پاکستان اور انڈیا کے مابین پانی پر جنگ چھڑنے کا خطرہ کیوں؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان دہائیوں پر محیط آبی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ انڈین وزیر برائے آبی وسائل کے اس بیان نے کہ "پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں پہنچنے دیا جائے گا”، نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے آبی مستقبل سے متعلق سنگین سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والی یہ صورتِ حال خطے کے امن، غذائی تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک اہم آزمائش بن چکی ہے۔ جس کے بعد پانی کے مسئلے پر دونوں ممالک کے آمنے سامنے آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا کے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی ہدایات پر اس معاملے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کو جانے والے پانی کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا گزشتہ برس کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں اپنی شرکت معطل کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ حمایت کے خاتمے تک یہ معطلی برقرار رہے گی، جبکہ اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے معاہدے کو بدستور قانونی طور پر مؤثر قرار دیتا ہے۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا اور اسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق پاکستان کو حاصل ہے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج انڈیا کے حصے میں آئے تھے۔ پاکستان کی زراعت، پن بجلی کی پیداوار اور پینے کے پانی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ انہی دریاؤں سے وابستہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے مجموعی سطحی آبی وسائل کا تقریباً 80 فیصد ان دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے، جس کے باعث کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو "اقدامِ جنگ” تصور کیا جائے گا۔دوسری جانب انڈیا کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیشِ نظر اسے اپنے مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ تاہم بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کے حوالے سے یکطرفہ اقدامات نہ صرف علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھا سکتے ہیں۔
مبصرین کے بقول حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دریائے چناب پر نئے منصوبوں کے اعلانات اور پانی کے بہاؤ سے متعلق خدشات نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اگر اس تنازع کا حل مذاکرات اور قانونی ذرائع سے نہ نکالا گیا تو مستقبل میں یہ معاملہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، معیشت اور مستقبل سے جڑا معاملہ ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں ممالک جذباتی بیانات کے بجائے سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین اور باہمی مذاکرات کو ترجیح دیں۔ کیونکہ آبی تنازعات کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے امن اور انسانی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔
