وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ایک اور اہم ملاقات

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاک ایران تعلقات، سرحدی سکیورٹی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور سفارتی تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے پاک ایران سرحد پر سکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانے، سرحدی انتظام و انصرام کو بہتر بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ سرحدی علاقوں میں امن و امان کے قیام اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے قریبی رابطہ کاری ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران داخلی سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ فریقین کا کہنا تھا کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے کر علاقائی امن اور ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے بھی دوطرفہ سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ مفادات کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
ملاقات میں خطے میں جاری کشیدگی، امن و استحکام کی مجموعی صورتحال اور سفارتی کوششوں کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے داخلہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی رابطوں اور سیاسی مکالمے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔
آخر میں دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے، سرحدی علاقوں میں امن و امان کو بہتر بنانے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مستقبل میں بھی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
