ایران اور امریکہ جنگ بندی برقرار رکھنے میں مسلسل ناکام کیوں؟

ایران اور امریکہ کے درمیان کئی ماہ کی شدید کشیدگی کے بعد ہونے والی جنگ بندی ایک بار پھر خطرے کی زد میں ہے۔ تازہ حملوں، جوابی کارروائیوں اور متضاد بیانات نے اس نازک امن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تمام فریق مکمل جنگ سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر جنگ بندی بار بار دباؤ کا شکار کیوں ہو جاتی ہے؟ ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی، سفارتی اور تزویراتی بھی ہیں، جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں امن اور تصادم کے درمیان فاصلہ انتہائی کم رہ گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم حالیہ واقعات نے ان توقعات کو دھندلا دیا ہے۔ خلیج میں امریکی ہیلی کاپٹر گرائے جانے، ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں کے دعوؤں اور اسرائیل و ایران کے درمیان میزائل تبادلوں نے اس جنگ بندی کی پائیداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران اس جنگ بندی کو تنازع کے بنیادی مسائل کا حل نہیں سمجھتا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر اس پر اقتصادی پابندیاں برقرار رہیں، بحری ناکہ بندی جاری رہے اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہے تو ایسی جنگ بندی محض عارضی وقفہ ثابت ہوگی، نہ کہ پائیدار امن کا ذریعہ۔دوسری اہم وجہ اسرائیل کا کردار قرار دیا جا رہا ہے۔ متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل ایسے کسی معاہدے کو اپنے مفادات کے خلاف تصور کرتا ہے جو ایران کو ایک مؤثر علاقائی قوت کے طور پر برقرار رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں اکثر سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں اور جنگ بندی کے امکانات کو کمزور کرتی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے مابین مکمل جنگ بندی نہ ہونے کا تیسرا عنصر یہ ہے کہ کشیدگی خود ایک مذاکراتی حکمتِ عملی بن چکی ہے۔ ایران یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس پر دباؤ ڈالنے کی قیمت مخالف فریق کے لیے بھی مہنگی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی دباؤ کو سفارتی مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں محدود جھڑپیں دراصل طاقت کے توازن اور سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش بن جاتی ہیں۔مبصرین کے مطابق چوتھی اور شاید سب سے اہم وجہ امریکہ کا دوہرا کردار ہے۔ ایک جانب واشنگٹن جنگ بندی اور سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی اور سیاسی حامی بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہی تضاد مستقل امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو کشیدگی میں کمی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن اب تک اس حوالے سے واضح اور مستقل حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں تمام فریق مکمل جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، مگر کوئی بھی کمزور دکھائی دینے کو تیار نہیں۔ ایران اپنی مزاحمتی پالیسی سے پیچھے ہٹنے کے تاثر سے گریز کر رہا ہے، جبکہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ اور اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اپنی سلامتی کو ہر ممکن معاہدے کا بنیادی جزو بنانا چاہتا ہے۔ ناقدین کے خیال میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اگر سفارت کاری کو سنجیدگی سے آگے نہ بڑھایا گیا اور فوجی کارروائیاں ہی سیاسی پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں تو جنگ بندی کا یہ نازک ڈھانچہ کسی بھی وقت منہدم ہو سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ صرف "ناقابل برداشت قیمت” ہی مخالفین کو روک سکتی ہے تو خطہ ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
