صدر علوی اور چیف جسٹس میں سب سے زیادہ تنخواہ کی دوڑ کیوں؟

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان بال بال قرض میں ڈوبا ہے ملک بھر میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور کئی غریب مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کشی کر چکے ملک کے اعلی ترین عہدوں پر فائز دو عمرانڈو یعنی صدر مملکت عارف علوی اور چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے درمیان سب سے زیادہ سرکاری تنخواہ لینے کے دوڑ لگی ہوئی ہے. ایوان صدر کی جانب سے کابینہ سیکرٹری کو خط لکھ کر اس خواہش کا اظہار کیا گیاہے ان کی ماہانہ تنخواہ 8؍ لاکھ 46؍ ہزار 550؍ روپے سے بڑھا کر 12؍ لاکھ 29؍ ہزار 190؍ روپے کی جاۓ . اس طرح 3 لاکھ 82 ہزار 640 روپے کے اس اضافے سے صدر کی تنخواہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جولائی 2023ء میں مقرر کردہ تنخواہ 12؍ لاکھ 29؍ ہزار 189؍ روپے سے ایک روپے زیادہ ہو جاۓ گی. کیونکہ وفاقی قواعد کے مطابق صدر کا معاوضہ فیڈریشن کے امور کے سلسلے میں کسی بھی پبلک آفس ہولڈر کی تنخواہ سے علامتی طور پر ایک روپیہ زیادہ ہونہ ضروری ہے. سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر عارف علوی چاہتے ہیں کہ ان کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔ سرکاری دستاویزات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ صدر مملکت نے تنخواہ میں دو اضافے مانگے ہیں جن میں سے پہلے کا اطلاق یکم جولائی 2021ء سے ہونا چاہئے جبکہ دوسرے اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2023ء سے ہونا چاہئے۔ فی الوقت صدر کی ماہانہ تنخواہ 8؍ لاکھ 46؍ ہزار 550؍ روپے ہے جس میں وہ دو مراحل کا اضافہ چاہتے ہیں جس کے تحت جولائی 2021ء سے ان کی تنخواہ 10؍ لاکھ 24؍ ہزار 325؍ روپے جبکہ جولائی 2023ء سے ان کی تنخواہ 12؍ لاکھ 29؍ ہزار 190؍ روپے ہو جائے گی۔ اگست کے ابتدائی دنوں میں اپنے ملٹری سیکریٹری کے ذریعے کابینہ سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں صدارتی سیکریٹریٹ نے صدر کی تنخواہ، الائونس اور مراعات کے ترمیمی ایکٹ 2018ء کے چوتھے شیڈول میں ترمیم کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ یکم جولائی 2021ء سے صدر مملکت کی تنخواہ 10؍ لاکھ 24؍ ہزار 325؍ روپے جبکہ یکم جولائی 2023ء سے 12؍ لاکھ 29؍ ہزار 190؍ روپے ہو جائے۔ خط کے مطابق، ’’صدر کی تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات (ترمیمی) ایکٹ 2018 کے پیرا 3 (2) کی روشنی اور گزٹ نوٹیفکیشن (حصہ اول) کے مطابق، صدر کا معاوضہ فیڈریشن کے امور کے سلسلے میں کسی بھی پبلک آفس ہولڈر کی تنخواہ سے علامتی طور پر ایک روپیہ زیادہ ہوگی۔ 2018 میں صدر کی ماہانہ تنخواہ 8؍ لاکھ 46؍ ہزار 550؍ روپے مقرر کی گئی تھی، اور فورتھ شیڈول میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ پبلک آفس ہولڈر کی حیثیت سے چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ صدارتی آرڈر کے ذریعے گزشتہ دو سال کے دوران دو مرتبہ بڑھائی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ یکم جولائی 2021ء سے 10؍ لاکھ 24؍ ہزار 324؍ روپے جبکہ یکم جولائی 2023ء سے 12؍ لاکھ 29؍ ہزار 189؍ روپےمقرر ہوئی۔مگر صدر کی تنخواہ طے شدہ اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑھائی نہیں گئی۔‘‘ ان حقائق کی روشنی میں ایوانِ صدر نے فورتھ شیڈول میں ترمیم کی خواہش ظاہر کی ہے۔ کابینہ ڈویژن نے معاملہ وزارت قانون کو بھیج دیا جس نے 18؍ اگست کو کابینہ ڈویژن کو تجویز دی کہ صدر کی تنخواہ میں اضافے کیلئے کام شروع کیا جائے۔ وزارت قانون کا کہنا تھا کہ اسی ایکٹ کی شق 3(2) کی روشنی میں وفاقی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ شیڈول میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ترمیم کر دے اور صدر کی تنخواہ میں نظرثانی کی خاطر فورتھ شیڈول میں ترمیم کیلئے ترمیمی ایکٹ لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ معاملہ فنانس ڈویژن کو بھی بھیجا گیا تھا جس نے 22؍ اگست کو صدر کی تنخواہ میں مجوزہ اضافے کی حمایت کی۔ اب یہ معاملہ منظوری کیلئے کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔ اس طرح صدر مملکت کو نہ صرف تنخواہ میں مطلوبہ اضافہ ملے گا بلکہ انہیں بھاری بھر کم بقایہ جات بھی ملیں گی کیونکہ ان کی تنخواہ میں دو سطح پر اضافہ کیا گیا ہے جو بالترتیب یکم جولائی 2021ء سے اور پھر یکم جولائی 2023ء سےہوگا۔ یاد رہے کہ 9ستمبر کو بطور صدر عارف علوی کے پانچ سال پورے ہو جائیں گے آئین کی رُو سے وہ پانچ سالہ عہدِ صدارت پورا کر کے بھی اُس دن تک اپنے عہدے پر قائم رہیں گے جب تک نئی اسمبلیاں نیا صدر منتخب نہیں کرلیتیں۔رہا استعفیٰ تو اس کیلئے احساس اور روشن ضمیر کی ضرورت ہوتی ہے اور عمرانڈو صدر یہ تکلفات بہت دور چھوڑ آئے ہیں. دوسری طرف چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی ستمبر کے تیسرے ہفتے میں ریٹائر ہو رہے ہیں مگر ملک کے الی ترین عہدوں پر فائز دونوں عمرانڈو چاہتے ہیں کہ جاتے جاتے وہ عوام کے پیسوں سے زیادہ سے زیادہ عیاشی کا بدوبست کرتے جائیں.
