عمران جمہوریت کی کشتی ڈبونے والے راستے پر چل نکلے

سینئر صحافی امتیاز عالم نے کہا ہے کہ صدارتی نظام کے حمایتی بھول گے کہ اس کا مطلب اکثریتی صوبے پنجاب کی باقی تین صوبوں پر بالادستی اور مطلق حکمرانی قائم کرنا ہے جس سے پیدا ہونے والی نفرت کے نتیجے میں ہم ماضی میں مشرقی پاکستان بھی کھو چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اب عمران خان یہ چورن بیچنے نکل پڑے ہیں حالانکہ اس سے جمہوریت کی کشتی ڈوب سکتی ہے۔

اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ تاریخ آگے بڑھتی جاتی ہے اور اس کے نت نئے تقاضے ایجنڈے پہ آتے چلے جاتے ہیں، لیکن مملکتِ خداداد کا فکری چلن نرالا ہے کہ ماضی کے بری طرح پٹے پٹائے نسخے بار بار جھاڑ جھونک کر پیش کیے جاتے ہیں اور اسلاف کے سنہری زمانے کے خواب سیاست کے دنیاوی بازار میں ایسے بیچے جاتے ہیں جیسے واقعی روحانی قلبِ ماہئیت درکار ہو۔ آج کل پھر سے مغلوب پارلیمانی سیاست کی مٹی پلید کی جارہی ہے اور صدارتی نظام کی خوبیوں کے گیت گائے جارہے ہیں۔

عمران خان بیک وقت ایوب خان کے ’’ترقی کے ماڈل‘‘ کی خوبیاں بیان کرتے کرتے تان توڑتے ہیں تو ریاستِ مدینہ پر اور یہ بھول کر کہ یہ دونوں سیاسی و نظریاتی اصطلاحیں اپنے تاریخی پس منظر اور معنی میں انتہائی مختلف اور ناقابل موزانہ ہیں۔ امتیاز کے مطابق نوآبادیاتی دور کے وائسرائی نظام کے پروردہ سول و ملٹری نوکر شاہی ڈھانچے اپنے اختیارات و مفادات کے لیے صدارتی یا پھر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے شب خون کے متلاشی رہتے ہیں جس کا آغاز گورنر جنرل کے عہدے کی صورت میں ہوا تھا۔

پاکستان بننے پر 1935کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ جس میں گورنر جنرل کلیدی اہمیت کا حامل تھا، کے علاوہ کوئی انتظام نہ تھا، لہٰذا قائداعظم محمد علی جناح گورنر جنرل ٹھہرے جو کہ ایک عبوری انتظام تھا لیکن گھات میں بیٹھے نوکر شاہی کے سرغنہ اس انتظار میں تھے کہ کسی طرح گورنر جنرل کے منصب کو ہتھیا کر جمہوری نظام کو چلتا کیا جائے۔ خواجہ ناظم الدین کی جگہ ملک غلام محمد گورنر جنرل بنے پھر سکندر مرزا اور اُن سے فیلڈ مارشل ایوب خان نے اقتدار سنبھال کر پاکستان میں مارشل رول کی بنیاد ڈال دی۔

بعد ازاں تین فوجی حکومتوں میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز نے صدارتی نظام کے مختلف چربوں کو اپنی اپنی سیاسی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جن میں مثبت نتائج والی گماشتہ مقننہ کو بطور صدارتی ربڑ اسٹیمپ کے استعمال کیا گیا۔

امتیاز عالم کے بقول، جنرل ایوب کا بنیادی جمہوریتوں کا نظام ہو، جنرل ضیاء الحق کا غیرسیاسی مقننہ ہا یا جنرل مشرف کا مصنوعی سیاسی بندوبست، یہ سب عوامی نمائندگی کی قبر کھود کر مسلط کیے گئے۔ ہر صدارتی فوجی ڈکٹیٹر کے زوال پہ ان کا گھڑا ہوا سیاسی اور نظریہ ضرورت کا ڈھانچہ بھی زمین بوس ہوتا رہا اور یوں جناح کا پاکستان جمہوریت کے راستے پہ گامزن نہ ہو سکا، اس کے نتیجے میں جو نقاہت جمہوری ادوار کو میسر آئی وہی ان کے زوال کا باعث بنی اور پھر سے صدارتی نظام کا ریکارڈ بجایا جاتا رہا۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ آج کل بھی ٹیلی ویژن اسکرینوں پر سند یافتہ نیم خواندہ ماہرین ہمیں صدارتی نظام کی افادیت پہ لیکچر دیتے اور پارلیمانی نظام کو کوستے نظر آتے ہیں جسے منصوبہ بند طور پر اپاہج بنا کے رکھا گیا ہے۔

ہم عمران خان کی زبان سے ایوب خان کے ’’عشرہ ترقی‘‘ کی تعریفین بھی سنتے ہیں اور ریاستِ مدینہ کی جانب رجوع کرنے کی روحانی خواہش بھی۔ شاید خان صاحب کو معلوم نہیں کہ ایوب خان کی ’’ترقی کا ماڈل‘‘ ہارورڈ کے معاشی مکتب کے ماہرین گستاف ایف پاپا نیک وغیرہ نے ترتیب دیا تھا جس کا رہنما اصول تھا لالچ کا سماجی افادہ یعنی Social Utility of Greed۔ اس لالچ کے نظریے کی رو سے عدما برابری کی حکمت عملی کو اپنایا گیا جس کے نتیجے میں دولت کو چند خاندانوں میں مرکوز کرکے مخصوص علاقوں کی ترقی پہ زور دیا گیا کہ شاید اس سے ترقی کے کچھ چھینٹے مظلوم طبقوں اور محروم علاقوں کو بھی مل پائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔

تمام دولت چند اجارہ دار، سرمایہ دار خاندانوں میں مرکوز ہو گئی اور مشرقی پاکستان سمیت مغربی پاکستان کے چھوٹے صوبے محرومیوں کے اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔  بیرونی طور پر اس ماڈل کا انحصار بیرونی ’’امداد‘‘ اور عالمی سامراجی سرپرستی پر تھا جو پاکستان کے مغربی فوجی معاہدوں، سیٹو، سینٹو اور بغداد پیکٹ کے ذریعہ میسر آگئی۔ یوں پاکستان ’’اتحادیوں میں بڑے اتحادی‘‘ کے طور پر سامنے آیا اور اس دست نگری اور مغربی کاسہ لیسی کے رشتے کے باعث ایوب خان امریکہ اور مغرب کی آنکھ کا تارا بنے۔ جس کی خان صاحب ہمیں بار بار یاد دلاتے ہوئے برا محسوس نہیں کرتے۔ لیکن ’’ترقی کا یہ ماڈل‘‘ بھی سراب ثابت ہوا۔

شہزاد اکبر نے کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کیسے کالا کروایا؟

بقول امتیاز عالم، 1969 سے 1965 کے دور میں یہ ماڈل اوپر اُٹھایا گیا اور 1965 اور 1970 کے زمانے میں زمین بوس ہو گیا۔ اس کے ذریعے جو طبقاتی و علاقائی تفریق پیدا کی گئی اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان نے آزادی حاصل کرکے ترقی کی راہ میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایوب خان کے ماڈل نے جو بیرونی سرمایہ کی دست نگری پیدا کردی تھی وہ اب قرض کے شکنجے کی صورت اختیار کر چکی ہے اور پاکستان بغیر بیرونی قرضے کے اپنے دفاع سے لے کر تمام تر اخراجات کے لیےقرض لینے پر مجبور ہے۔

جو خیر سے کپتان کی حکومت کے اختتام تک تقریباً دگنا ہونے جارہا ہے۔ امتیاز عالم کا کہنا ہے صدارتی نظاموں کی لائی بربادی کے باوجود اور ملک کے دولخت ہونے کے باوجود بھی پرانے ثنا خواں صدارتی نظام کے قصیدے پڑھنے سے باز نہیں آرہے اور اس کے باوجود کہ صدارتی نظام کا مطلب اکثریتی صوبے پنجاب کی باقی تین صوبوں پہ مطلق حکمرانی ہے۔

اصل مدعا یہ ہے کہ مقتدرہ مثبت نتائج سے اپنا صدر منتخب کرائے اور عوامی نمائندگی کے نظام کو غیرموثر کر کے کونے سے لگادے۔ لیکن کیا یہ حضرات بھول گئے ہیں کہ 1968 کی عوامی تحریک کے نتیجے میں نہ صرف بالغ حق رائے دہی کو تسلیم کیا گیا تھا بلکہ پارلیمانی نظام کو بھی قبول کرلیا گیا تھا۔ اور اسی کے تسلسل میں 1973کے آئین کو پارلیمانی، وفاقی اور جمہوری خطوط پر اتفاق رائے سے نافذ کیا گیا تھا جسے بار بار کی کوششوں کے باوجود ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکا جا سکا۔

حیران کن پہلو یہ ہے کہ ایوب خان کے دور کے گیت گاتے گاتے عمران خان ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کی جانب مراجعت کرنے کی رٹ لگانے میں زور شور سے مصروف ہیں۔ کوئی انہیں کیوں نہیں بتاتا کہ میثاقِ مدینہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں میں بقائے باہم کامعاہدہ تھا جو قابلِ تکریم ہے اور جسے ہم پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے اپنانے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ کوئی ریاست نہ تھی۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ جب بھی مطلق العنان حکمران یا سیاستدان عوامی حمایت کھو بیٹھتے ہیں تو وہ مذہب کے مقدس نام کو استعمال کرنے پر تل جاتے ہیں۔ عمران خان بھی دو کشتیوں میں پائوں رکھ کر جمہوریت کی نیا ڈبونے پہ تُلے ہیں۔انہیں کوئی سمجھائے تو کیسے؟

Back to top button