نیازی نے خٹک کو بے عزت کر کے PTIسے کیوں نکالا؟

عمران خان نے احسان فراموشی کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے سابق قریبی ساتھی، تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے پر نہ صرف پارٹی سے نکال دیا بلکہ سابق ڈکٹیٹر جنرل ایوب کے صاحبزادے اور پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کے دستخطوں سے سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کرنے کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کروا دیا۔اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پرویز خٹک پر کارکنوں کو پارٹی چھوڑنے کے لیے اُکسانے کا الزام تھا تاہم انہوں نے مقررہ وقت میں شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا جس کے بعد ان کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پرویز خٹک نے دو جون کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرکے پی ٹی آئی کی صوبائی صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد پارٹی سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس پرویز خٹک کو 21 جون کو بھیجا گیا تھا اور ان سے سات دن میں اس کا جواب طلب کیا گیا تھا۔نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر آپ کا جواب غیر تسلی بخش ہوا یا آپ جواب نہیں دیتے ہیں تو پارٹی کی پالیسی اور قواعد کے مطابق آپ کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ پرویز خٹک 2013 کے الیکشن میں نوشہرہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر وزیراعلٰی خیبر پختونخوا منتخب ہوئے تھے۔سنہ 2018 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انہیں وزیر دفاع کا قلم دان سونپا تھا۔
9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک منظر سے غائب ہوگئے تھے جس سے ان کی پارٹی سے دُوریاں پیدا ہوگئیں۔سابق وزیراعلٰی پر الگ گروپ بنانے اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پارٹی چھوڑنے کے لیے اُکسانے کا الزام بھی لگایا گیا۔ان پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی سے بھی رابطے قائم کیے رکھے۔ پی ٹی آئی کے مطابق ’پرویز خٹک نے نہ صرف پارٹی کے ناراض قائدین سے رابطہ کیا بلکہ نظریاتی ورکرز کو پارٹی چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا جس کی شکایت عمران خان تک پہنچائی گئی۔‘پارٹی عہدیداروں کے مطابق پرویز خٹک اپنے حلقے کی نجی محفلوں میں عمران خان کو 9 مئی کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیتے رہے۔
خیال رہے کہ پرویز خٹک عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اپوزیشن سے مذاکرات ہوں یا حکومتی کمیٹی سے بات چیت، پرویز خٹک ہر کمیٹی میں شامل ہوتے تھے۔ دوسری جانب اگرچہ پی ٹی آئی نے سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک کی پارٹی رکنیت ختم کرکے انھیں پارٹی سے نکال دیا ہے تاہم تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کا خیال ہے کہ پرویز خٹک پہلے سے پارٹی سے دور ہو گئے تھے جس کی وجہ عمران خان سے ان کی ناراضگی تھی۔
اندرونی معاملات سے واقف تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق وفاق میں حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پارٹی کے کچھ رہنما اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے اور پارٹی میں اس پر تحفظات بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات اس وقت منظرعام پر آئی جب عمران خان کو پتہ چل گیا کہ کچھ ساتھی تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کو ختم کرنے خلاف تھے اور اسٹیبلشمنٹ سے مل کر خیبر پختونخوا میں محمود خان کی جگہ عاطف خان کو وزیراعلی بنانے کی مبینہ تیاری مکمل کر چکے ہیں۔ پرویز خٹک، فواد چوہدری، اسد عمر اور حماد اظہر نے مبینہ طور پر یہ تیاری کی تھی اور عاطف خان کو مبارک بار بھی دے چکے تھے۔پارٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ جب عمران خان تک یہ بات پہنچی تو وہ سخت ناراض ہوئے اور فوری طور پر اسمبلیاں توڑنے کا اصولی فیصلہ کر لیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس کے بعد پارٹی کے اندر سے بھی آوازیں آنے لگیں کہ کون اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہے اور اس کے بعد سے پرویز خٹک، فواد چوہدری، اسد عمر اور حماد اظہر خان کی گڈ بک سے نکل گئے تھے۔
تحریک انصاف میں عمران خان اور پرویز خٹک کے قریب رہنے والے ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ قبل پرویز خٹک کی بیوی وفات ہوئی تھی اور لاہور میں ہی تعزیت کے لیے خٹک بیٹھے تھے لیکن عمران خان نہیں گئے اور نہ ہی فون کیا۔ جس پر بھی پرویز خٹک کو دکھ تھا۔ مشکل کی گھڑی میں عمران خان نے پرویز خٹک کو یاد تک نہیں کیا۔ جس کے بعد پرویز خٹک کو زمان پارک جاتے یا عمران خان سے ملتے نہیں دیکھا گیا۔ یہاں تک کہ پرویز خٹک کہاں اور کیا کرتے تھے کسی کو خاص پتا نہیں ہوتا تھا اور 9 مئی کو گرفتاری کے بعد بھی پرویز خٹک غائب رہے اور کہیں نظر نہیں ائے۔ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان کو اندازہ تھا کہ پرویز خٹک کسی بھی وقت پارٹی چھوڑ دیں گے۔ پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کا ایک سیاسی جماعت کے ساتھ رابطہ تھا اور کچھ حد تک کچھ معاملات بھی طے ہوئے تھے لیکن جہانگیر ترین کے اچانک منظر عام پر انے کے بعد اب صورت حال تبدیل ہوگئی تاہم وہ اب وہ پارٹی سے نکالے جانے کے بعد آزاد حیثت سے الیکشن میں جانے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ 73 سالہ پرویز خٹک نوشہرہ کے منکی شریف میں اس وقت کے نامور گورنمنٹ ٹھیکیدار کے ہاں پیدا ہوئے۔ پرویز خٹک اپنی ساسی سفر کا اغاز 1983ممبر ڈسٹرک کونسل نوشہرہ سے کیا تھا اور کامیابیوں کا ایکنہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک تھے۔
پرویز خٹک وزیر آب پاشی اور 2 مرتبہ وزیر صنعت و پیداوار بھی رہے۔ سال 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سے ممبر خیبر پختونخوا منتخب ہوئے اور پی ٹی ائی کے پہلے وزیراعلی بن گئے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہیں تحریک انصاف حکومت میں وزیر دفاع کا قلمدان دیا گیا۔ پرویز خٹک کو سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور وہ عمران خان کے انتہائی قریبی تصور کیے جاتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ سیاسی فیصلوں میں وہ عمران خان کو مشورہ بھی دیتے تھے اور میٹنگز کے دوران کچھ معاملات پر کھل کر مخالفت
کاجول کو بھارتی سیاستدانوں کو ان پڑھ کہنا مہنگا کیسے پڑا؟
بھی کیا کرتے تھے۔
