گلگت میں اگلی حکومت نون لیگ بنائے گی یاPPPاپنا رنگ جمائے گی؟

گلگت بلتستان ایک بار پھر انتخابی معرکے کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے، امیدواروں کی قطاریں لگ چکی ہیں اور وفاقی سیاسی جماعتیں پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں۔ مگر اس بار اصل سوال صرف یہ نہیں کہ الیکشن کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایک بار پھر وہی پرانی روایت دہرائی جائے گی جس میں گلگت بلتستان کا اقتدار ہمیشہ اسلام آباد کی سیاسی ہوا کے رخ کے ساتھ بدلتا رہا ہے؟ کیا گلگت میں نون لیگ حکومت بنائے گی یا پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی اپنا رنگ جمانے میں کامیاب ہو پائیں گی؟

خیال رہے کہ گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے لیے سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں سیاسی جماعتیں بھرپور طاقت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق مہم مقررہ وقت پر ختم ہونے کے بعد 7 جون کو پولنگ ہوگی جس کے ذریعے خطے کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس بار مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقوں میں 396 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ خطے کے 10 اضلاع میں قائم ان حلقوں میں گلگت، دیامر اور سکردو سیاسی لحاظ سے سب سے اہم تصور کیے جاتے ہیں، جہاں ہر ضلع میں چار چار نشستیں موجود ہیں۔ غذر اور گانچھے میں تین تین جبکہ نگر اور استور میں دو دو نشستیں رکھی گئی ہیں، جبکہ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ میں ایک ایک حلقہ شامل ہے۔

گلگت بلتستان کی سیاست کا ایک دلچسپ پہلو یہ رہا ہے کہ یہاں حکومت ہمیشہ اس جماعت کے حق میں بنی جس کی حکومت وفاق میں موجود تھی۔ 2009 میں پیپلز پارٹی، 2015 میں مسلم لیگ (ن) اور 2020 میں پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ یہاں بھی اقتدار حاصل کیا۔ اب 2026 میں چونکہ وفاق میں دوبارہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے، اس لیے سیاسی حلقے ایک بار پھر اسی "روایتی رجحان” کے تسلسل یا اس کے ٹوٹنے پر بحث کر رہے ہیں۔

اس وقت انتخابی میدان میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کو اس بار تنظیمی اور قانونی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اس کے بیشتر امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انتخابی نشان سے محرومی اور پارٹی ڈھانچے کی کمزوری نے اس کی انتخابی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران انتظامی غیر جانبداری اور سیاسی دباؤ سے متعلق الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض سیاسی رہنما جلسوں پر پابندیوں اور سیکیورٹی اداروں کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں، تاہم انتظامیہ ان تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے اور انہیں انتخابی قواعد کے مطابق کارروائی قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار انتخابی منشوروں میں خطے کے اصل مسائل، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، پانی کے بحران اور سیاحت کے امکانات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ زیادہ تر سیاسی بحث وفاقی سیاست اور روایتی جماعتی مقابلے تک محدود نظر آتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت مقابلہ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت ہے، جبکہ پی ٹی آئی آزاد امیدواروں کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا گلگت بلتستان 2026 کے انتخابات میں ایک بار پھر وہی سیاسی روایت دہرائے گا، یا اس بار عوام اپنی رائے کے ذریعے ایک نیا سیاسی رجحان قائم کریں گے جو اسلام آباد کی سیاست سے مختلف ہوگا؟

Back to top button