IMFسے معاہدہ، امریکہ کریڈٹ لینے والوں میں سب سے آگے

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3 ارب ڈالر سٹیٹ بنک میں ڈیپازٹ کرنے کے بعد امریکی حمایت سے عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 3ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان کے آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد امریکہ کریڈٹ لینے والوں میں سب سے آگے ہے اور عمران خان کی طرح دعوی کر رہا ہے کہ اگر امریکہ حمایت نہ کرتا تو پاکستان کو کبھی بھی آئی ایم ایف سے قرض نہ ملتا۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے منظوری کے بعد 1.2 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کردیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 9 ماہ کے دوران 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے کی منظوری دے دی ہے تاکہ پاکستان کے معاشی استحکام کے پروگرام کو سپورٹ کیا جا سکے۔اس سلسلے میں کہا گیا کہ یہ اس معاہدے کا انتظام ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب پاکستانی معیشت مشکل حالات سے گزر رہی ہے، مشکل بیرونی ماحول، تباہ کن سیلاب اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے اسے بڑے مالی اور بیرونی خسارے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیزی سے ختم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

گزشتہ ماہ ہونے والے اس معاہدے کے لیے پہلی قسط کے اجرا سے قبل آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار تھی اور اب پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری کر دی جائے گی جبکہ بقیہ دو اقساط سہ ماہی بنیادوں پر دو جائزوں کے بعد جاری کی جائیں گی۔واضح رہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب  11 جولائی کو سعودی عرب نے پاکستان کو 2ارب ڈالر قرض فراہم کیا تھا اور 12 جولائی کو متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا قرض دیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ بھی آئی ایم ایف کے پاکستان سے ہونے والے معاہدے کا کریڈٹ لیتا نظر آتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے انتظامات کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی۔ اس ضمن میں واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ میں جو کہوں گا وہ یہ ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان عملے کی سطح کے معاہدے تک پہنچنے کی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی اقتصادی کامیابی کے لیے ہماری حمایت غیر متزلزل ہے اور ہم تکنیکی مصروفیات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے اور اپنے تجارتی و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مستحکم کرتے رہیں گے۔تاہم امریکی عہدیدار نے خبردار کیا کہ ’پاکستان کو معاشی بحالی اور خوشحالی کے طویل المدتی پائیدار راستے پر گامزن ہونے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی ہے،‘ ساتھ ہی یقین دلایا کہ ’ہم اس عمل میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘

 عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری ملنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی منظوری معیشت کو مضبوط بنانے اور میکرو اکنامک استحکام کے حصول کے لیے حکومت کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی منظوری سے فوری سے درمیانی مدت کے معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی اقتصادی پوزیشن کو تقویت ملے گی اور آئندہ حکومت کو آگے بڑھنے کے لیے مالیاتی وسائل میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگ میل جو کہ سخت ترین مشکلات اور بظاہر ناممکن لگنے والی ڈیڈ لائن کے خلاف حاصل کیا گیا ٹیم کی بہترین کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

دوسری جانب امریکی ادارے بلومبرگ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد ملک کے لیے فنڈنگ کے ماحول میں بہتری آئی ہے اور رواں ہفتے عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ نے بھی پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کر کے ’ٹرپل سی‘ کر دی ہے۔ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کو جولائی میں شروع ہونے والے مالی سال میں 23 ارب ڈالرز کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کرنی ہیں جو کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے 6 گنا زیادہ ہیں، ان ادائیگیوں کے لیے آئی ایم ایف کا قرضہ معاون ثابت ہو گا۔بلومبرگ نے کہا کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ جولائی کے دوران عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی منڈیوں میں شامل ہے جبکہ ڈالر بانڈز میں ایک ماہ کے دوران 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ جون میں جاری کیے گئے پہلے شیڈول میں پاکستان ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، جس سے قیاس آرائیوں نے جنم لیا کہ آئی ایم ایف 30 جون کو ختم ہونے والے سابقہ پروگرام کے تحت فنڈز جاری نہیں کرے گا۔تاہم 29 جون کو آئی ایم ایف اور پاکستان نے ملک کا معاشی بحران کم کرنے کے لیے عملے کی سطح پر 3 ارب ڈالر اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ کیا۔اس معاہدے کا پاکستان کو طویل عرصے سے انتظار تھا جس کی ڈولتی معیشت ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کا سامنا کر رہی تھی۔تقریباً 8 ماہ کی تاخیر کے بعد ہونے والا یہ معاہدہ جولائی کے وسط میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط تھا، جس سے ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران اور گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے مشکلات کا شکار پاکستان کو کچھ مہلت ملے گی۔9 مہینوں پر محیط 3 ارب ڈالر کی فنڈنگ پاکستان کے لیے توقع سے زیادہ ہے، کیونکہ ملک 2019 میں طے پانے والے 6.5 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے بقیہ ڈھائی ارب ڈالر کے اجرا کا انتظار کر رہا تھا، جس کی میعاد گزشتہ ماہ ختم ہو گئی تھی۔

Back to top button