پنکی پیرنی عمران کوسب سے بڑا سرپرائز دینےکیلئے تیار؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بعد اگر کسی کو پارٹی چئیرمین شپ کے لئے اہل سمجھتے ہیں تو وہ بشریٰ بیگم ہیں اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ بشریٰ بیگم ان کی غیر موجودگی میں نہ صرف پارٹی کو فعال انداز میں چلائیں گی بلکہ ان کی جلد رہائی کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی موثر حکمت عملی تیار کریں گی۔اب تک عمران خان کا بشریٰ بیگم سے اعتماد متاثر نہیں ہوا،مگر واقفان حال کا کہنا ہے کہ بشریٰ بیگم بھی آئندہ چند روز میں عمران خان کو بہت بڑا سرپرائز دے سکتی ہیں اور وہ سرپرائز عمران خان کو اب تک دیا جانے والا سب سے بڑا سرپرائز ہوگا. اپنے ایک کالم میں حذیفہ رحمان لکھتے ہیں کہ عمران خان کے جیل جانے سے تحریک انصاف کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔آج تحریک انصا ف کا مستقبل خطرے سے دوچار ہے۔عمران خان اس وقت ایسی کیفیت سے دوچار ہیں کہ آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی۔عمران خان کی غیر موجودگی میں تحریک انصاف کا سیاسی طور پر زندہ رہنا اصل امتحان ہوگا۔لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت بغیر سربراہ کے اپنا تشخص برقرار نہیں رکھ سکتی۔اس وقت عمران خان کے لئے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ تحریک انصاف کی باگ ڈور کس کے حوالے کرئے۔جبکہ کچھ حلقوں کی رائے ہے کہ عمران خان جیل میں چند دن کی سختی بھی برداشت نہیں کرسکیں گے اور ہر قیمت پر جیل سے رہا ہونے کی ڈیل کریں گے۔بہرحال اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنی غیر موجودگی میں پارٹی کس کے حوالے کرتے ہیں۔عمران خان کا یہی فیصلہ ان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔کیونکہ عمران خان کی غیر موجودگی میںجس کو بھی پارٹی کی باگ ڈور دی جائے گی،اس کی حکمت عملی ہی عمران خان کے مستقبل کا تعین کرے گی. حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ تحریک انصاف میں عمومی رائے پائی جاتی ہے کہ عمران خان کے بعد شاہ محمود قریشی سب سے سینئر اور ذمہ دار شخص ہیں اور بطور وائس چئیرمین پارٹی کو سنبھالنا ان کا حق ہے۔کیونکہ سانحہ نو مئی کے بعد تحریک انصاف کے باقی تمام سینئر رہنمادباؤ کے باعث پارٹی چھوڑ گئے تھے۔اس لئے اب قرعہ فال شاہ محمود قریشی کے نام نکلنا چاہئے۔اگر پرویز خٹک،اسد قیصر،اسد عمر،عمران اسماعیل اور عامر کیانی،سیف اللہ نیازی جیسے سینئر رہنما موجود ہوتے تو شاید شاہ محمود قریشی کو پارٹی کی باگ ڈور دینا مشکل فیصلہ ہوتا۔اس لئےموجودہ حالات میں شاہ محمود قریشی کے حوالے پارٹی کرنے سے پارٹی کے اندر کسی قسم کے اختلاف کا امکان نظر نہیں آتا۔لیکن شاہ محمود قریشی کو پارٹی چئیرمین کی ذمہ داری دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان خود ہونگے۔کیونکہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی پر اندھا اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور وہ ان کے بارے میں رائے رکھتے ہیں کہ شاہ محمود کریز کے دونوں جانب کھیلتے ہیں اور ان کی حالیہ رہائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔عمران خان کو ڈر ہے کہ اگر شاہ محمود قریشی کو پارٹی کی کمان سونپ دی گئی تو شاید ان کی پارٹی ہائی جیک کرلی جائے گی اور ان کا جیل میں قیام طویل ہوسکتا ہے۔کیونکہ تحریک انصاف کا جو لیڈر باہر ہوگا،اس کی حکمت عملی ہی عمران خان کی جلد رہائی کا تعین کرے گی۔جیسا کہ نوازشریف جیل میں تھے تو شہباز شریف کے حوالے پارٹی کردی گئی اور انہوں نے اپنی تمام تر توانائی صرف اور صرف نوازشریف کو رہا کرنے پر خرچ کی اوربلا آخر وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ نوازشریف کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ ن کی کمان کسی ایسے شخص کے حوالے کردی جاتی،جس کی ترجیحات میں نوازشریف کی رہائی نہ ہوتی تو شاید میا ں نوازشریف اتنا آسانی سے باہر نہ آسکتے.

حذیفہ رحمان کے مطابق آج شاہ محمود قریشی کے حوالے سے یہی مسئلہ عمران خان کو درپیش ہے۔وگرنہ شاہ محمود قریشی کے حوالے پارٹی کی کمان کرنا سب سے بہتر سیاسی فیصلہ ہوتا۔کیونکہ شاہ محمو د قریشی ایک زیرک سیاستدان ہیں اور حلقوں کی سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں،لیکن یہی خوف بے نظیر بھٹو کو ان سے تھا اور پھر اسی خوف نے زرداری صاحب کو انہیں وزیراعظم بنانے سے باز رکھا اور آج شاید یہی خوف عمران خان کے فیصلہ لینے میں آڑے آرہا ہوگا۔جبکہ ایک نام پرویز الہیٰ کا بھی لیا جارہا ہے ۔چونکہ وہ پارٹی کے صدر ہیں اور انہوں نے سخت آزمائشی حالات کا سامنا کیا ہے۔لیکن عمران خان ان کے حوالے کبھی بھی اپنی جماعت نہیں کریں گے۔پہلی تو بات یہ ہے کہ پرویز الٰہی خود بھی زیر عتاب ہیں ،ایسے میں وہ پارٹی کو کیا چلائیں گے؟ جبکہ پرویز الٰہی کے نام پر تحریک انصاف میں بھی شدید اختلاف پایا جاتا ہے ۔ حزیفه رحمان کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اکثریت کبھی بھی پرویزالٰہی کے پیچھے کھڑے ہونے پر راضی نہیں ہوگی۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان نے کسی کے حوالے تو پارٹی کرنی ہے۔کیونکہ جیل سے بیٹھ کر تمام فیصلے لینا بہت مشکل ہوگا اور شاید آئندہ چند روز میں وہ پارٹی چئیرمین شپ کے بھی اہل نہ رہیں۔اس لئے انہیں کسی نہ کسی کو پارٹی کی کمان تو سونپنا ہوگی۔ایسے میں عمران خان سب سے زیادہ اعتماد اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی پر کرتے ہیں. اگر آج کی بات کریں تو عمران خان اپنے بعد نمبر ٹو اپنی بیگم بشریٰ بی بی کو سمجھتے ہیں اور وہ پارٹی چئیرپر سن کی سب سے مضبوط امیدوار ہیں ،لیکن آئندہ چند ماہ کے دوران عمران خان کی آزمائشوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہی ہونا ہے اور ان کیلئے آنے والا ہر نیا دن پہلے دن سے کئی گنا بھاری ثابت ہوگا۔

جیل میں دن کو مکھیاں،رات کو کیڑے ہوتے ہیں،عمران خان کا شکوہ

Back to top button