اپنی باری آنے پر عمران خان کتنے دن قید کاٹ پائیں گے؟

ایک وقت تھا جب وزیراعظم عمران خان کے ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے چئیرمین جاوید اقبال کی زیر قیادت نیب کا ادارہ مریم نواز کا مسلسل پیچھا کر رہا تھا، لیکن اب یہ حالت  ہے کہ مریم نواز خود نیب کا تعاقب کر رہی ہیں اور نیب ان سے اور انکے خلاف دائر کردہ مقدمات سے جان بچا رہا ہے۔ اب کبھی نیب کو کرونا ہو جاتا ہے، کبھی ثبوت کی مزید تلاش کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور کبھی اصل مقدمے سے صرف نظر کر کے توہین عدالت کے الزام کا ڈول ڈال دیا جاتا ہے۔

اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی عمار مسعود نیب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پوچھنا تو بنتا ہے کہ ’نیب رے نیب، تیری کون سی کل سیدھی‘۔ ماضی قریب میں یہی ’نیب‘ تھا اور اس کی پھرتیاں دیکھنے والی تھیں۔ ذرا کسی نے اپوزیشن کے سیاست دان کے خلاف نام نہاد ثبوتوں کا  کوئی پلندہ لہرایا تو نیب چل پڑی گرفتاریاں کرنے، چھاپے مارنے۔

اپوزیشن کا کون سا سیاست دان اس کے عتاب سے بچا۔ ہیومن رائٹس وغیرہ کی بات تو جانے دیں، اسی ادارے پر تو الزام لگ رہا ہے کہ اس نے بھیڑ بکریوں کی طرح سیاست دانوں کو جیلوں میں گھسیڑا۔ ان کو بلاجواز قید میں رکھا۔ پھانسی کے مجرمان کے سیل میں ڈالا۔ قید تنہائی میں رکھا۔ اور جب یہی کیس عدالتوں میں پیش ہوئے ثبوت کے نام پر در انصاف کے پاس کاسہ ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ نواز شریف ہوں، مریم نواز ہوں، شاہد خاقان عباسی ہوں، احسن اقبال ہوں، سعد رفیق ہوں، سلمان رفیق ہوں، خواجہ آصف ہوں، خورشید شاہ ہوں سب اس عذاب کو بھگت چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی اس قدر سرعام اور تسلسل سے ہوئی ہے کہ بہت سوں نے اس کارروائی کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ لوگ یہی سمجھے کہ چور لٹیرے پکڑے گئے۔ ملک کے خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والے کیفرکردار تک پہنچے۔ یہ عقدہ تو بہت بعد میں کھلا کہ یہ کارروائیاں تو صرف الزامات کی بنا پر کی گئی ہیں۔

وہ الزامات جن کو ’زر خرید ترجمانوں‘ نے بڑی محنت سے تراشا تھا۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کی نوکریوں کا انتظام کروانے کے لیے بڑے بڑے افسران در بدر پھرتے تھے۔ بقول عمار، ایک جانب تو نیب ہمیں انصاف کی تلاش میں چھلانگیں مارتا نظر آتا ہے، دوسری جانب جب کوئی حکومتی سکینڈل سامنے آتا ہے تو  نیب چپ چاپ اور گم سم منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ جاتا ہے۔ ایسے کتنے ہی سکینڈل آئے اور گذر گئے۔ حکومتی شوگر مافیا کی وجہ سے چینی کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔

غریب کے لیے دوائیں غائب یو گئیں، آٹا پاکستانی تاریخ میں مہنگائی ترین ہو گیا۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان قومی بحرانوں میں کس نے کتنا کمایا اور قوم کو کتنے کا ’ٹیکہ‘ لگایا۔ کس کی تجوری کتنی بھری۔ لیکن اس سب پر نیب بالکل خاموش ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ آٹا، چینی اور ادویات سکینڈلز پر بھی لوگ نیب سے اس پھرتی کا تقاضا کرتے ہیں جو کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات بناتے وقت دکھائی جاتی ہے، مگر کپتان اور انکے ہیاروں کے معاملے میں نیب کا دل نرم ہو ہی جاتا ہے، خصوصا جب اس کے چیئرمین کو اپنی آئینی مدت پوری کئے جانے کے باوجود برقرار رکھا جا رہا ہو۔

اسلم رئیسانی نے جے یو آئی میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی

ایک بار چیئرمین نیب نے حکومت کے کیسز کے طرف توجہ دلانے کی کوشش کی اور کہا اگر اس حکومت کی فائلیں کھول دی جائیں تو یہ حکومت دو دن میں گر جائے۔ دو دن بہت ہوتے ہیں۔ انہی دو دنوں میں چیئرمین نیب کی ایک نازیبا وڈیو سامنے آ گئی۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ اس وڈیو کے نشانات مٹاتے مٹاتے چئیرمین نیب انصاف کے ہر اصول کو مٹا گئے۔

بقول عمار مسعود، عمران خان اب بھی جاوید اقبال سے خفا ہیں، خان صاحب کی ناراضی کی وجہ یہ نہیں کہ چیئرمین نیب نے غیرقانونی طور پر گرفتاریاں کیوں کیں؟ انہیں تو اس بات کا غصہ ہے کہ صرف گرفتاریاں کیوں کیں؟ کوڑے کیوں نہیں مارے؟ برف کی سِلوں پر الٹا کیوں نہیں لٹایا؟ ثبوت وغیرہ کی بحث میں خان صاحب کبھی پڑے نہیں، انہیں ان خرافات سے کوئی مطلب نہیں۔ ان کا نظریہ بس اتنا ہے ان کے سوا سب چور ہیں، مافیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی ان کی توجہ فارن فنڈنگ کیس یا ان سے وابستہ دیگر معاملات کی طرف دلوائے تو خان صاحب بچوں کی طرح روٹھ جاتے ہیں۔

خان صاحب اس میدان سیاست میں نئے ہیں۔ مسند اقدار پر بیٹھے انہیں اندازہ نہیں کہ ایک نہ ایک دن تو بازی پلٹے گی۔ پھر یہی نیب ہوگی اور خان صاحب کی ساری جماعت کٹہرے میں کھڑی ہوگی۔

بقول رانا ثنا اللہ،ہم خان صاحب کو قید میں ہر سہولت مہیا کریں، صرف ایک سہولت نہیں ملے گی جسکی قانون اجازت نہیں دیتا، پھر دیکھتے ہیں کہ خان صاحب کتنے دن جیل کاٹتے ہیں۔ کتنی دیر مشتقی کے ساتھ چکی پیستے ہیں اور کتنی دیر مشق سخن جاری رہتی ہے۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب مریم نواز کے ایون فیلڈ ریفرنس کی بابت بھی سن لیں۔ اس کیس میں سزائیں الیکشن سے 19 دن پہلے سنائی گئیں۔ اس سے متعلق مخفی باتیں اب اتنی سرعام ہو گئی ہیں کہ اب گلی گلی ان کا ڈھول بج رہا ہے۔

تمام تر شواہد موجود ہیں مگر ابھی تک فیصلہ نہیں ہو رہا۔ ایک وقت تھا جب نیب مریم نواز کا پیچھا کر رہا تھا اور اب یہ مقام  ہے کہ انصاف کی خاطر مریم نواز نیب کا تعاقب کر رہی ہیں۔ اب نیب ان مقدمات سے جان بچا رہا ہے۔ اب کبھی نیب کو کورونا ہو جاتا ہے، کبھی ثبوت کی مزید تلاش کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور کبھی اصل مقدمے سے صرف نظر کر کے توہین عدالت کے  الزام کا ڈول ڈال دیا جاتا ہے۔

عمار کہتے ہیں کہ ایون فیلڈ ریفرنس بھی ایک ایسا معاملہ جس کی نظیر تاریخ میں شاید ہی ملے۔ جس پر الزام ہے وہ تو ہر پیشی پر الزامات کا سامنا کرنے پہنچ جاتی ہے۔ میڈیا سے خطاب بھی کرتی ہے۔  دوہرے معیار پر بڑوں بڑوں کو شرمسار بھی کرتی ہے اور جو الزام لگانے والا ہے وہ ہر پیشی پر دبک جاتا ہے۔ اگرچہ عوامی سطح پر اب سب کو ان ریفرینسز کی حقیقت معلوم ہو چکی ہے مگر مریم نواز اب بھی انصاف کی متلاشی ہیں۔  اگلی چند پیشیاں بہت اہم ہوں گی۔ یا تو انصاف ہو جائے یا پھر ہمیں کہنا پڑے گا کہ ہارن نہ بجائیں۔ آگے نیب سو رہا ہے۔

Back to top button