ایم کیو ایم کے دھڑے کون اور کیوں اکٹھے کرنا چاہتا ہے؟

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ایک مرتبہ پھر سیاسی طور پر متحرک ہو چکے ہیں اور ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں سے ان کی حالیہ ملاقاتوں کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اپنی بقا کے خطرات سے دوچار مہاجر جماعت کے اکثر دھڑے اگلے الیکشن سے پہلے عشرت کی قیادت میں انتخابی اتحاد بنانے جا رہے ہیں۔

کراچی کی سیاست میں نئی اور ‘معنی خیز پیش رفت’ تب ہوئی جب 5 برس سے دبئی میں مقیم سابق گورنر سندھ عشرت العباد نے اچانک اپنی ‘سیاسی چپ’ کا روزہ توڑا اور سیاسی طور پر سرگرم ہو گئے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کا تعلق 1980 کی دہائی کے وسط میں الطاف حسین کی قیادت میں کراچی کے منظر نامے پر ابھرنے والی ایم کیو ایم سے رہا ہے اور انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ وہ 27 دسمبر 2002 کو سندھ کے 29ویں گورنر مقرر ہوئے اور 9 نومبر 2016 تک سندھ کے گورنر رہے۔ وہ ملکی تاریخ میں سب سے طویل مُدّت تک گورنر کے عہدے پر فائز رہے۔

اہک ایسے وقت میں کہ جب ایم کیو ایم پر سکوت طاری ہے، عشرت العباد کا اچانک متحرک ہو جانا اور پھر اُس کے تسلسل میں ہونے والی کئی ‘ملاقاتیں’ کراچی سے راولپنڈی تک پورے پاکستان کی توجّہ سمیٹ رہی ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں سابق گورنر عشرت العباد نے اچانک ہی سیاست میں واپسی کا اشارہ دیا۔ ان کے بقول، "پارٹی نے خود کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے اور چند انتہا پسندوں نے اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی نمایاں شخصیات کے مشورے اور تجویز پر وہ سیاست میں واپسی پر غور کر رہے ہیں۔

عشرت العباد کے انٹرویو کے بعد نومبر میں ڈاکٹر فاروق ستّار ‘اچانک’ عشرت العباد سے ملنے دبئی جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے بتایا کہ یہ ملاقات 13 نومبر تک جاری رہی جسے دانستہ طور پر ‘پبلک’ بھی کیا گیا۔ اسی دوران ایم کیو ایم کے سابق میئر کراچی وسیم اختر نے بھی عشرت العباد سے ملاقات کی۔ حتی کہ خالد مقبول بھی سابق گورنر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ابھی عشرت العباد اور وسیم اختر کی ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں کہ ایک اور پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سات جنوری 2022 کو آفاق احمد کی ایم کیو ایم حقیقی کے ایک وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کے صدر دفتر بہادر آباد کا دورہ کیا۔

بیس سال تک ایک دوسرے پر ‘کارکنان کے قتل کے الزامات عائد کرنے والی’ متحدہ قومی موومنٹ اور ایم کیو ایم حقیقی قریب آتی دکھائی دیں۔ ان ملاقاتوں اور پیغام رسانیوں کا سلسلہ یہیں ختم نہ ہوا۔ آٹھ جنوری 2022 کو ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان نے دبئی میں ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی۔

ان حالات میں یہ سوال تواتر سے پوچھا جا رہا ہے کہ کراچی کی سیاست آخر کیا رخ اختیار کر رہی ہے؟ اس حوالے سے ڈاکٹر عشرت العباد کہتے ہیں کہ کراچی ہمارا ‘شو کیس’ ہے اور جب ہم اسے معیشت کا حب سمجھتے ہیں تو کراچی کو اچھی طرح پریزینٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ان کے بقول شہر میں سیاسی استحکام اور مایوسی کا احساس ختم کرنے کی اجتماعی کوششیں درکار ہیں۔ جب سابق گورنر سے ایم ایم کیو ایم رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتوں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا "جب مختلف سیاسی جماعتوں میں اتحاد ہوسکتا ہے تو ایک ہی جماعت کے مختلف لوگوں میں کیوں نہیں ہوسکتا لیکن کراچی میں سب منقسم سمتوں میں چل رہے ہیں۔

الگ الگ کشتیوں میں سوار ہو کر مایوسی ختم کر کے استحکام قائم کرنے کا تاثر شاید نہ آئے۔ مگر ضم ہونا، ظاہر ہے کہ فی الحال قابل عمل نہیں ہے۔ متبادل کے طور پر ‘ورکنگ ریلیشن شپ’ ہے۔ ان کے بقول جو بات پہلے نہیں کہی جاتی تھی اب وہ بیانیہ تقریباً ملتا جلتا سب کا ہوتا جا رہا ہے۔ تلخی کا عنصر بھی کم ہو رہا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا حالیہ ملاقاتیں اور کوششیں کسی ‘اسکرپٹ’ یا ‘فون کال’ کا نتیجہ ہیں؟ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ کوئی بھی شہری ملک میں ہو یا بیرونِ ملک جب کراچی یا پاکستان کے حالات پر غور کرتا ہوگا تو پہلی سوچ یہی آتی ہے کہ یہ ایسے نہیں چلے گا یہ سب کو مل کر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ایسے ہی سوچتی ہوگی۔ تو اگر وہ کہہ رہے ہیں تو عقل کی بات کر رہے ہیں ناں! ان کے بقول، "کوئی کہہ رہا کہ بھئی آپ مل کر کام کریں تو وہ کوئی آرڈر نہیں دے رہا۔ اب آپ اس کو کچھ بھی نام دے دیں۔ ایک اچھی تجویز کہہ دیں یا احکامات جو چاہیں نام دے دیں۔”

تاہم دوسری جانب ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اس سارے عمل کو ‘سیاسی ہلچل’ یا ‘اہم پیش رفت’ ماننے پر تیار نہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول نے کہا کہ عامر خان نجی مصروفیات کے لیے دبئی گئے ہیں جہاں ان کی عشرت العباد کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے۔ ان کے بقول، عشرت العباد ایم کیو ایم کا حصّہ ہیں گو کہ گورنر شپ کے وقت انہوں نے سرکاری تقاضے کے تحت پارٹی سے استعفیٰ ضرور دیا تھا مگر وہ کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں گئے اور نہ ہی انہوں نے ایسا کوئی اشارہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان واپس آ کر سیاست میں فعال ہونے کا فیصلہ خالصتاً عشرت العباد کا اپنا ہو گا لیکن وہ رابطے میں ہیں۔ ایم کیو ایم کے تمام رہنماؤں کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں جو کسی مجبوری کی وجہ سے گئے۔ جب خالد مقبول سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ایم کیو ایم کے دروازے مصطفیٰ کمال کے لیے بھی کھلے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال واپس اپنی جماعت میں لوٹ سکتے ہیں۔ پارٹی سے الگ ہونے والے کسی رہنما کے پاس ووٹ ہیں تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جاسکتی ہے۔ جن کے ووٹ نہیں اُن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ تو نہیں ہوسکتی لیکن اُن کو تنظیم میں لیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے اس سارے عمل کو غیر اہم قرار دیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے ووٹرز یہ سب ہر پندرہ دن بعد دیکھتے رہتے ہیں۔ یہ سب لوگ اپنا اپنا وقت گزار چکے۔ حالیہ ملاقاتیں ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ ان کے بقول، "ہمارا نظریہ ہے کہ ہم خود مہاجر ہیں مگر ہم مہاجر نام پر سیاست کرنا مہاجروں کے لیے زہرِ قاتل سمجھتے ہیں۔

اپنی باری آنے پر عمران خان کتنے دن قید کاٹ پائیں گے؟

اس شہر میں دوسری قومیتیں بھی ہیں پی ایس پی نے مہاجروں کے ساتھ ان تمام کمیونٹیز کو آپس میں جوڑا ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ مہاجروں کو ہوا جو شہر میں امن کی صورت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی ایم کیو ایم کا دھڑا نہیں بلکہ ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ اگر ہم سے کوئی بات کرے گا تو چاہے یہ بات بند کمرے میں ہو یا کھلی سڑک پر ہمارا یہی مؤقف ہوگا۔

جہاں مصطفیٰ کمال حالیہ سیاسی رابطوں سے تو انکار کر رہے ہیں وہیں ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد نے دعویٰ کیا کہ اس نئی مشترکہ کوشش کے لیے ان کا رابطہ مصطفیٰ کمال سے بھی ہوا ہے۔ آفاق احمد کے بقول، میں نے محسوس کیا ہے کہ کراچی کی قیادت میں تقسیم کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور سندھ کے شہری علاقے اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ شہر کے خلاف جو سازشیں کر رہے ہیں اُنہیں یہ پیغام دیا جاسکتا ہے کہ اگر ہمارے ساتھ لسّانی بنیادوں پر زیادتی ہوگی تو اس کے خلاف ہم سب ایک ہیں۔

ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تلخیاں بھلا کر فاروق ستّار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال سے فون پر رابطے میں ہیں۔ آفاق احمد کے مطابق اگر ایک پلیٹ فارم پر متحد نہ بھی ہوسکے تو کم از کم اس ایک نکتے پر تو جمع ہوجائیں کہ کوئی مشترکۂ حکمت عملی بنائیں۔ اس عمل میں سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا کردار اہم ہے۔ ان کے بقول متحدہ کے تمام لوگ ان سے رابطے میں ہیں اور ممکن ہے کہ عشرت العباد آگے چل کر اپنا کوئی کردار ادا کریں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم کے ماضی کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتوں سے متعلق ابتدا میں تو سوائے عشرت العباد اور فاروق ستّار کے تمام ہی کھلاڑی یہ تاثّر دیتے رہے کہ ان ملاقاتوں اور ہل جُل کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ نہیں۔ مگر اب تقریباً سب کے لہجوں میں آنے والی ‘نرمی’ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی سے راولپنڈی تک کوئی نہ کوئی تو آملیٹ سے واپس انڈا بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Back to top button