نہ گھبرانے کا درس دینے والا کپتان خود کیوں گھبرا گیا؟

وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے وزیراعظم عمران خان پر پارٹی میٹنگ کے دوران تنقید کے بعد کپتان کی جانب سے کرسی چھوڑنے کی آفر سے تجزیہ کار یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ قوم کو نہ گھبرانے کا درس دینے والا کپتان اب خود گھبرا گیا ہے۔
سنیئر صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ پرویز خٹک کی جارحانہ بالنگ کے سامنے کپتان نے ایک دم سے بیٹ پھینکنے اور مخالف ٹیم کو باری دے دینے کی آفر کرکے دراصل یہ واضح کر دیا ہے کہ ان پر شدید دباؤ ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ کیا کپتان کو احساس ہو گیا کہ سیاست کرکٹ کا میدان نہیں یا اب کپتان 92 کے ٹائیگر کی طرح پریشر میں بھی بہترین پرفارمنس دینے کے قابل نہیں رہ گیا وگرنہ اتنی آسانی سے ایک کھلاڑی کی تنقید پر فوراً کریز چھوڑنے کی بات نہ کرتا۔
بقول غریدہ دوسری جانب پرویز خٹک کو بھی معلوم ہے کہ نہ صرف انہوں نے خیبر پختون خواہ بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کو جھیلنا ہے بلکہ عام انتخابات کو بھی جو کہ تقریباً سر پر آن کھڑے ہیں۔ خٹک کو ان انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگنے جانا ہے لہذا ضروری ہے کہ وہ اس طرح کا جارحانہ رویہ اپنائیں اور حکومتی ناکامی کے اصل ذمہ دار کی نشاندہی کریں۔
غریدہ فاروقی کے مطابق حکمراں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں منی بجٹ والے روز جو ہوا، وہ بظاہر فلم کا ٹریلر نہیں بلکہ انٹرول تھا۔ ایسا وقفہ جو فلم کےکلائمکس کے تجسس کا اشتیاق بڑھا دیتا ہے اور کہانی کے اختتام کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔
ہم صحافی تو گذشتہ تین سالوں سے مسلسل لکھ رہے تھے، اور پروگراموں اور تجزیوں میں بھی بول رہے تھے کہ سب اچھا نہیں ہے، حالات مزید خراب ہو رہے ہیں، معاملات ہاتھ سے پھسلتے جا رہے ہیں، لیکن حکومت کے بدخواہ درباری اور خوشامدی شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبائے خوشنما موسموں کی نوید ہی دیتے چلے گئے۔
حتی کہ یہ لاوا خود حکومت اور اس کی اپنی جماعت کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں کے اندر بھی پکنا شروع ہو گیا۔ بقول غریدہ شروع میں تو گاہے گاہے ڈھکی چھپی سرگوشیوں کی مانند خبریں آنا شروع ہوئیں لیکن پھر ان کو آواز ملی اور اب تو گویا نقّار خانہ چیخ اٹھا ہے۔ پہلے پہل تو کوئی ایک آدھ ایم این اے، ایم پی اے، پارٹی چھوڑ کر جانے والے یا نکالے جانے والے راندۂ درگاہ ہی آواز اٹھانے کی جرآت کرتے تھے مگر اب تو گھر کے ہر سیاہ و سفید کے بھیدی نے ہی لنکا ڈھا دی۔
غریدہ کے بقول، پرویز خٹک نہ صرف عمران خان کے چہیتے بلکہ انتہائی معتمد ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو بار تحریک انصاف کو حکومت ملنے اور ٹکے رہنے میں پرویز خٹک کا بہت کلیدی
کردار رہا ہے۔ اسی بنا پر تو انکے رائٹ ہینڈ مین نے کپتان کو جتوایا بھی دیا کہ آپ کو وزیراعظم بنوایا بھی ہم نے ہے۔ لیکن سوچنے کی اصل بات تو یہ ہے کہ آخر پرویز خٹک جیسا دھیمے اور ٹھنڈے مزاج کا، ناپ تول کر سیاست کرنے والا، میڈیا اور پبلسٹی سے دور رہنے والا شخص اس نہج تک کیسے آ گیا کہ خود اپنے رہنما اور اپنے ہی وزیراعظم کے گریبان تک اس طرح پہنچ جائے کہ میڈیا پر طوفان برپا کر دے۔ ظاہر ہے کہ اس کی سب سے اوّلین اور بنیادی وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے بیڈ گورننس اور قریب آتے انتخابات۔
غریدہ کا کہنا یے کہ خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں حکمران جماعت کو جو سرپرائز ملے اور شکست ہوئی اس کی بنیادی وجہ بھی عوام کے لیے روز بروز بڑھتی مہنگائی، گیس اور بجلی کے بل تھے اور اب شدید سرد موسم میں صوبے سے گیس کی پیداوار کے باوجود خیبرپختونخوا کو گیس نہ ملنا اور گیس کے نئے گھریلو کنکشنوں پر پابندی ہونا عوام کے مزید غیظ و غضب کا باعث بن رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ گیس کنکشنز پاکستان کے انتخابی ماحول میں ووٹ حاصل کرنے کابہت بڑا ذریعہ ہیں۔ پرویز خٹک کو معلوم ہے کہ نہ صرف انہوں نے بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کو جھیلنا ہے بلکہ عام انتخابات، جو کہ تقریباً سر پر آن کھڑے ہونے والے ہیں، میں بھی ووٹ مانگنے جانا ہے۔ بیڈ گورننس کی ایسی صورت حال میں تو بلدیاتی انتخابات کیا جنرل الیکشن میں بھی جیت ناممکنات میں نظر آ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں پرویز خٹک جیسے بندے کا بھڑک جانا قطعاً سمجھ سے بالاتر نہیں۔
تربیلا ڈیم متاثرین کا فیصلہ 60 سال بعد آ گیا
لیکن بڑی بات تو یہ ہے کہ غصہ متعلقہ وزیر پر نہیں بلکہ براہ راست وزیراعظم پر ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے لیے موقع کا چناؤ بھی بڑا معنی خیز رکھا گیا یعنی جس روز کپتان کو اپنے انتہائی قریبی ساتھی کا اعتماد ووٹ منیبجٹ کے لیے درکار تھا، اسی دن وہ ان کے ساتھ سیدھا ہوگیا اور سب کے سامنے تنقید کر ڈالی۔
بقول غریدہ عمران خان شدید سیاسی مسائل میں گھرے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف عوام کا پریشر جو روز بروز دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی مہنگائی سے نالاں ہیں، دوسری جانب اپوزیشن کے بدلتے پینتروں کا پریشر، مخالف سیاسی جماعتوں کی مسلسل انتخابی فتوحات کا پریشر، اتحادی جماعتوں کی ناراضگیوں کا پریشر، حکومت اور جماعت کے درونِ خانہ پکتے لاوے کا پریشر، ان تمام عناصر کے مشترکہ دباؤ کا نتیجہ آنے والے جند دنوں یا ہفتوں میں ہی لگایا جا سکے گا کہ کپتان ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب کس صورت حال میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم خود بھی فرما چکے ہیں کہ آئندہ تین ماہ ان کی حکومت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ان تین ماہ میں خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن مرحلہ دوئم کی تاریخ بھی آسکتی ہے۔ پنجاب کے لوکل گورنمنٹ الیکشن بھی وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد بلدیاتی انتخاب کی تاریخ پہلے ہی آ چکی ہے۔ اپوزیشن کے دو الگ الگ لانگ مارچ بھی حکومتی اعصاب ٹیسٹ کرنے کو تیار کھڑے ہیں۔
غریدہ فاروقی سمجھتی ہیں کہ تمام مشکلات کے باوجود اگر کسی طرح عمران خان بطور وزیراعظم اپنی پنج سالہ آئینی جمہوری مدت پوری کر بھی لیں تو ہر گزرتے دن، مہینے اور سال میں کپتان کی گرفت حکومتی و انتظامی معاملات پر بظاہر کمزور پڑتی جائے، اندرونی دراڑیں مزید گہری اور واضح ہوتی جائیں اور آخرِکار کپتان حکومت تو بچا لیں مگر اپنی ساکھ بچانے میں شاید ناکام ٹھہریں۔
