سپریم کورٹ کا فیصلہ IMF سے ڈیل میں رکاوٹ قرار

سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے انعقاد کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو براہ راست الیکشن کمیشن کو21 ارب روپے کی رقم جاری کرنے کی ہدایت کو جہاں حکومتی اختیارات سلب کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے وہیں عدالتی فیصلے کے بعد آئی ایم ایف سے جلد ہونے والی ڈیل بھی متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی رضامندی کے بغیر وزارت خزانہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری اور جاری نہیں کر سکتی جس کے لیے بعد ازاں قومی اسمبلی کی پوسٹ فیکٹو منظوری درکار ہوتی ہے۔
پپبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 واضح طور پر اس کی وضاحت کرتا ہے کہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کی تحویل کے عنوان کے تحت فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کا آپریشن وفاقی حکومت کی مجموعی نگرانی کے تحت فنانس ڈویژن کے ماتحت کام کرے گا۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے انتخابات کیلئے پارلیمنٹ کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ مسترد ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر سٹیٹ بنک کو براہ راست الیکشن کمیشن کو فنڈز کی فراہمی کا حکم دے دیا ہے۔تاہم اگر سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک الیکشن کے اخراجات کے لیے 21 ارب روپے کا فنڈز جاری کرتا ہے تو آئی ایم ایف بھی اس پر اعتراض کرسکتا ہے جس سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاملات میں مشکلات پیش آسکتی ہیں.
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئربینکار اور اقتصادی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختاری آئی ایم ایف نے دلائی ہے اور الیکشن کے لیے فنڈجاری کرنے سے پہلے اسٹیٹ بینک کو بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بھی منظوری لینا ہوگی‘حکومت نے آئی ایم ایف کی جو شرائط مانی ہیں اس میں یہ بھی شامل ہے کہ بجٹ خسارے کو کنٹرول میں رکھا جائے گا .الیکشن کے لیے فنڈز جاری کرنے سے بجٹ خسارہ بڑھ جائے گا جو معاہدہ کی خلاف ورزی کے زمرے میں بھی آئے گا‘ کیونکہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں بھی الیکشن کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے ۔
ڈاکٹرشاہد حسن صدیقی کا کہناتھاکہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اسٹیٹ بینک مشکل میں پھنس گیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر کس طرح عمل کرے گا‘یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس پر سپریم کورٹ کو غور کرنا چاہیئے‘ اس فیصلے سے ملکی معیشت جو پہلے ہی مشکل میں ہے اور زیادہ مشکل میں آجائے گی ۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے پیشگی منظوری لئے بغیر 21 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے پر عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان سے ہونے والی ڈیل اور قسط کا اجراء روک سکتا ہے۔اگر خدانخواستہ یہ قسط نہیں ملی توپھر یہ خطرہ بہت سنگین ہے کہ ہم اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی نہ کرسکیں کیونکہ ہمارا ریزروصرف4 ارب ڈالر رہ گیا ہے جوکہ انتہائی خوفناک حد تک کم ہے‘.
دوسری جانب قومی اسمبلی نے اس حوالے سے مذمتی قرارداد داد منظور کر لی ہے۔ قومی اسمبلی کی منظور کردہ مذمتی قرارداد داد میں قرار دیا گیا ہے کہ بجٹ اور مالیاتی بل کی منظوری پارلیمنٹ کا اختیار ہے ‘کوئی ادارہ پارلیمنٹ کے اس اختیار کو چھین نہیں سکتا اور نہ ہی معطل یا منسوخ کرسکتا ہے‘ریاست کے ایک عضونے آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے ‘وفاقی حکومت اس سنگین آئینی خلاف ورزی کا بغور جائزہ لے کر اس کی درستگی کے لئے آئین اور قانون کے مطابق اقدامات کرے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں علی موسیٰ گیلانی نے قرارداد پیش کی ۔قرار داد میں کہاگیاکہ یہ ایوان پارلیمان کے قانون سازی کا مسلمہ دستوری اختیار سلب کرنے کی سپریم کورٹ کی جارحانہ کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز کے اجرا کے حوالے سے سپریم کورٹ نے تحریری حکم جاری کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بنک کو پیر تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا ہے،دوران سماعت ججز نے الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہ کرنے پر اظہار برہمی بھی کیا،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ جب پارلیمنٹ نے فنڈز دینے سے منع کر دیاتو حکومت کیسے دے سکتی ہے، تاہم پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ 21 ارب روپے پیر تک فراہم کیے جا سکتے ہیں، اسٹیٹ بینک یہ رقم الیکشن کمیشن کے اکاؤنٹ میں فوری منتقل کرے، الیکشن کمیشن فنڈز منتقل ہوتے ہی انتخابی عمل کیلئے استعمال کرے۔ حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اسٹیٹ بینک اور وزرات خزانہ 18 اپریل تک فنڈز فراہمی کے حکم پر عمل درآمد رپورٹ پیش کریں۔
