اٹک جیل میں عمران خان پریشانی اور مایوسی کا شکار کیوں؟

سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں اسیر ہیں انھیں محکمہ داخلہ پنجاب کی منظوری کے بعد بی کلاس تو دی جا چکی ہے تاہم انھیں جیل میں نہ تو بیڈ کی سہولت دستیاب ہو گی اور نہ ہی اھ سی ملے گا۔ بقول وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ عمران خان کو جیل میں قانون کے مطابق تمام سہولیات دستیاب ہو گی تاہم  نہ ہی انھیں ممنوع خوراک ملے گی اور ہی کسی ممنوع سرگرمی میں شامل ہونے کا موقع میسر آئے گا۔ دوسری جانب نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ عمران خان کے لیے جیل میں ایک وی وی آئی پی سیل تیار کیا گیا تھا، سیل میں ایئر کنڈیشننگ کی کوئی سہولت نہیں ہے لیکن وہاں ایک پنکھا، بستر اور ایک واش روم موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان جیل میں پریشانی کا شکار ہیں۔ عمران خان نے ابتدائی وقت اور تحمل سے گزارا تاہم  اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مایوسی اور پریشانی کے آثار ان کے چہرے سے نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان پہلے سابق وزیراعظم ہیں جو اٹک جیل میں قید ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سالہ جلاوطنی پر جدہ بھیجے جانے سے قبل 1999 میں اٹک قلعے میں قید کیا گیا تھا۔اٹک جیل اور اٹک قلعہ علیحدہ علیحدہ احاطے ہیں جو ایک دوسرے سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔یہ قلعہ اٹک خورد میں مغل بادشاہ اکبر کے دور (83-1581) میں دریا کے بہاؤ کی حفاظت کے لیے خواجہ شمس الدین خوافی کی نگرانی میں تعمیر کیا گیا تھا۔یہ قلعہ صوبہ خیبرپختونخوا سے متصل دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے، قلعے کا داخلی راستہ راولپنڈی-پشاور جی ٹی روڈ کی طرف سے ہے۔

دوسری جانب اٹک جیل شہر کے وسط میں راولپنڈی-پشاور ریلوے ٹریک کے ساتھ واقع ہے، اسے برطانوی حکمرانوں نے 06-1905 میں 67 ایکڑ پر تعمیر کیا تھا۔برطانوی حکمران زیادہ تر اس جیل کو بغاوت میں ملوث لوگوں کو حراست میں رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے، اسے اب ملک کی ایک ہائی سیکیورٹی جیل سمجھا جاتا ہے جہاں عام طور پر ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جن کا ٹرائل ابھی جاری ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 1999 میں اٹک قلعے کی احتساب عدالت سے مشہور ایم آئی-8 ہیلی کاپٹر کک بیک کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد اٹک جیل میں رکھا گیا تھا۔سابق وزیراعظم و سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان، سابق وزیر مواصلات اعظم خان اور ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی اٹک جیل میں قید رہ چکے ہیں۔رواں برس کے آغاز میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو بھی اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔ تاہم اب سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خان کيس ميں قصوروار قرار دینے کے بعد لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا ہے۔

عمران خان کی قید اور گرفتاری کے فیصلے سے ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور ملک کے مختلف حلقوں میں اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان میں سیاستدانوں کا مستقبل تاریک ہی رہے گا۔ عمران خان کو جن الزامات اور قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے وہ کسی بھی سیاستدان کے سیاسی کیریئر کو ختم کرنے اور اسے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگین نتائج کے طور پر عمران خان اپن‍ی پارٹی کی سربراہی بھی کھو سکتے ہیں، جو ان کے لیے اور ان کی جماعت کے لیے بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سابق کرکٹر عمران خان اب ان سابق پاکستانی وزرائے اعظم کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ پاکستانی تاریخ ایسے واقعات سے بھرپور ہے۔عمران خان کی اس بار کی گرفتاری مئی میں ان کی گرفتاری سے مختلف ہے۔ تب ان کے حراستی حالات ابھی کے مقابلے میں مختلف تھے۔ تب انہیں اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے احکامکات پر ایک پولیس کمپاؤنڈ میں موجود گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تھا اور عمران خان کو اپنے پارٹی کے رفقا کے ساتھ ملاقاتوں کی اجازت دی گئی تھی۔جبکہ اس بار عمران خان کو اٹک جیل پہنچا دیا گیا ہے جو اپنی سخت حالات کے حوالے سے کافی بدنام ہے۔ اس جیل میں مقید قیدیوں میں سزا یافتہ عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ عمران خان کو اس جیل میں پہنچانے کے ساتھ ہی حکام نے جیل کے اردگرد سکیورٹی مزید سخت کردی ہے۔ جیل کے راستے پر اضافی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو اس دور رکھا جا سکے اور تمام سڑکیں بند کردی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ میڈیا کو اپنی چھتوں پر تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی ہر گز اجازت نہ دیں۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں، عمران خان کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتاری پرپاکستان بھر میں تشدد کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جس کے کچھ دن بعد ہی سپریم کورٹ نے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

عمران کو ریڈ لائن قرار دینے والے عمرانڈوز کہاں چھپ گئے؟

Back to top button