ٹرمپ کی تجویز کے بعد روس بھی یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیار

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو پرامن تصفیے اور بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے یوکرین کو بھی زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے سمجھوتہ کرنا ہوگا۔

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کے دوران پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی امن مذاکرات کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس ایسے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے جو فریقین کو مذاکرات کی طرف لے جائے اور تنازع کے حل میں مدد دے۔ روسی صدر کے مطابق ماسکو ہمیشہ سے مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم یوکرین کو بھی سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کسی قابل قبول حل تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں روسی افواج نے مزید علاقوں پر پیش قدمی کی ہے اور تقریباً 2440 مربع کلومیٹر علاقہ اپنے کنٹرول میں لیا ہے۔

پوتن نے یہ بھی کہا کہ لوہانسک کے علاقے پر روس کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے جبکہ ڈونباس کے باقی حصے پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے مطابق یوکرینی افواج کو افرادی قوت اور مغربی اسلحے کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔عالمی سطح پر جاری سفارتی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے روسی صدر نے انکشاف کیا کہ روس اور یورپی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بیک چینل رابطے اب بھی جاری ہیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ جرمنی کو درپیش توانائی بحران کے حل کے لیے روس ‘نورڈ اسٹریم’ پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ برلن کو کرنا ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن صرف مذاکرات اور باہمی سمجھوتے سے ہی ممکن ہے، ورنہ تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

Back to top button