عمران خان اور کتنے ماہ جیل کی دیسی مرغیاں کھائے گا؟

توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزامعطلی اور ضمانت پر رہائی کے عدالتی حکم کے بعد بھی عمران خان کے جیل سے فوری باہر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ قیدی نمبر 804 کو ایک سے ڈیڑھ برس تک جیل میں ہی دیسی مرغیاں کھانی پڑسکتی ہیں۔ عام انتخابات سے پہلے عمران خان کی نا اہلی ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ دوسری جانب اگر ایف آئی اے نے سائفر کیس میں جلد چالان پیش کر دیا تو عمران خان کو کم از کم  سات برس قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ سزا کے خلاف اپیل کے فیصلے میں بھی ایک برس لگ سکتا ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق توشہ خانہ کیس میں سزا معطل اور ضمانت پر رہا کئے جانے کے فیصلے کے بعد منگل کے روز عمران خان کی رہائی عمل میں نہ آسکی۔ کیونکہ مقرر وقت پر ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے جاسکے تھے۔ تاہم اگر یہ مچلکے جمع کرا بھی دیئے جاتے تب بھی چیئر مین پی ٹی آئی کی رہائی کا امکان نہیں تھا۔ اس کا قانونی پہلویہ ہے کہ سائفرکیس میں وہ پہلے سے گرفتار ہیں۔خصوصی عدالت نے انہیں 30اگست تک اٹک جیل میں ہی رکھنے کاحکم دے رکھا تھا۔سائفر کیس کے جوڈیشل ریمانڈ کے علاوہ سانحہ 9مئی کے ایک کیس میں بھی عمران خان کی گرفتاری ڈالی جا چکی ہے ۔غرض یہ کہ جیل کا چکر عمران خان کے پاؤں میں پڑ چکا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے کیس میں ان کی گرفتاری کا پورا چارٹ تیار ہے۔ اسلام آباد میں موجود باخبر ذرائع کے بقول اس جیل چارٹ کے تحت کم از کم ایک سے ڈیڑھ برس تک عمران خان کی جیل سے رہائی ممکن نہیں۔

اس سلسلے میں سب سے سنگین سائفر کیس کا مقدمہ چلانے کی تیاری  اختتامی مراحل میں ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ سائفر کیس میں جلد ایف آئی اے کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا، جس کے بعد اس کیس کے باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہو جائے گا۔ اس عمل کے شروع ہونے میں ایک سے ڈیڑھ ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف اس قدر ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ان کا سزا سے بچنا مشکل ہوگا۔ جبکہ متوقع طور پر سزا بھی کم از کم سات برس تک کی سنائی جاسکتی ہے۔ طویل سزا کی صورت میں ان کو ضمانت دیئے جانے کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا، جیسا کہ تو شہ خانہ فوجداری کیس میں انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کیس میں ان کی سزا تین برس تھی اور قانونی طور پر تین برس کی سزا کو مختصر تصور کیا جاتا ہے اور مجرم کو عموما ضمانت مل جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ملک کی جیلوں میں ایسے سینکڑوں عام قیدی ہوں گے جن کے لئے یہ قانونی رعایت "حرام ہے۔ حتی کہ ایک برس کی سزا پانے والے کیپٹن (ر) صفدر کو بھی تین ماہ بعد ضمانت ملی تھی لیکن لاڈلے کی بات الگ ہے۔

باخبر ذرائع کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اگر کوئی انہونی نہیں ہو جاتی تو عمران خان کے جیل سے باہر آنے میں ایک سے ڈیڑھ برس لگ سکتے ہیں۔ اس کے لئے ان کے خلاف سائفر کے علاوہ القادر ٹرسٹ، وکیل قتل کیس اور سانحہ 9 مئی کے تحت درج متعدد مقدمات موجود ہیں۔ جبکہ دوسری طرف یہ امکان بھی معدوم ہے کہ چیئر مین پی ٹی آئی آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ اس کے لئے تو شہ خانہ فوجداری کیس میں ان کی نا اہلی کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ نا اہلی اس وقت ہی ختم ہوسکتی ہے، جب تو شہ خانہ فوجداری کیس میں سنائی جانے والی سزا کو عدالت ختم کر دے۔ اس کیس میں سنائی جانے والی سزا کو ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے صرف معطل کیا ہے۔ یعنی سزا اور نا اہلی اپنی جگہ موجود ہے۔ اگلا مرحلہ سزاکے خلاف اپیل کی سماعت کا ہے، جو پہلے ہائیکورٹ میں کی جائے گی۔ اگر ہائیکورٹ سزاکو برقرار رکھتا ہےتو معاملہ سپریم کورٹ میں چلا جائے گا۔ اس وقت تک سپریم کورٹ میں چیئر مین پی ٹی آئی کے ہمدرد تصور کئے جانیوالوں میں سےایک شخصیت ریٹائر ہوچکی ہوگی اور وہاں انھیں گڈ ٹو سی یو اورچوش یو گڈ لک کہنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ جس کی بناء پر انھیں سپریم کورٹ میں لاڈلے کی بجائے بطور مجرم ہی ٹریٹ کیا جائے گا۔ویسے بھی قانونی ماہرین کے بقول اپیل کے فیصلے میں کم ازکم ایک برس لگ سکتا ہے۔ چنانچہ ممکن دکھائی نہیں دے رہا کہ عام انتخابات تک اپیل کا فیصلہ ہوجائے۔ اس صورت میں چیئرمین پی ٹی آئی الیکشن سے باہر ہوجائیں گے۔ پی ٹی آئی کے اعلیٰ حلقوں تک رسائی رکھنے والے ذرائع اعتراف کرتے ہیں کہ خود عمران خان کے وکلا کو بھی ان زمینی حقائق کا ادراک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کے وکلا خاص طورپر لطیف کھوسہ کی کوشش تھی کہ کسی طرح سزا کالعدم کرالیں ۔ یعنی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ٹرائل کورٹ کے حکم کیخلاف فیصلہ لے لیا جائے۔لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔سزامحض معطل کی گئی۔یوں چیئر مین پی ٹی آئی کے لئے یہ ایک ایسی خوشی ہے جس نے ماتم کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ ان کی نہ جیل سے رہائی ممکن ہو سکی ہےاور نہ نا اہلی اور سزا ختم ہوئی۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کواپنی امیدوں کا مرکز بنالیا ہے ۔توشہ خانہ فوجداری کیس میں سنائی جانیوالی سزا معطل ہونے کے بعد عمران ایک ہی صورت میں ضمانت پر باہر آسکتے ہیں جب اسلام آباد ہائیکورٹ دیگر کیسز میں ان کی منسوخ ہونے والی ضمانتیں بحال کرنے کا حکم دیدے۔ ایسی کوشش کے تحت القادر ٹرسٹ اور سانحہ 9 مئی کی ہونے والی ضمانتوں کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ عدالت ان تمام مقدمات میں عمران خان کی  گرفتاری سے پولیس کو روک دے اور خارج کی جانے والی ضمانتوں پر دوبارہ فیصلہ کرنے کی ہدایت کی جائے۔اب دیکھنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ  اس سلسلے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کا اصرار ہے کہ فی الوقت ” قیدی بادشاہ کو مزید ایک سے ڈیڑھ برس تک جیل میں ہی دیسی مرغیاں اور دیسی گھی میں پکائے گئے بکرے کا گوشت تناول کرنا پڑے

بجٹ خسارے کا ہدف حاصل نہ ہونے کے خدشات

گا۔

Back to top button