بھارتی آبی ڈاکہ، دریائے چناب کا پانی روکنے کا مکروہ منصوبہ بنا لیا

بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے پانی کو 8.7 کلومیٹر طویل زیرِ زمین ٹنل کے ذریعے بیاس کے نظام میں موڑنے کے منصوبے نے جنوبی ایشیا میں ایک نیا سفارتی اور آبی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی اور پانی کو بطور ’’اسٹریٹجک ہتھیار‘‘ استعمال کرنے کی کوشش قرار دے رہا ہے، جبکہ بھارت اسے اپنے آبی وسائل کے بہتر استعمال اور توانائی پیدا کرنے کا منصوبہ گردانتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم بھارت کی جانب سے اس آبی ڈاکے پر دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید شدت آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے ایک بڑے آبی منصوبے کے تحت دریائے چناب سے اضافی پانی کو ہماچل پردیش میں واقع دریائے بیاس کے نظام کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے 8.7 کلومیٹر طویل زیرِ زمین ٹنل تعمیر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ ’’چناب-بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ‘‘ کہلاتا ہے اور اس کی لاگت تقریباً 2620 کروڑ بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے۔ بھارتی حکام اور حکمران جماعت بی جے پی کے مطابق اس منصوبے کا مقصد چناب کے اُس پانی کو استعمال میں لانا ہے جو ان کے مطابق بغیر استعمال ہوئے آگے بہہ جاتا ہے۔ بھارتی مؤقف کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ پنجاب، ہریانہ اور راجستھان جیسی ریاستوں کی پانی کی ضروریات بھی بہتر طور پر پوری کی جا سکیں گی۔ بعض بھارتی حکام کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً 4000 میگا واٹ بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اس کے برعکس پاکستان نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق بھارت دریاؤں کے پانی کو بطور ’’اسٹریٹجک ہتھیار‘‘ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خطے کے استحکام، معیشت اور سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد نے اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اپنے آبی، خوراکی اور معاشی تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

تاہم پاکستانی اعتراضات اور تحفظات کے برعکس بھارتی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے اس منصوبے کے لیے ٹینڈر بھی جاری کر دیا ہے، جو ہماچل پردیش کے ضلع کوکسار میں تعمیر کیا جائے گا۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ قومی مفاد میں ہے اور اس کے ذریعے ملک کے آبی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں ایک حساس پیش رفت ہے، کیونکہ 1960 کے معاہدے کے تحت دریاؤں کے پانی کی تقسیم واضح طور پر طے کی گئی ہے اور دونوں ممالک یکطرفہ طور پر اس میں تبدیلی کے مجاز نہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ چناب کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے اور طویل مدت میں زرعی معیشت اور پانی کی دستیابی پر اثر ڈال سکتا ہے۔

تاہم بعض آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان کو فوری طور پر بہت بڑا نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ پانی مرکزی دریا کے بجائے ایک معاون آبی گزرگاہ سے موڑا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو چناب سے سالانہ جو مجموعی پانی ملتا ہے، اس کے مقابلے میں ممکنہ کمی نسبتاً محدود ہو سکتی ہے، تاہم اسے مکمل طور پر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم بھارت کو بھی اس منصوبے سے تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ہائیڈرو پاور سسٹم کے لیے پانی کے بہاؤ کا تسلسل ضروری ہوتا ہے، اور کسی بھی بڑے ردوبدل سے اس نظام کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے ہی سفارتی اور سرحدی تعلقات کشیدہ ہیں، اور آبی وسائل کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے اور پیچیدہ تنازع کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

Back to top button