کیا فائز عیسیٰ 2023 میں چیف جسٹس بن پائیں گے؟

2023 میں ممکنہ طور پرسپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس بننے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اسٹیبلشمنٹ نے مکمل طور پر دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے اور فیض کا جنازہ جانے کے باوجود فیض یابی کا عمل جاری ہے۔ جو فیض یاب لوگ ہیں وہ ایک جگہ بیٹھے نظر آتے ہیں اور جو فیض یاب نہیں ہیں وہ کہیں اور بیٹھے نظر آتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اسد علی طور نے نیا دور کے ساتھ گفتگو میں کیا۔ اسد طور نے کہا ہے کہ اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ میں دیوار کیساتھ لگایا جا چکا ہے۔ ان کو اہم بنچز میں بھی نہیں بٹھایا جاتا۔ ان کو تین کی بجائے دو رکنی بینچ دیا جاتا ہے تاکہ وہ فیصلہ دینے کیلئے دوسرے جج کے محتاج رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب یوں لگ رہا ہے کہ بنچز کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جوڈیشل کمیشن میں بھی سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کا بھی حصہ نہ ہوں۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ آئینی طور پر جسٹس فائز عیسیٰ کو جوڈیشل کمیشن سے نکال نکالا نہیں جاسکتا۔
سانحہ APS میں بچ جانے والا آکسفورڈ یونین کا صدر بن گیا
یاد رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سپین جاتے ہی سندھ اور لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے تا کہ وہ اپنی مرضی کے فیصلے کر سکیں۔
اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کے نام ایک خط لکھا ہے اور انکے اس عمل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسد علی طور کا کہنا تھا کہ ہمیں تو ابھی بھی لگتا ہے کہ فیض یابی کا عمل کہیں نہ کہیں جاری ہے۔ جو فیض یاب لوگ ہیں وہ ایک جگہ بیٹھے نظر آتے ہیں اور جو فیض یاب نہیں ہیں وہ کہیں اور بیٹھے نظر آتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ جو فیض یاب نہیں ہیں ان کو ابھی بھی سائیڈ لائن رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے والے سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ میں نے غلط ریفرنس دائر کیا تھا۔ تاہم عمران خان کا اصرار ہے کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں بلکہ تب کے وزیر قانون فروغ نسیم کا تھا۔ لیکن فروغ نسیم نے عمران کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس عمران خان کے دباؤ پر دائر کیا گیا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ ریفرنس آئی ایس آئی کے سابقہ چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ایما پر دائر کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد جسٹس فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے سے روکنا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ ریفرنس مسترد کر دیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ الجہاد ٹرسٹ کیس میں طے کیے گئے اصول کی روشنی میں 17 اگست 2023 کی صبح بطور چیف جسٹس آف پاکستان کے کورٹ روم نمبر ون میں موجود ہوں گے اور اس منصب پر فائز ہونے کے لیے انہیں وزیر اعظم یا صدر محترم میں سے کسی کی تائید، اجازت اور آشیرباد کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی کے پاس کوئی صوابدیدی اختیار ہے کہ دو یا تین ناموں سے کسی ایک کو بطور چیف جسٹس منتخب کر لے۔ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر سینیارٹی لسٹ میں جو ان کے بعد ہو گا وہ یہ منصب سنبھال لے گا۔ چنانچہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی 16 اگست 2023 کو ریٹائرمنٹ کے بعد 17 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان بن جائیں گے۔
یہ وقت بڑا اہم اور بڑا نازک ہو گا۔ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست 2023 تک ہے۔ یعنی جسٹس قاضی کے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے سے صرف تین دن پہلے اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ اسمبلی کے تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر عام انتخابات ہونے ہوتے ہیں۔ گویا آئندہ عام انتخابات کے وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔ انتخابی عمل کی الف ب سے آگہی رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہو گا۔ آسان تفہیم کے لیے یوں سمجھ لیجیے کہ کم از کم آر ٹی ایس کے بیٹھ جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ اگلے انتخاب میں اگر سکندر سلطان راجہ چیف الیکشن کمشنر ہوں اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں تو عام انتخابات کا ماحول ہی اور ہو گا۔ نہ انتظامیہ میں یہ ہمت ہو گی کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کا فون سننے سے انکار کر دے اور نہ ہی آر ٹی ایس میں یہ جرات ہو گی کہ وہ عین وقت پر ضد کر جائے کہ میں تو بیٹھنے لگا ہوں۔ لہذا دہائیوں سے الیکشن نتائج کی انجینئرنگ کرنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اگلا چیف جسٹس بننے سے روکنا چاہتی تھی لیکن بظاہر اس کی یہ کوشش ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
