امریکا ایران معاہدہ آخری مرحلے میں، منجمد فنڈز بڑا تنازع بن گئے

پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران معاہدہ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے،دونوں ممالک کے مابین منجمد فنڈز پر بیک ڈور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، تاہم ایران کے منجمد اثاثوں اور فنڈز کی بحالی کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز جاری کرنے کے طریقہ کار پر دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور یہی مسئلہ معاہدے کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے پر دستخط سے قبل ایران کو براہِ راست فنڈز جاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے تحفظات ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک اور متعلقہ فریقوں تک پہنچا دیے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے ایران کے منجمد اثاثوں کے انتظام کیلئے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مالی معاملات کو قابلِ قبول انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ایک امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے جس کے تحت امریکا براہِ راست ایران کو مالی وسائل یا فنڈز فراہم کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر منجمد فنڈز کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
