بجٹ2026-27 میں ڈالر کا ریٹ کیا ہو گا؟ بڑا فیصلہ ہو گیا

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور حکومت نے بجٹ سازی کیلئے ڈالر کی شرح 290 روپے مقرر کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اکنامک سروے 2025-26 نو جون کو جاری کیا جائے گا جبکہ وفاقی بجٹ 10 جون 2026 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ اور اقتصادی سروے دونوں پیش کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں بھی ڈالر کی متوقع شرح 290 روپے رکھی گئی تھی، تاہم بعد ازاں وزارت خزانہ نے نظرثانی کرتے ہوئے حقیقی تخمینہ 280 روپے فی ڈالر مقرر کیا۔ اس سے قبل مالی سال 2024-25 کیلئے ڈالر کی شرح 295 روپے رکھی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق بجٹ میں شرح مبادلہ کا تعین بیرونی قرضوں، غیر ملکی امداد، درآمدات، برآمدات اور دیگر بین الاقوامی مالی معاملات کے تخمینے کیلئے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت اپنے مالی اخراجات اور آمدنی کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافے، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر صورتحال اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی کے باعث مقامی کرنسی نسبتاً مستحکم رہی ہے۔ اسی وجہ سے آئندہ مالی سال کیلئے بھی ڈالر کی شرح کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شرح مبادلہ مستحکم رہتی ہے تو درآمدی بل پر دباؤ کم ہوگا، مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

حکومت ہر سال بجٹ سازی کے دوران بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا تخمینہ بھی متوقع شرح مبادلہ کی بنیاد پر لگاتی ہے، کیونکہ ان ادائیگیوں کا بڑا حصہ ڈالر، یورو اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں میں کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 29 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 22 ارب 63 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

ان میں اسٹیٹ بینک کے پاس 17 ارب 19 کروڑ 4 لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 44 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 4 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

حکومت آئندہ بجٹ میں مالیاتی استحکام، اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور مہنگائی پر قابو پانے سے متعلق اہداف کا اعلان کرے گی، جبکہ پاکستان اکنامک سروے میں رواں مالی سال کی معاشی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

Back to top button