کشیدگی بڑھنے لگی،کیا اب ترکیہ اور اسرائیل آمنے سامنے آنے والے ہیں؟

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو براہِ راست سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو شام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ، خطے میں اس کے فوجی کردار اور مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافے پر تشویش ہے۔ اسرائیلی حکام کے نزدیک یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔اکانومسٹ کے مطابق 2023 کی غزہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اور بیانات میں نمایاں تلخی آئی، جس کے نتیجے میں باہمی اعتماد مزید کمزور ہوا۔ اسرائیلی سیاست دان اب کئی مواقع پر ترکیہ کا ذکر ایران کے ساتھ کرتے ہیں اور اسے بھی ایک اہم علاقائی سکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی وزیر نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ترکیہ نے شام کے ساتھ مل کر خطے میں ایران کی جگہ لے لی ہے اور اب اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔کشیدگی میں اضافے کی دیگر وجوہات میں اسرائیل میں آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے سے متعلق جاری بحث اور ترکیہ کے مؤقف کے باعث پیدا ہونے والے اختلافات بھی شامل ہیں، جنہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور اہم معاملہ ترکیہ کو امریکی ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس حوالے سے ممکنہ مثبت فیصلے کی اطلاعات نے بھی اسرائیل میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ تل ابیب خطے میں اپنی فوجی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔اکانومسٹ کے تجزیے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے اتحاد، شام کی صورتحال، غزہ جنگ کے اثرات اور علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلیوں نے ترکیہ اور اسرائیل کو ایک ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو صرف سفارتی حریف نہیں بلکہ ممکنہ سکیورٹی چیلنج بھی تصور کرنے لگے ہیں، جس کے باعث آنے والے برسوں میں اس رقابت میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Back to top button