شہزاد اکبر نے کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کیسے کالا کروایا؟

وزیراعظم عمران خان کے ایماء پر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف یکطرفہ احتساب کا ڈنڈا گھمانے والے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر عرف شرلاک ہومز کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ اچھی طرح کالا کروانے کے بعد فارغ کر دیے گے ہیں۔ مسلسل دعووں کے باوجود اپنے دور میں کسی ایک بھی اپوزیشن رہنما کو نیب کے ہاتھوں سزا نہ دلوا سکنے کے بعد وزیر اعظم نے شہزاد اکبر سے استعفی مانگا تھا لہٰذا اب وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ شہزاد اکبر اپنے ذمے لگائے گئے کسی ایک بھی ٹاسک کو مکمل کرنے میں ناکام رہے۔ وزیراعظم نے انہیں
مشیر احتساب لگانے کے بعد نواز شریف کو پاکستان واپس لانے اور شہباز شریف کو جیل میں ڈلوانے کا ٹاسک دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس دائر کروانے کا ٹاسک بھی ملا تھا۔ لیکن وہ ہر محاذ پر مکمل ناکامی کا شکار ہوئے اور ان کی تمام تر کوششیں رائیگاں گئیں جس کے بعد کپتان نے انہیں گھر کا راستہ دکھا دیا۔
بتایا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کی فراغت کے حوالے سے اسلام آباد میں پچھلے دو ہفتے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں خصوصا ایک حالیہ میٹنگ کے بعد جس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے مشیر احتساب کی کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بطور مشیر احتساب شہزاد اکبر کی کارکردگی عملی طور پر صفر ہے اور وہ صرف پریس کانفرنسوں کی حد تک ہی کام کرتے نظر آتے ہیں۔
اس کے علاوہ عمران کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مشیر احتساب اپنی پریس کانفرنس میں شہباز شریف اور انکے خاندان کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے جو بھی دعوے کرتے رہے، انہیں عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہے جس سے حکومت کی ساکھ مجروح ہو رہی تھی۔ لہذا اب ان کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا ناممکن ہو چکا تھا۔
یاد رہے کہ شہزاد اکبر مشیر احتساب ہونے کے علاوہ وزارت داخلہ کے مشیر کا عہدہ بھی رکھتے تھے، اس کے علاوہ وہ کپتان حکومت کے ایسٹ ریکوری یونٹ کے انچارج بھی تھے۔ عمران خان نے انہیں یہ عہدے دیتے وقت اپوزیشن سیاستدانوں کا تیا پانچہ کرنے کا ٹاسک دیا تھا لیکن وہ کسی ایک مخالف کے خلاف بھی کوئی کیس ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے جانے اور شہباز شریف کو اگلے سیاسی سیٹ اپ میں وزیر اعظم بنانے کی افواہوں نے وزیراعظم عمران خان کو پریشان کر رکھا ہے اور وہ ہر صورت شہباز اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ اپنے خلاف ہونے والی ممکنہ سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزرا کے ایک حالیہ اجلاس میں احتسابی عمل کی ناکامی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور اس کی ذمہ داری شہزاد اکبر پر عائد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے واضح ثبوتوں کے باوجود بھی کیسز التوا کا شکار ہیں ان ملزمان کو سزائیں نہیں دی جا رہیں۔
بتایا گیا ہے کہ کہ چند روز پہلے ہونے والے ایک حکومتی اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا تھا کہ اربوں کی چوری کرنے والے تاثر دے رہے ہیں کہ اُنکا دامن صاف ہے، انکاکہنا تھا کہ اس کی بڑی وجہ شریفوں کے خلاف خلاف کرپشن کے اوپن اینڈ شٹ کیسز کو منطقی انجام تک نہ پہنچانا ہے۔
عمران جمہوریت کی کشتی ڈبونے والے راستے پر چل نکلے
یاد رہے کہ شریفوں کے خلاف کرپشن کیسز ثابت کرنے کی خاطر شہزاد اکبر نے بیرون ملک بھی اربوں روپے خرچ کر ڈالے لیکن نتیجہ صفر رہا۔ اس کے علاوہ نواز شریف اور شہباز شریف نے جو مبینہ منی لانڈرنگ کی شہزسد اکبر وہ پیسہ بھی بیرون ملک سے واپس لانے میں ناکام رہے۔ الٹا یہ ہوا کہ ایک برطانوی عدالت نے شہباز شریف کے حق میں فیصلہ دیدیا جس سے کپتان حکومت کی اور بھی سبکی ہوئی۔ اس دوران شہزاد اکبر پر براڈ شیٹ سکینڈل میں پیسے پکڑنے کے الزامات بھی عائد ہوئے جنکی انکوائری نہیں کروائی گئی۔
چینی سکینڈل کی تحقیقات کے حوالے سے جو ٹاسک شہزاد اکبر کو دیا گیا تھا اس میں بھی کسی کو کٹہرے میں نہ لا سکے جس کی بناء پر پارٹی کے اندر بھی ان پر کڑی تنقید ہورہی تھی۔ کابینہ کے بعض سینئر اراکین پہلے ہی شہزاد اکبر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے تاہم اب عمران خان بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے، لہذا شہزاد اکبر کی چھٹی کروا دی گئی۔
دوسری جانب شہزاد اکبر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صبح و شام اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے لیکن عدالتیں سزا دینے کے لیے ٹھوس ثبوت مانگتی ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر تو اپنی ہر پریس کانفرنس میں شہباز شریف اور شریف خاندان کے خلاف دستاویزی ثبوت لہرایا کرتے تھے پھر احتساب عدالتوں نے ان ثبوتوں کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟
یاد ریے کہ عمران خان کے احتساب کے نعرے کا تیا پانچہ کرنے والے شہزاد اکبر تین سرکاری عہدوں کی مراعات وصول وصول کر رہے تھے۔ وہ نہ صرف عمران خان کے مشیر برائے احتساب تھے بلکہ وزارت داخلہ کے مشیر ہونے کے علاوہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے بھی انچارج تھے۔ انکو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ یہ عہدہ تقویض کیا گیا تھا لیکن اس سلسلے میں کوئی اشتہار نہیں دیا گیا تھا۔
اس یونٹ کا بنیادی مقصد ملک سے لوٹی گئی دولت کو واپس لانا تھا لیکن شہزاد اکبر ایک پھوٹی کوڑی بھی واپس نہیں لا پائے۔ ہاں انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کے بیرون ملک مبینہ اثاثے ڈھونڈنے کے لئے اربوں روپیہ فیسوں کی مد میں ضرور خرچ کروا دیے لیکن اب کوئلعں کی دلالی میں اپنا منہ کالا کروانے کے بعد گھر روانہ ہو گے ہیں۔
