ادارے نیوٹرل رہیں تو پی ٹی آئی جیت نہیں سکتی

وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر ادارے نیوٹرل رہیں گے تو غیر جمہوری جماعتیں جیسے پی ٹی آئی جیت نہیں سکتی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کے دروان بلاول بھٹو نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کو شکایت ہے کہ ادارے نیوٹرل کیسے ہو گئے۔ اگر ادارے نیوٹرل رہیں گے تو غیر جمہوری جماعتیں جیسے عمران خان کی جماعت جیت نہیں سکتی ۔،عمران حکومت کو یہ بات معلوم ہے کہ 2018 میں دھاندلی سے یہاں آئے، جب صاف شفاف الیکشن ہوں گے تو انہیں بھاگنے کا موقع بھی نہیں دیا جائے گا۔
جنرل باجوہ نے عمران کے حالیہ اقدامات کی نفی کیسے کی؟
انکا کہنا تھا پیپلزپارٹی ملک میں جمہوریت اور صاف شفاف الیکشن اور عوام کے معاشی حقوق کے لیے تین دہائیوں سے جدوجہد کر رہی ہے،پیپلزپارٹی کو دھاندلی کے باوجود حکومت کا موقع ملا اس ملک میں پیپلز پارٹی کے خلاف دھاندلی ہوتی آرہی ہے ن کامزید کہنا تھا کہ شہید محترمہ بے نظیر اور بھٹو کی جماعت کو روکنے کے لیے دھاندلی ہوتی تھی، لیکن یہ جیت نہیں سکتے، ہم ہر آمر اور ظالم کا سامنا کرنے کے لیے تیارہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسے بھی اسمبلی چل سکتی ہے، آج قومی اسمبلی کا اجلاس بہت مناسب ماحول میں ہو رہا ہے، اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کم تعداد کے باوجود آپ نے بہت ٹائم دیا ہے، ہم اپوزیشن میں تھے تو کوئی بات نہیں کرنے دیتا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بار بار سندھ کے لوکل باڈی کا ذکر ہوتا آرہا ہے، مناسب ہوتا کہ یہ شکایت سندھ اسمبلی میں اٹھائی جاتی، شفاف الیکشن کی جدوجہد پی پی کرتی آرہی ہے، تعجب اس بات پر ہے کہ دھاندلی کا فائدہ اٹھانے والے ہی شور مچا رہے ہیں، ان کامزید کہنا تھا کہ دھاندلی سے فائدہ اٹھانے والے آج دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، عمران خان اداروں کو متنازعہ بنانے کی تحریک چلا رہے ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ ادارے نیوٹرل کیوں ہوئے، ادارے نیوٹرل نہ ہوئے تو خان صاحب جیت نہیں سکتے، ادارے نیوٹرل ہونا شروع ہوئے تو یہ لوگ پریشان ہونا شروع ہوگئے۔
انکا کہنا تھا الیکشن سے ایک دن پہلے یہ سارے سندھ ہائی کورٹ جمع ہوئے تھے کہ الیکشن سے بھاگیں، ابھی سے ان کا رونا شروع ہوگیا، ابھی انہوں نے مزید رونا دھونا ہے ۔ فیز ٹو میں بھی ہمارے مخالفوں کی ضمانت ضبط ہو جائے گی۔ ان کا خوف یہ ہے کہ ادارے مداخلت نہیں کریں گے اور اگر مداخلت نہیں ہوتی تو پیپلزپارٹی جیتے گی۔ لاڑکانہ سے الیکشن جیتنے پر ہم پر دھاندلی کا الزام لگتا ہے،یہ کس قسم کا مذاق ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسے بھی اسمبلی چل سکتی ہے، آج قومی اسمبلی کا اجلاس بہت مناسب ماحول میں ہو رہا ہے، اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کم تعداد کے باوجود آپ نے بہت ٹائم دیا ہے، ہم اپوزیشن میں تھے تو کوئی بات نہیں کرنے دیتا تھا۔
