امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم کیسے حاصل کرے گا؟ ٹرمپ نے بتا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کیلئے باضابطہ معاہدہ ضروری نہیں، جبکہ ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں پر حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس وقت ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے خواہاں نہیں، تاہم اگر معاہدہ طے پا گیا تو ایسی ملاقات کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل کی تفصیلات جلد سامنے آ جائیں گی۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں امن کا قیام لبنان کے مفاد میں ہے اور وہاں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ کے حوالے سے بھی مختلف امور پر بات چیت کی گئی ہے۔یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ مسئلے کے حل کیلئے مصالحتی عمل ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان براہِ راست ملاقات مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں، جب تک کہ تہران براہِ راست امریکی فوجیوں کو نشانہ نہ بنائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ وسیع پیمانے پر علاقائی جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے خواہاں ہیں۔ ان کے نزدیک محدود نوعیت کے واقعات کے باوجود بڑے فوجی تصادم سے بچنا ترجیح ہے۔
