عمران خان کی تین مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلئے درخواستیں دایر

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تین مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہیں، برسٹر سلمان صفدر کی وساطت سے دائر کی گئی تینوں درخواستوں میں 15 دن کی حفاظتی ضمانت کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار لاہور میں اپنی رہائش گاہ زمان پارک میں مقیم ہیں اور یہ ان کا آئینی حق ہے کہ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ بیل کے حصول کے لیے اس معزز عدالت کے روبرو پیش ہوں۔
جن دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی استدعا کی گئی ہے ان میں سے دو اسلام آباد کے تھانہ رمنا اور اور ایک کوئٹہ کے بجلی روڈ تھانے میں درج ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کردی تھی جہاں اس سے قبل ان کے 28فروری کو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔
بعدازاں عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی سماعتوں سے مسلسل غیر حاضری پر توشہ خانہ ریفرنس میں مقامی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو منسوخ کرنے کی درخواست پر انہیں پیشی کی مہلت دیتے ہوئے 13 مارچ کو سیشن عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ 3 روز قبل عمران خان نے اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی خط لکھا تھا جس میں انہوں نے ’اپنی زندگی کو لاحق خطرے‘ کا نوٹس لینے اور عدالت میں پیشی ضروری ہونے کی صورت میں مناسب سیکیورٹی یقینی بنانے کی استدعا کی تھی۔
عمران خان نے اپنے خط میں انتہائی ’سنگین‘ حالات کی وضاحت کی جس میں ان کو قتل کرنے کی کوشش بھی شامل تھی، جس کا انہیں اپریل میں اپنی حکومت ختم کیے جانے کے بعد سے سامنا ہے اور ساتھ ہی مکمل سیکیورٹی یا عدالت میں پیشی کے لیے ویڈیو لنک کا آپشن استعمال کرنے کی اجازت بھی مانگی۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے بتایا کہ ’رجیم چینج آپریشن‘ کے ذریعے ان کی حکومت کو ہٹانے کے بعد سے انہیں قابل سوال ایف آئی آرز، دھمکیوں اور بالآخر قتل کی ایک کوشش کا بھی سامنا ہے، سابق وزیر اعظم ہونے کے باوجود مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور انہیں قتل کی کوشش پر ایف آئی آر درج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔
چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں عمران خان نے مطالبہ کیا تھا کہ میری جان کو شدید خطرات کے پیش نظر عدالت میں پیش ہونے کے لیے مجھے بھی ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کی جائے، اس سے میری عدالت میں پیشی کے موقع پر اظہارِ یکجہتی کے لیے آنے والے بڑے ہجوم کو بھی روکا جاسکے گا۔
