کاجول کو بھارتی سیاستدانوں کو ان پڑھ کہنا مہنگا کیسے پڑا؟

بھارتی ادکارہ کاجول سیاستدانوں کو ان پڑھ کہنے پر تنقید کی زد میں آ گئیں، سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ کو جہاں تنقید کا نشانہ بنایا تو وہیں کچھ صارفین نے ان کا بھرپور ساتھ بھی دیا۔بالی وڈ اداکارہ کاجول کو ان کے ایک حالیہ بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس میں بظاہر ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں ’غیر تعلیم یافتہ‘ سیاست دانوں کی حکومت ہے، جن کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔

کاجول نے اپنی نئی آنے والی ویب سیریز کے حوالے سے دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا جیسے ملک میں تبدیلی بہت کم ہے کیونکہ ہم اپنی روایات میں پھنسے ہوئے ہیں اور اپنی سوچ کے عمل میں ڈوبے ہوئے ہیں، یقیناً اس کا تعلق تعلیم سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان (سیاستدانوں) میں سے زیادہ تر کا نقطہ نظر وہ نہیں ہے، جو میرے خیال میں تعلیم آپ کو دیتی ہے، یا کم از کم (چیزوں کو) ایک مختلف نظریے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ کاجول کے اس بیان کے بعد وہ انڈیا میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگیں، جہاں بہت سے لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تو کچھ نے ان کا دفاع کیا جبکہ کچھ لوگوں نے اسے مختلف سیاسی رہنماؤں سے جوڑنا شروع کر دیا۔

گگن نائیک نے کاجول کو ’سکول سے نکالے جانے‘ کا طعنہ دیتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’بے شک ہمیں ایک سکول ڈراپ آؤٹ کی قومی مسائل اور دوسروں کی تعلیمی قابلیت پر بات کرنے کی تعریف کرنی ہو گی۔‘

امت سنگھ رجاوت نے کاجول کو ان کے شوہر اور بالی وڈ اداکارہ اجے دیوگن پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے آپ کو اپنے شوہر اجے دیوگن سے گٹکے کی تشہیر بند کرنے کے لیے کہنا چاہئے۔

انڈین صارف چراغ پٹیل نے کاجول کا ساتھ دیتے ہوئے لکھا: ’وہ اتنی تعلیم یافتہ نہیں ہیں لیکن وہ ملک نہیں چلا رہیں۔ وہ اپنی تعلیم میں جعل سازی نہیں کر رہیں اور ملک کے لوگوں سے جھوٹے وعدے نہیں کر رہیں جیسا کہ غیر تعلیم یافتہ سیاست دان کر رہے ہیں، ان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔

سارتھ نامی صارف نے بھی اداکارہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا کا بھی یہی حال ہے اور ہاں اہلیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج کل کوئی بھی فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے نیوز چینل چلا سکتا ہے، ویویک نامی صارف نے اس ساری بحث کو اپنے مزاحیہ انداز میں ایک مکالمے کی شکل دیتے ہوئے اسے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی طرف موڑ دیا۔

ونے کمار نامی صارف نے تنقید کی بجائے ہلکے پھلکے انداز میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور کاجول کی ایک پرانی تصویر شیئر کرتے ہوئے بظاہر مودی کی طرف سے لکھا کہ میں تمہیں دل سے کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا کاجول۔صحافی سواتی چترویدی نے انڈیا پوسٹ کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’مودی کی ٹرول آرمی نے کاجول کو نشانہ بنا کر کاجول کے نکتے کو ثابت کر دیا ہے۔ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ صرف مودی ہی ان پڑھ ہیں؟ انھوں نے تو ان کا نام نہیں لیا۔

انو سہگل نامی ایک سابق صحافی نے لکھا کہ ’ستم ظریفی کی تو موت ہی ہو گئی! جو خود سکول ڈراپ آؤٹ ہو، بد تہذیب ہو، اقربا پروری کی پروردہ ہو، ماں تنوجا (اداکارہ) ہو، خوش قسمتی سےگٹکے کا پرچار کرنے والے اجے دیوگن (اداکار) کی اہلیہ ہو! اور وہ رہنماؤں پر تنقید کرے!‘

نیمو یادو نامی صارف نے کاجول اور ان کے شوہر اجے دیوگن کی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ کاجول ہیں، بالی وڈ کی اداکارہ۔ مبینہ طور پر وہ بی جے پی کی حمایت کرنے

’بے نظیر بھٹو اور ملالہ یوسفزئی دنیا کی بااثر خواتین قرار

میں پیش پیش رہی ہیں

Back to top button