پنجاب کے چندہ چور سرکاری افسران کیسے پکڑے گئے؟

لاہور میں مذہبی عقیدت کے نام پر جمع ہونے والے درباروں کے نذرانوں اور چندہ فنڈز میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف نے متعلقہ حکام میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے بعد پنجاب حکومت نے تاریخ کی سب سے بڑی تادیبی کارروائی کرتے ہوئے متعدد سرکاری افسران اور اہلکاروں کو سخت سزائیں دیتے ہوئے ملازمتوں سے برطرفی کے علاوہ لاکھوں روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چندے میں کرپشن بارے محکمہ اوقاف کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب ایک خصوصی مانیٹرنگ ٹیم کو نذرانے کے بکسوں کی نگرانی کے لیے مختلف مزارات پر تعینات کیا گیا۔ چھ ماہ کی نگرانی کے دوران حیران کن طور پر چندہ آمدن میں 30 سے 150 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حالانکہ اس دوران زائرین کی آمدورفت میں واضح کمی موجود تھی۔ مزید تحقیق میں بی بی پاک دامن دربار سمیت دیگر مقامات پر بھی چندہ آمدن میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس نے اس شبہے کو تقویت دی کہ ماضی میں نذرانوں سے رقم کی منظم خرد برد کی جاتی رہی ہے۔

جس کے بعد پنجاب میں محکمہ اوقاف کے تحت چلنے والے مزارات اور درباروں کے چندہ فنڈز میں مبینہ بڑے پیمانے پر کرپشن اور منظم غبن کے خلاف سخت کارروائی میں لائی گئی ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مالی شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے یہ اب تک کی سب سے بڑی تادیبی کارروائی ہے، جس میں متعدد سابق افسران اور اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی گئی ہیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں پانچ سابق اعلیٰ افسران اور نگرانوں کو برطرفی، تنزلی، سروس ضبطگی اور بھاری مالی جرمانوں جیسی سخت سزائیں دی گئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر دو کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق اس کیس کے مرکزی ملزم داتا دربار دربار کے سابق مینیجر طاہر مقصود کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے اور ان پر ایک کروڑ 13 لاکھ روپے سے زائد کی مالی ریکوری عائد کی گئی ہے۔ ان پر مستقبل میں کسی بھی فیلڈ پوسٹنگ پر مستقل پابندی بھی لگا دی گئی ہے۔ اسی طرح ایک سابق ایڈمنسٹریٹر شیخ جمیل احمد کی پانچ سال کی سروس ضبط کر کے انہیں مستقل عہدے سے پانچ سال کے لیے تنزلی کی سزا دی گئی ہے اور ان پر 92 لاکھ روپے کی ذاتی ریکوری بھی عائد کی گئی ہے۔ دیگر اہلکاروں میں ایک سٹینوگرافر کی چار سالہ سروس ضبط کر لی گئی ہے اور انہیں حساس برانچوں میں تعیناتی سے روک دیا گیا ہے، جبکہ ایک سابق نگران کی ترقیاں تین سال کے لیے روک دی گئی ہیں اور انہیں بڑے مزارات پر تعیناتی سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔ایک اور نگران کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے جنہیں اگرچہ اس انکوائری سے بری کیا گیا تھا، تاہم ایک الگ وائرل ویڈیو میں مبینہ کرپشن سامنے آنے پر ان کے خلاف نئی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور انہیں مستقل طور پر بڑے مزارات پر تعیناتی سے روک دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہی وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر افسران کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔ اس سے قبل ایسے کیسز میں اکثر سیاسی اثر و رسوخ یا اندرونی ملی بھگت کے باعث اہلکار بچ نکلتے تھے۔ اسے حوالے سے سیکریٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں میں مالی بدعنوانی عوام کے اعتماد کے ساتھ سنگین خیانت ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تمام رقوم کو اب زائرین کی سہولت، لنگر خانوں اور فلاحی منصوبوں پر شفاف طریقے سے خرچ کیا جائے گا۔دوسری جانب حکومت پنجاب مزارات کے چندہ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، جس کے تحت کیو آر کوڈز، آن لائن بینکنگ اور ڈیجیٹل ایپلیکیشن کے ذریعے عطیات کا شفاف نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

Back to top button