ایران امریکہ کشیدگی مزید کتنی طویل ہو سکتی ہے؟

سو دن سے جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے برعکس نہ صرف ایرانی حکومت اپنی جگہ قائم ہے بلکہ متعدد بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران اپنی فوجی صلاحیت کا بڑا حصہ بھی محفوظ رکھنے میں کایماب رہا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنازع طویل جنگ کی شکل اختیار کرے گا یا سفارت کاری اس بحران کا کوئی راستہ نکال پائے گی؟
خیال رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ آیا ایرانی نظامِ حکومت اس شدید دباؤ کا سامنا کر سکے گا یا نہیں۔ ابتدائی دنوں میں مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ایران کی حکومت جلد یا بدیر اپنے انجام کو پہنچ سکتی ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ اندازے غلط ثابت ہوتے دکھائی دئیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ایران کو فوجی، معاشی اور سفارتی سطح پر نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن ریاستی ڈھانچہ بدستور فعال ہے۔ ایرانی سکیورٹی اداروں کی مضبوط گرفت، حکومتی نظم و نسق اور بحرانوں سے نمٹنے کی طویل تاریخ نے اس نظام کو فوری انہدام سے بچائے رکھا۔
دوسری جانب ایرانی عوام شدید معاشی دباؤ، مہنگائی، بنیادی سہولیات کی کمی اور جنگی فضا کے باعث ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ تہران، اصفہان، مشہد اور دیگر شہروں سے آنے والی رپورٹس کے مطابق شہری مسلسل بدلتی ہوئی صورتِ حال سے پریشان ہیں، جہاں ایک طرف جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں تو دوسری جانب دوبارہ میزائل حملے شروع ہو جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بے چینی حکومت مخالف جذبات کو تقویت دے سکتی ہے، لیکن فی الحال یہ ایرانی ریاست کے وجود کے لیے فیصلہ کن خطرہ نہیں بن سکی۔ داخلی سطح پر سخت حفاظتی اقدامات اور اختلافِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن نے حکومت کی گرفت کو مضبوط رکھا ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق فوجی اعتبار سے بھی ایران نے توقعات کے برعکس اپنی صلاحیت کا بڑا حصہ برقرار رکھا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے بیشتر میزائل مراکز دوبارہ فعال کر لیے ہیں اور اس کے موبائل لانچرز اور میزائل ذخائر کی بڑی تعداد اب بھی محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین اس جنگ میں ایران کو توقع سے زیادہ مضبوط فریق قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کے نزدیک اس تنازع کا مستقبل تین ممکنہ راستوں کی طرف جا سکتا ہے۔ پہلی صورت ایک جامع سفارتی معاہدے کی ہے، جس کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی کردار پر طویل المدتی مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وقتی سمجھوتے تو ہو جائیں، لیکن کوئی مستقل حل سامنے نہ آئے اور خطہ مسلسل کشیدگی کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ جبکہ تیسری اور سب سے تشویشناک صورت موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا ہے، جہاں نہ مکمل جنگ ختم ہو اور نہ ہی پائیدار امن قائم ہو سکے۔ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ یہ بحران صرف ایران یا امریکہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت، عالمی توانائی کی منڈیاں، خلیجی ریاستوں کا استحکام اور بڑی طاقتوں کے مفادات اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے بقول اگرچہ جنگ کے اختتام کا وقت اور شرائط ابھی واضح نہیں، تاہم ایک حقیقت ابھر کر سامنے آ چکی ہے کہ ایران فوری طور پر شکست خوردہ فریق نہیں بنا، جبکہ امریکہ بھی ایک طویل اور مہنگی جنگ کے سیاسی نتائج سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی عوامل اس تنازع کو ایک ایسے موڑ پر لے آئے ہیں جہاں آنے والے مہینے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ سیاسی استحکام، عوامی برداشت، معاشی طاقت اور سفارتی حکمتِ عملی بھی ان کے نتائج پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے یا مشرقِ وسطیٰ ایک طویل غیر یقینی دور میں داخل ہونے والا ہے۔
