بھارت ایک بار پھرٹرمپ کے نشانے پر آ گیا

امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کو اپنے نشانے پر لے لیا۔ صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے برسوں تک امریکہ سے فائدہ اٹھایا، جبکہ اس صورتحال کو روکنے میں ماضی کی امریکی قیادت نے غفلت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے تجارتی ٹیرف عائد کیے لیکن امریکہ میں کسی کو اس کا واضح ادراک نہیں تھا اور نہ ہی اس معاملے کو سنجیدگی سے اجاگر کیا گیا۔

ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جلد یہ واضح ہو جائے گا کہ تہران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر معاہدہ طے پا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ بھی ہو تو بھی بعض ذرائع سے افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو صورتحال دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر سے فی الحال ملاقات نہیں چاہتے، تاہم اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایسی ملاقات کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ خلا سے ایران کے جوہری مقامات کی نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

توانائی پالیسی کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ کوئلے کی صنعت کے فروغ کے لیے 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جبکہ 14 کول پاور پلانٹس اور 42 کوئلہ کانوں کے تحفظ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور عوام کو معاشی ریلیف ملے گا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ اب تک آٹھ جنگیں رکوانے میں کامیاب رہی ہے اور مزید تنازعات کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔ روس اور یوکرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات امن کے لیے ضروری ہے۔مشرق وسطیٰ اور لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد امن قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی قومی سلامتی کے معاملات پر کسی بھی صورت میں غفلت نہیں برتے گا۔

Back to top button