پاکستان سے جنگ نے ٹرمپ کا دورہ انڈیا کیسے منسوخ کروایا ؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھارت کا دورہ منسوخ کرنے کی بڑی وجہ حالیہ پاک بھارت جنگ کو قرار دیا جا رہا ہے جس کے بعد سے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور پاکستان امریکہ کے قریب تر ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دورہ بھارت ملتوی کرنے کو دنیا بھر کے میڈیا نے ایک بہت بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ اور مودی کے تعلقات میں خرابی حالیہ پاک بھر جنگ کے بعد آئی۔ جنگ بندی کروانے کے بعد صدر ٹرمپ باربار کھلے عام کہہ رہے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین فوجی تنازعہ میں نے حل کرایا ورنہ دنیا کو ایک نیوکلیئر جنگ کا سامنا کرنا پڑ جاتا جو تباہ کن ہوتی۔ پاکستان نے ٹرمپ کا یہ دعوی تسلیم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور پھر انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ لیکن دوسری جانب نریندر مودی نے جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کا کردار سرے سے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا حالانکہ امریکی صدر تو ان کی جانب سے بھی نوبیل پرائز کے لیے نامزدگی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی کے بعد 17 جون 2025 کو مودی کیساتھ ایک فون کال کے دوران ٹرمپ نے پھر سے یہ معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ انہیں پاک بھارت جنگ بندی کروانے پر کتنا فخر ہے۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ بھی کیا کہ پاکستان انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے جارہا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جس کے حصول کی وہ مسلسل کوشش کررہے تھے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق جو لوگ اس فون کال کے بارے میں جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا کا مقصد یہ تھا کہ مودی بھی پاکستان کی طرح انہیں نوبیل کے کیے نامزد کریں۔
تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس موقع پر مودی کی تیوریاں چڑھ گئیں اور انہوں نے ٹرمپ کو بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ بندی سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ دونوں ممالک نے براہ راست جنگ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔ یوں مودی نے نوبیل انعام کے حوالے سے کوئی بھی کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس انکار نے دراصل دونوں رہنمائوں کےمابین تعلقات کار کو تلخ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ترمپ نے مودی کو 35 منٹ کی اس فون کال میں فوری امریکہ آنے کی دعوت بھی دی۔ یہ کال تب کی گئی جب ٹرمپ کینیڈا میں گروپ آف 7 صنعتی ممالک کی کانفرنس سے نکلنے کے بعد ایئر فورس ون نامی جہاز پر ملک واپس جا رہے تھے۔ اس اجلاس میں مودی بھی شریک تھے۔ لیکن مودی نے ٹرمپ کی یہ دعوت مسترد کر دی۔ مودی اس بات پر برہم تھے کہ شاید ٹرمپ انہیں پاکستانی آرمی چیف کے ساتھ مصافحے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں، جنہیں وائٹ ہاؤس میں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا گیا تھا۔
ایک سینئر بھارتی اہلکار کا کہنا ہے کہ بعد میں ٹرمپ نے مودی سے دوبارہ فون پر رابطے کی کوشش کی لیکن وہ آگے پیچھے ہو گئے۔ مودی کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ فون پر ہونے والی بات کا بتنگڑ بنا کر اپنی مرضی کی بات سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں گے۔ ٹرمپ نے اس کے باوجود بھی مودی سے کئی بار رابطے کی کوشش کی، لیکن مودی نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
مودی اور صدر ٹرمپ کے تعلقات ایسے وقت میں خرابی کا شکار ہوئے جب بھارت اور امریکہ کے مابین تجارتی مذاکرات چل رہے تھے جو کہ انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ چنا نچہ ٹرمپ نے غصے میں بھارت پر 50 تجارتی فیصد ٹیکس عائد کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت اب امریکا کے دشمنوں یعنی چین اور روس کے قریب ہو رہا ہے اور مودی صدر شی اور صدر پوٹن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ اب مودی کی شکل دیکھنے کو بھی تیار نہیں اور اسی لیے انہوں نے بھارت کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
اس حوالے سے اندر کی بات جاننے کے لیے نیویارک ٹائمز کے صحافیوں نے دہلی اور واشنگٹن میں درجنوں لوگوں سے انٹرویو کیے اور ایک رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کے مطابق انڈین ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا مودی سے نوبیل پرائز کے لیے نامزدگی کا تقاضا مودی کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ بالفرض اگر مودی جنگ بندی کےلیے ٹرمپ کا کردار مان جاتے ہیں تو اسکی بھاری قیمت انہیں ملکی سیاست میں چکانی پڑے گی، وجہ یہ ہے کہ مودی نے عوام میں اپنا ایک طاقتور شخصیت ہونے کا تاثر بنا رکھا ہے جس کو پہلے ہی جنگ میں ناکامی نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب اگر وہ جنگ بندی میں امریکی کردار تسلیم کرتے ہیں تو بھارتی اپوزیشن انہیں جینے نہیں دے گی۔
بھارتی ماہرین نے نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ کا آغاز مودی نے پاکستان پر حملہ آور ہو کر کیا تھا لہذا ٹرمپ کے ذریعے جنگ بندی کا مطلب یہ ہوگا کہ بھارت جنگ ہار رہا تھا ورنہ وہ جنگ بندی کیوں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ نوبیل انعام تو چھوڑیں، مودی اگر صرف جنگ بندی میں ٹرمپ کا کردار ہی تسلیم کر لیں تو یہ بھی بھارت کے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تصور ہو گا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارت اور امریکا کے مابین کشیدگی کی ایک اور بڑی وجہ امریکہ میں موجود بھارتئ تارکین وطن کے خلاف ہونے والی کارروائیوں ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی حکومت نے بھارتی طلبہ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا یے۔
