مہنگے پٹرول کا جرم عمران نے کیا لیکن بھگتے کا شہباز

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران 60 روپے فی لٹر کا ہوشربا اضافہ کرنے والی شہباز شریف حکومت مسلسل عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسا کرنا ایک مجبوری تھی چونکہ یہ معاہدہ عمران حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا جس سے بھاگنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن شہباز حکومت لاکھ کہے کہ یہ عمران کے فیصلوں کا نتیجہ ہے یا یہ کہ قیمتیں بڑھاتے ہوئے ان کے آنسو نہیں تھم رہے تھے، لوگ ان پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ حالات تو اتنے ابتر ہو گے ہیں کہ نواز لیگ کے اپنے سپورٹر بھی مہنگائی کا دفاع کرنے کے بجائے خاموشی اپنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

 

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن

امریکا کے لیے اسامہ کی مخبری کرنے والا افسر اب کہاں ہے؟

اور خاتون صحافی ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ ہمیں مہنگائی کے طوفان کی خبر تو تھی مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ طوفان اتنا اچانک، اتنا زوردار اور اتنا تباہ کن ہو گا۔ اسکا آغاز روپے کی قدر میں کمی سے ہوا مگر روپے ڈالر کا اتار چڑھاؤ کم آمدنی اور متوسط طبقے کو براہ راست کم ہی محسوس ہوتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ البتہ فورا اپنے اثرات چھوڑتا ہے۔ ایک ہی ہفتے میں 60 روپے کے اضافے نے لوگوں کے ہوش اڑا دیے اور جو بچے تھے وہ بجلی اور گیس کی قیمتوں سے ہَوا ہو گے۔ ایک طرف قیمتیں بڑھیں اور دوسری طرف بجلی غائب ہو چکی ہے۔ اب ایک طرف لوڈ شیڈنگ ہے اور دوسری طرف مہنگائی۔ لوڈ شیڈنگ شاید کم ہو جائے مگر مہنگائی تو رہنے کے لیے آئی ہے اس لیے کمر کس لیں کہ اگلے کچھ ہفتے نہیں بلکہ مہینے اور سال مشکل ترین ہوں گے۔

ماریہ کا کہنا ہے کہ مہنگائی موجودہ حکومت کے کندھوں پر سوار ہو کر آئی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ حکمران اتحاد نے بڑے شوق، مشکل اور کوشش سے حکومت بھی حاصل کی ہے اور عوام کو مہنگائی کا تحفہ بھی دیا ہے۔ یہ کہنا اب لاحاصل ہے کہ اگر یہ نہ بھی آتے تو اسی طرح مہنگائی ہوتی۔ اب حکومت آ چکی اور اپنے ہاتھوں سے قیمتیں بھی بڑھا چکی۔ اب یہ لاکھ کہیں کہ یہ سابق حکومت کے کیے ہوئے فیصلوں کا نتیجہ ہے یا یہ کہ قیمتیں بڑھاتے ہوئے ان کے آنسو نہیں تھم رہے تھے، کوئی اس پر یقین کرنے والا نہیں۔ ان کے اپنے سپورٹر بھی اس مہنگائی کو دفاع کرنے کے بجائے خاموشی کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ حکومتی اتحاد میں موجود ن لیگ کا انقلابی یا جارح گروپ تو اب کھلے عام تنقید کر رہا ہے کہ ن لیگ کو اس موقعے پر حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔

شہباز شریف کا حامی گروپ البتہ ابھی بھی شاک میں ہے خصوصاً اس وقت جب پنجاب کی وزارت اعلٰی وزیر اعظم کے صاحبزادے کے پاس ہے۔ اسمبلی کے ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں اور وزیراعظم اور وزیراعلٰی عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ عمران خان کی سیاست کے لیے یہ حالات ایک بوسٹر ڈوز ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان میں لمحہ بہ لمحہ سیاسی صورتحال میں ان کا لانگ مارچ توقع سے کم موثر ثابت ہوا۔ حکومت کے اندر بھی پولیس کریک ڈاؤن اور ایکشن پر ایک دوسرے کو شاباش دی گئی۔

ماریہ کے بقول اس دوران پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ میں واپسی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پی ٹی آئی ایک روایتی اپوزیشن کے رول کی تیاری کر رہی ہے۔ مہنگائی کے ساتھ ہی سیاسی منظر نامہ ایک بار پھر عمران خان کے حق میں شفٹ ہو گیا ہے۔ بغیر تحریک اور لانگ مارچ کے ہی حکومت کی سپورٹ اگر کچھ بڑھی بھی تھی تو اس کو ریورس گیئر لگ چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی سپورٹ البتہ پانچویں گیئر میں ہے۔ اب جبکہ مہنگائی کے جلدی کم ہونے کے امکانات نہیں، پی ٹی آئی کے لیے ایک سال گزارنا بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا۔ جب بھی الیکشن ہوں گے، ن لیگ اس میں بیک فٹ پہ ہی ہو گی۔ شہباز شریف لاکھ کہیں کہ ان سے دو مہینے کا حساب کیا جائے اور پچھلے ساڑھے تین سال کو نہ بھولا جائے لیکن عوام تو جو حکومت موجود ہو گی اسی کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔

اس ضمن میں مریم نواز ہی اگلے الیکشن میں ن لیگ کے ترکش کا اہم تیر ہوں گی کہ حکومت میں نہ ہوتے ہوئے وہ پی ٹی آئی پر نشانہ بازی جاری رکھیں گی۔ الیکشن میں اس کا کتنا اثر ہو گا، اس کا اندازہ ابھی قبل از وقت ہو گا مگر ن لیگ الیکشن میں بطور اپوزیشن نہیں بطور حکومت ہی جائے گی۔ن لیگ اور پی ٹی آئی کے بدلتے مقدروں کے ساتھ ساتھ ایک پارٹی ایسی ضرور ہے جو اقتدار کے بھر پور فائدے لیتے ہوئے تنقید سے پہلو بچانے میں کامیاب ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے بعد وفاقی حکومت میں آ چکی ہے۔ بلوچستان میں تقریباً شریک ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں انتظامی عہدوں کے ذریعے سیاسی اثر بڑھا چکی ہے اور اس کے باوجود سیاسی تیر اندازی کا ہدف صرف ن لیگ ہے۔ ماریہ میمن کہتی ہیں کہ کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم، وزیر خزانہ، داخلہ اور توانائی کی ذمہ داری کے ساتھ ان کو اس کی توقع بھی ہونی چاہیے تھی مگر پیپلز پارٹی دونوں طرف کے بیانیے کی جنگ سے مبرا جوڑ توڑ کے ذریعے اپنا سیاسی اثر بڑھانے میں مصروف ہے اور ساتھ ساتھ ان کے وزرا راڈار سے نیچے نیچے رہتے ہوئے حکومت پر ہونے والی تنقید سے بھی بری الذمہ ہیں۔

بلاشبہ آصف زرداری شروع سے ہی فوری انتخابات کے حق میں نہیں تھے اور جس طرح موجودہ صورتحال ان کے لیے وِن وِن ثابت ہوئی ہے تو کم از کم بلاول بھٹو بیرونی دورے کرتے ہوئے ضرور اپنے والد صاحب کی سیاسی مہارت پر عش عش کر رہے ہوں گے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے پاس کچھ نہ کچھ امید ضرور ہے حتی کہ ن لیگ کے پاس بھی جن کے سربراہ اور کیسز کا سامنے کرتے کرتے اقتدار میں پہنچ تو ضرور گئے۔ عوام کے پاس البتہ امید اور سہولتوں دونوں کا سٹاک ختم ہو رہا ہے۔ سیاست سے مہنگائی تلے پسی ہوئی عوام کے مسائل حل ہوں نہ ہوں مگر معاشی مسائل جب لوگوں کے گھروں اور جیبوں تک براہ راست پہنچیں تو سیاسی ٹمپریچر بھی اس وقت بڑھتا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اگلا سال اسی ہائی ٹمپریچر میں گزرے گا اس لیے کمر کس لیں عوام بھی اور حکمران بھی۔

Back to top button