزانہ کو اب ماہرِ معیشت کے بجائے زیادہ تر بینکرز چلاتے ہیں۔ سب حیران ہوتے ہیں کہ ایک بینکر کا بھلا وزارتِ خزانہ سے کیا کام؟ ان کا کام ایک ہی ہے کہ وہ بینکوں سے اپنے تعلقات استعمال کر کے فوراً قرضوں کا بندوبست کرتے رہیں۔ شوکت عزیز سے شوکت ترین اور اب محمد اورنگزیب تک‘ سب بینکرز ہیں۔ وزیر خزانہ روز نئے قرضوں کی دستاویزات پر دستخط کر رہے ہوتے ہیں اور ان قرضوں پر بھاری سود دینے کیلئے ایف بی آر روزانہ ٹیکس لگا رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ دائرے کا سفر ہے جو آپ برسوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ اس لیے حکمرانوں کے نزدیک چھ سو ارب روپے کا نقصان کوئی نقصان ہی نہیں۔
سابق وزیر نجکاری محمد زبیر‘ جو اُس وقت پی آئی اے کی ڈیل فائنل کررہے تھے‘ کا کہنا ہے کہ نواز شریف چاہتے تھے کہ پی آئی اے بک جائے لیکن پھر اچانک اسحاق ڈار نے فیصلہ سنایا کہ نہیں! ابھی نہیں بیچتے۔ ان کی ملاقات اس وقت کی اپوزیشن سے ہوئی تھی۔ ڈار صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ بتائیں کہ پی آئی اے کو بیچیں یا نہ بیچیں؟ ان سب نے کہا کہ ابھی نہ بیچیں۔ ڈار صاحب نے مان لیا کہ ابھی نہیں بیچتے۔ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ وہ اُس اجلاس میں موجود تھے جو اسحاق ڈار نے اپوزیشن ممبران کے ساتھ کیا تھا اور یہ سن کر ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا کیونکہ اس وقت پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ کنسلٹنٹس کو کروڑوں ڈالرز کی فیس ادا کی جا چکی تھی۔ خریدار پارٹی یہاں تک تیار تھی کہ وہ ایئرلائن کا دو سو ارب روپے کا خسارہ بھی خود پوراکرے گی۔ حکومت کا اس قرض سے کچھ لینا دینا نہیں ہوگا۔ لیکن ڈار صاحب نے اپوزیشن کے کہنے پر سب کچھ رول بیک کر دیا۔
اب دس سال بعد پی آئی اے بک گئی ہے۔ نقصان دو سو ارب روپے سے بڑھ کر آٹھ سو ارب روپے ہے۔ اور یہ آٹھ سو ارب روپے حکومتِ پاکستان یعنی پاکستانی عوام ادا کریں گے۔ زبیر صاحب کے مطابق اس خسارے پر ہر سال اوسطاً ستر سے اسی ارب روپے سود بھی ادا کیا جائے گا۔ پی آئی اے کا یہ سارا خسارہ عوام کی جیب سے جائے گا‘ ان کی جیب سے نہیں جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے جب پی آئی اے خسارے کے ساتھ بک رہی تھی مگر انہوں نے اسے بکنے نہ دیا۔ آج جب وہ نائب وزیراعظم ہیں تو اب آٹھ سو ارب روپے سے زائد کا قرض عوام پر لاد دیا گیا ہے جو وہ سود سمیت ادا کرتے رہیں گے۔ نہ اس وقت کوئی پوچھ گچھ ہوئی کہ وہ غلط فیصلہ کر رہے ہیں‘ اور نہ آج ہوگی‘ جب ان کے ایک فیصلے کا خمیازہ چھ سو ارب روپے اضافی نقصان اور اس پر سالانہ ستر‘ اسی ارب روپے سود کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ یہ ہیں ملک کے دردِ دل رکھنے والے حکمران‘ جنہوں نے دو سو ارب روپے کے خسارے پر پی آئی اے نہ بیچی‘ پورے دس سال انتظار کیا‘ اور اب پورے آٹھ سو ارب روپے کے خسارے پر بیچ دی تاکہ بینکوں کو ستر‘ اسی ارب روپے سالانہ سود ملتا رہے۔

Back to top button