خامنہ ای کے جنازے کے دوران حملہ ہوا تو جواب نہایت سخت ہوگا: ایران

ایران کی خاتم الانبیا بریگیڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل یا امریکہ نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے یا اس سے متعلق تقریبات کے دوران کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا "انتہائی سخت اور فیصلہ کن” جواب دے گا۔

بریگیڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مخالفین جنازے کے دوران کسی بھی حملے یا اشتعال انگیز اقدام سے پہلے دو بار سوچیں، کیونکہ ایسی کسی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کل تہران میں ادا کی جائے گی، جس میں متعدد سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور تقریباً 100 ممالک کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔سرکاری منصوبے کے مطابق نماز جنازہ کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی تہران سے قم، پھر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد دوبارہ ایران واپس لا کر انہیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنازے اور تدفین کی تقریبات میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر ملک بھر میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔اس سلسلے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جسد خاکی نماز جنازہ کی تیاری کے لیے تہران کے جنوبی علاقے میں واقع امام خمینی حسینیہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سرکاری اور مذہبی تقریبات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

Back to top button